پیپلزپارٹی کا بھی 90 دن کے اندر انتخابات کا تقاضا

پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ الیکشن ہم نے نہیں کرانے مگر عام انتخابات میں تاخیر ہمیں قابل قبول نہیں۔ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ انتخابات مقررہ 90 روز میں ہونے چاہئیں۔ اس حوالے سے پیپلزپارٹی کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ گزشتہ روز پیپلزپارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ الیکشن اگر 90 دن سے آگے جاتے ہیں تو ملک میں بحرانی کیفیت پیدا ہو جائیگی۔ بریفنگ کے دوران سابق وزیراعلیٰ سندھ سید مرادعلی شاہ اور پیپلزپارٹی کے عہدیداران قمرالزمان کائرہ،  شازیہ مری اور شرجیل میمن بھی انکے ہمراہ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سب سے پہلے مہنگائی‘ بے روزگاری اور بجلی‘ گیس کے بلوں پر بات ہوئی اور پھر سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لیاگیا جبکہ اجلاس میں عام انتخابات کے مقررہ آئینی مدت میں انعقاد کا بھی جائزہ لیا گیا۔ انکے بقول آئین کے مطابق اسمبلی کی قبل از وقت تحلیل کی صورت میں انتخابات کیلئے 90 دن مختص ہیں۔ اسکے مطابق الیکشن ہونے چاہئیں اور انتخابات میں بلاوجہ تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس اب لاہور میں ہوگا جس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائیگا۔ 
شہری رحمان نے نئی مردم شماری پر پیپلزپارٹی کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ متنازعہ مردم شماری ہوئی ہے۔ ہمارے قول و فعل میں تضاد تھا نہ اب ہے۔ جب نئی مردم شماری سے اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ نہیں ہونا تو پھر نئی حلقہ بندیوں کی بھی ضرورت نہیں۔ اس لئے نئی حلقہ بندیوں کے جواز کے تحت انتخابات ملتوی نہیں ہونے چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اجلاس میں بغیر کسی شکوک و شبہات کے ہر ممبر نے رائے دی کہ انتخابات میں تاخیر کا کوئی جواز نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ کیئر ٹیکر حکومت چیئر ٹیکر حکومت بن جائے۔ نگران حکومت کی صوابدید نہیں کہ وہ آئین میں ردوبدل کرسکے۔ 
پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیرصدارت منعقد ہونیوالے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں جس میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے صدر آصف علی زرداری بھی شریک تھے‘ انتخابات کے معاملہ پر بطور خاص گفتگو ہوئی اور پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ پیپلزپارٹی انتخابات 90 روز میں کرانے کا ٹھوس موقف اختیار کرے۔ اس حوالے سے بیرسٹر اعتزاز احسن نے 90 روز میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق قانونی دلائل بھی سامنے رکھے۔ اجلاس میں آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا گیا۔ 
اس حقیقت سے انکار تو ممکن نہیں کہ مشترکہ اقتدار کا حصہ بننے والے سابق اپوزیشن اتحاد میں شامل اور اس  سے باہر کی جماعتوں کی اب اپنی اپنی انتخابی حکمت عملی ہوگی اور کوئی پارٹی پی ڈی ایم کے کسی سابقہ فیصلے کی پابند نہیں ہوگی۔ اس تناظر میں اب پی ڈی ایم کا عملی طور پر وجود باقی نہیں رہا۔ اس لئے اسے انتخابی اتحاد کے قالب میں ڈھالنا بھی اب ممکن نہیں رہا۔ اس اتحاد میں شامل یا اس سے باہر جماعتیں اپنے طور پر ضرور کوئی مشترکہ انتخابی حکمت عملی طے کر سکتی ہیں اور کوئی نیا انتخابی اتحاد بھی تشکیل پا سکتا ہے جبکہ انتخابات میں سابق حکومتی اتحادی جماعتوں کا ایک دوسرے کے مدمقابل آنا بھی بعیداز قیاس نہیں۔ پیپلزپارٹی تو اتحادی حکومت کا حصہ بننے سے بھی ایک سال پہلے پی ڈی ایم سے باہر نکل گئی تھی اور وہ قومی سیاست میں اتحادی سیاست کے بجائے اپنے پارٹی موقف کو ہی ساتھ لے کر چلتی رہی تاہم سابق وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے اور پی ٹی آئی حکومت کے اس تحریک کی بنیاد پر خاتمے میں اہم اور بنیادی کردار پیپلزپارٹی کے قائد آصف علی زرداری کا ہی رہا ہے جبکہ اتحادی جماعتوں کی مشترکہ حکومت میں پالیسی معاملات سمیت غالب کردار بھی پیپلزپارٹی کا تھا۔ اس حکومت کے آغاز ہی میں وزیراعظم شہبازشریف نے میاں نوازشریف سے مشاورت کرکے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم پیپلزپارٹی کی قیادت نے مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو مستقبل کی ممکنہ حکمت عملی کے تحت اتحادی اقتدار برقرار رکھنے پر قائل کیا اور تمام حکومتی فیصلے پیپلزپارٹی کی مشاورت سے ہی ہوتے رہے۔ اب پیپلزپارٹی کی جانب سے جس نئی مردم شماری کو متنازعہ قرار دیا جارہا ہے‘ اسکی توثیق چاروں صوبوں کی نمائندگی رکھنے والی مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں متفقہ طور پر کی گئی تھی جس میں اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی شریک تھے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی کی قیادت کے مشورے کے بغیر تو نئی مردم شماری کی توثیق کے حق میں ووٹ نہیں دیا ہوگا۔ 
جب پیپلزپارٹی ہی کی مشاورت سے عام انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر نئی حلقہ بندیوں کے ساتھ کرانے کا فیصلہ کیا گیا تو اب پیپلزپارٹی کی جانب سے اس پر تحفظات کا اظہار چہ معنی دارد؟ بے شک آئین الیکشن کمیشن کو پابند کرتا ہے کہ وہ نئی مردم شماری کی توثیق کے بعد انتخابات کا انعقاد نئی حلقہ بندیوں  کے تحت کریگا جس کیلئے الیکشن کمیشن کو چار ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے چنانچہ نگران سیٹ اپ کی تشکیل کے فوری بعد الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کا شیڈول جاری کرکے اس پر کام کا آغاز کر دیا گیا جس پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا سلسلہ بھی الیکشن کمیشن نے جاری رکھا ہوا ہے۔ 
یہ طے شدہ امر ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کا عمل شروع ہونے کے باعث عام انتخابات کا 90 دن کے اندر انعقاد عملاً ممکن ہی نہیں اور اس سلسلہ میں چیف الیکشن کمشنر کو صدر عارف علوی کی جانب سے لکھے گئے خط کا چیف الیکشن کمشنر نے مفصل جواب بھی دے دیا ہے جس میں نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قبل ازوقت تحلیل ہونیوالی قومی یا صوبائی اسمبلی کے 90 دن کے اندر انتخابات کا انعقاد لازمی آئینی تقاضا ہے جو پنجاب اور خیبر پی کے اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد بھی درپیش ہوا تھا اور چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے اس کیلئے فیصلہ بھی صادر کردیا مگر ادارہ جاتی محاذآرائی میں ان اسمبلیوں کے انتخابات کا آئینی تقاضا پورا نہ ہو سکا۔ اس وقت حکومتی اتحادی پیپلزپارٹی بھی متذکرہ اسمبلیوں کے انتخابات لٹکانے اور انتخابی و عدالتی اصلاحات کے قوانین میں ترامیم منظور کرانے میں پیش پیش تھی جبکہ اب اسکی جانب سے نئی حلقہ بندیوں پر تحفظات کا اظہار کرکے 90 دن کے اندر عام انتخابات کا تقاضا کیا جارہا ہے جو ہماری سیاست میں موجود تضادات کا شاہکار ہے۔ 
پیپلزپارٹی کو بے شک اپنے پلیٹ فارم پر انتخابی حکمت عملی طے کرنے کا پورا حق ہے اور یہی حق دوسری جماعتوں کو بھی حاصل ہے تاہم اس موقع پر جبکہ نئی حلقہ بندیوں پر کام شروع بھی ہو چکا ہے‘ 90 دن کے اندر انتخابات پر اصرار آئینی تنازعات کا نیا پنڈورا بکس کھولنے کے مترادف ہوگا۔ جس سے سسٹم میں مزید بگاڑ پیدا ہونے کا اندیشہ بہرحال لاحق رہے گا۔