امن پسند سدھو دہشت گرد بھارتیوں کے نشانے پر!!

Aug 27, 2018

حافظ محمد عمران

اسپورٹس لائن… حافظ محمد عمران

بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کی تقریب حلف برداری شرکت کیا کی بھارت میں طوفان آ گیا۔ وہ بھارتی جو پاکستان پر تنگ نظری اور دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات لگاتے ہیں وہ بھارتی میڈیا جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا راگ الاپتے نہیں تھکتا وہ لکھاری اور تجزیہ نگار جو خود کو سب سے بڑا غیر جانبدار کہتے اور سمجھتے ہیں انکی ناصرف جانبداری کھل کر سامنے آئی بلکہ بھارتی میڈیا کی نوجوت سنگھ سدھو کے خلاف مہم نے یہ ثابت کیا ہے کہ بھارت کے اندر ایسے عناصر موجود ہیں جو امن عمل کے سب سے بڑے مخالف ہیں۔ ایسے عناصر جو دنیا کے سامنے پاکستان کو امن کا دشمن ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں وہ خود امن کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ سدھو کو بھارت کا غدار قرار دیا جا رہا ہے۔ وہ حلف براداری کی تقریب میں چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ سے بھی ملے سپہ سالار نے جس محبت کے ساتھ انہیں ویلکم۔کیا اس نے دہشت گرد بھارتیوں کے تن بدن میں آگ لگا دی کیا ہمارے سپہ سالار نے کرتارپور کا راستہ کھولنے کی بات کر کے دہشت گردی کو فروغ دیا ہے یا دہشت گردوں کی حمایت کی ہے، کیا ہمارے سپہ سالار کی بھارتی مہمان سے ہونیوالی گفتگو سے امن عمل آگے بڑھ سکتا ہے یا اسکو ریورس گئیر لگتا ہے، کیا ہمارے سالار اعظم کیطرف سے کھلے دل کے ساتھ بھارتیوں کو خوش آمدید کہنے سے امن عمل کو دھچکا لگ سکتا ہے یا پھر یہ عمل تیزی سے آگے بڑھ سکتا اور دونوں ممالک بامقصد بات چیت کی طرف آگے بڑھ سکتے ہیں اگر ہمارے وزیر اعظم اور سالار اعظم کے اقدامات سے امن عمل میں بہتری آ سکتی ہے تو سرحد پار سے وہ کون سے عناصر ہیں جو اس مشق کے خلاف ہیں۔ وہ کون ہیں جو ہمارے بارے میں منفی مہم دنیا کے سامنے چلاتے ہیں اور خود اپنے ایک نمایاں شخص کی پاکستان آمد پر اسے غدار قرار دیتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے ہمیشہ امن عمل کو آگے بڑھایا اور اسکی حمایت کی ہے۔ یہ بھارت ہی ہے جسکی طرف سے ہمیشہ امن کوششوں کو سبوتاژ کیا گیا ہے۔

دنیا خود دیکھے گذشتہ کچھ عرصے میں کتنے پاکستانیوں کو بھارت میں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت سے روکا گیا ہے ہاکی جونئیر ورلڈکپ میں شرکت کے لیے پاکستانی ٹیم کو ویزے جاری نہیں کیے گئے۔ پاکستانی پہلوان، کبڈی کے کھلاڑی، اسکواش ٹیمیں اور کتنے ہی ایسے کھیل ہیں جن میں ہمارے کھلاڑیوں کو شرکت کے لیے بھارتی ویزے جاری نہیں کیے گئے۔ یہ کیسا جمہوری ملک ہے جو کھلاڑیوں کو بھی اپنے ملک آنے سے روکتا ہے۔ وہ کھلاڑی جنہیں امن کا سفیر کہا جاتا ہے، وہ کھلاڑی جو فاصلوں کو مٹاتے ہیں، وہ کھلاڑی جو پیار کی بات کرتے ہیں، وہ کھلاڑی جو امن کے پیامبر ہیں، وہ کھلاڑی جو بند راستوں کو کھولنے کا سبب بنتے ہیں، وہ کھلاڑی جنہیں دنیا کا ہر ملک خوش آمدید کہتا ہے بھارت والے تو ان امن کے سفیروں کو بھی اپنے ملک آنے سے روکتے ہیں پھر بھی وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتے ہیں اور پاکستان کو امن دشمن قرار دینے کا بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ دنیا خود فیصلہ کرے کہ حقیقی طور پر امن دشمن کون ہے۔

پاکستان کے ساتھ باہمی کرکٹ سیریز سے راہ فرار کون اختیار کر رہا ہے۔ کتنے برس ہوئے ہوئے ہیں بھارت کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے ساتھ میچز نہیں کھیلے بی سی سی آئی کا ہر سربراہ یہ کہتا ہے کہ ہمیں حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ہے۔ ماضی قریب میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان باہمی کرکٹ سیریز کے لیے بات چیت کرنے بھارت گئے تو انتہا پسندوں نے بی سی سی آئی کے صدر دفتر پر بھی دھاوا بول دیا تھا۔ یہ دوہرا معیار بھارت کی طرف سے روا رکھا گیا ہے۔ پھر بھی ہمیں ہر فورم پر امن دشمن کہا جاتا ہے۔

نوجوت سنگھ سدھو کھلے دل کے ساتھ پاکستان آئے انہیں انکے دوست عمران خان نے تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی تھی تقریب میں شرکت کے بعد وہ خریداری کے لیے بھی گئے مسکراتے ہوئے وطن واپس گئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں انہیں بہت عزت ملی ہے عمران خان نے انہیں عزت کے ساتھ دعوت دی ،وہ دوبارہ عزت کے ساتھ بلائیں گے ایک نہیں ہزار بار پاکستان جاونگا۔ ملک کے سب سے بڑے وزیر عمران خان نے نوجوت سنگھ سدھو کی آمد پر انکا شکریہ ادا کرتے ہوئے انکے خلاف اقدامات کرنیوالوں کو امن کا مخالف قرار دیا ہے۔ عمران خان نے سنیل گواسکر اور کپل دیو کو بھی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی وہ دونوں شریک نہیں ہو سکے وہ آتے تو یقینا انکے ساتھ بھی بھارت کے دہشت گرد وہی سلوک کرتے جو سدھو کے ساتھ کیا گیا ہے۔

نوجوت سنگھ سدھو کو دعوت دیکر ہم نے ثابت کیا ہے کہ ہم امن پسند ہیں، امن چاہتے ہیں، امن کے خواہش مند ہیں، امن کو فروغ دینا چاہتے ہیں، ہم امن اور پھولوں کے سوداگر ہیں لیکن اپنے کشمیری بھائیوں کے خون پر ہم امن کا جشن نہیں منا سکتے۔ ہمارے وزیراعظم اور سالار اعظم نے اس امن عمل کا مثبت آغاز کیا ہے گیند اب بھارت کے کورٹ میں ہے دیکھتے ہیں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار اور امن کے نام نہاد عالمی چیمپئن ہمارے ہمسائے اسکا جواب کیسے دیتے ہیں۔

مزیدخبریں