اے نوجوان پاکستان …

27 اگست 2009
مکرمی، پاکستان میں ایک وہ نسل ہے جس نے تحریک پاکستان میں حصہ لیا، قربانیاں دیں غلامی سے آزادی کی نعمت کی قدر کو جانا۔ دوسری نسل وہ ہے جو آزاد ملک میں پیدا ہوئی آزاد فضا میں سانس لیا۔ غلامی سے آزادی کی نعمت سے انجان۔ تحریک آزادی کے قائدین کو ماضی سمجھتے ہوئے فراموش کرنے والی نسل، الغرض اس ملک کی پاک آزاد فضا اس کو راس نہیں آتی۔ اس کو مزید جنگل کے قانون والی آزادی چاہئے کس طرف آسماں اور کس طرف زمین ہے کچھ خبر نہیں۔ ہم سوچتے ہی رہ گئے دشمن نے اپنا وار کر ڈالا نئی نسل بے راہ روی میں اتنے آگے نکل گئی کہ وہ اپنے قائدین قائداعظم اور علامہ اقبال کو بھی فراموش کر گئی۔ نئی نسل کو کیا پتہ کہ علامہ اقبال ہمیں شاہین دیکھنے کے متمنی تھے۔ اقبال ہمیں دیارغیر میں اپنا مقام پیدا کرنے کی تلقین کرتے تھے مگر افسوس ہمارے نوجوان نے علامہ اقبال کے تصور کے برخلاف گیسوں میں رہنا پسند کیا۔ دیار غیر میں اپنا مقام پیدا کرنے کی بجائے سات سمندر پار بھی پیدا گیری میں لگے اور اقبال نے خودی نہ بیچنے کی بات کی تھی مگر افسوس رونا تو یہ ہے کہ ہم نے کچھ چھوڑا ہی نہیں۔ اپنا سب کچھ نیلام کر دیا اے قائد ہم تم سے شرمندہ ہیں آنکھ ملانے کے قابل نہیں (اے نوجوان تیرے سینے میں اگر دم ہے تو سن) اقبال نے ہمارے لئے خدا سے بال و پر مانگے (مگر اے نادان) جب خدا نے تجھے بال و پر عطا کئے مگر تو اپنے قائدین کو پہچاننے سے انکار کر بیٹھا۔ شمع بننے کی بجائے چراغ تلے اندھیر کی مثال بن گئے۔ لامکان ہونے کی بجائے سرے محل کو اپنا مقام مقرر کر ڈالا۔ تم اس پر بھی باز نہ آئے اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہوئے اپنے قائد کی ذات پر پتھر برسانے میں دشمن سے بھی آگے نکل گئے۔ اپنوں کو چھوڑ کر بھارت کی جمہوریت سیکولرازم روشن خیال کی اہمیت کے گیت الاپنے والے تو ذرا بھارت جنتا پارٹی کے سینئر رہنما جسونت سنگھ کے حشر سے کچھ سبق حاصل کر (اے روشن خیال نوجوان) تیرے اس قائد نے راتوں کو جاگ جاگ کر ہماری آزادی کے لئے اپنا جگر خون جلایا ہے سخت سردی کے موسم میں شدید بیماری کے دوران چند سکوں کے گرم موزے خریدنے سے انکار کرتا ہے اس خیال سے کہیں اس کی ذات پر یہ خرچ صرف چند سکے اس کی زخمی بے بس لاچار عوام کے لئے بوجھ نہ بن جائے مگر صد افسوس تم غیروں کی باتوں میں آ کر اس کی کاوشوں کا مذاق اڑانے لگے۔ تقسیم ہند کو ظلم سے تشبیہہ دینے لگے آزادی کی خاطر جان کی قربانیوں کو بے وقوفی قرار دینے لگے مگر ایک بار قدرت تجھ پر مہربان ہے۔ تجھے اپنے ماضی کو جاننے کے لئے اپنا سر کتابوں میں کھپانے کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ ہندو بنیے کی ذہنی کیفیت اور سوچ کا بغیر مطالعہ کئے قدرت خود دشمن سے حقائق اس کی زبان سے اگلوا رہی ہے۔ بلاشبہ حقائق بالآخر بے نقاب ہو کر رہتے ہیں اب تو غیر بھی دشمن بھی تیرے قائد کے عظیم کردار عقل اور ذہنیت دور اندیشی کو خراج عقیدت پیش کر رہا ہے۔ دو قومی نظریہ کی وضاحت خود کر رہا ہے۔ قیام پاکستان کی اصل وجوہات خود اپنی زبان سے انکشاف کر رہا ہے (کیا پاکستانی نوجوان) تجھے اب بھی اپنے اسلاف پر شک ہے۔ بلاشبہ تو نے اپنی کم عقل تیز مطالعہ سے دوری کی وجہ سے چوٹ کھائی ہے مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ دیکھ تو سہی خدا تجھ پر کتنا مہربان ہے کہ تیرے دشمن کی زبان سے رویوں سے تیری نظروں کے سامنے حقیقت پر سے پیروں چاک کر رہا ہے کیونکہ تیرے خدا کو تجھے مصفا بنانا مقصود ہے۔ تیری سربلندی منظور ہے۔ بس اب دیر کس بات کی ہے تو بھی اپنے خدا کی خوشی میں راضی ہو جا۔ اپنی گردن کو اس کے سجدے میں پیش کر دے آنسوؤں کی ندامت کی لڑی اس کے حضور پیش کر دے پھر ایک نئے جذبے نئے عزم سے اپنے ملک کی سربلندی کے لئے تیار ہو جا کیونکہ یہ ہی تیری اصل ذمہ داری ہے جس سے تو ماضی میں غافل رہا۔(نیر صدف دھرمپورہ لاہور 0300-4419216)