قتلِ عشاق میں اَب عُذر ہے کیا؟ بسمِ اللہ!

27 اگست 2009
زندگی انسان کے لئے قدم قدم پر ’مواقع‘ مہیا کرتی چلی جاتی ہے‘ لیکن انسان‘ زندگی کے تسلسل کی بقا کے لئے اُسے کوئی ’موقع‘ دینے کے لئے تیار نہیں! انسان‘ اس ’کرۂ ارض پر زندگی کی بقا‘ کے لئے کوئی ماحول دوست قدم اُٹھانے کے لئے تیار نہیں‘ اِس کرۂ ارض پر ’آتش و آہن کا جہنم‘ کا منظر پیدا کرنے والے ہاتھ روکنے پر تیار نہیں! کیونکہ انسان صرف ’مواقع‘ چاہتا ہے اور اُن سے بیش از بیش فائدے اُٹھاتے چلے جانا چاہتا ہے! اُس کے بعد اِس ’کرۂ ارض‘ کا کیا بنے گا؟ یہ ’زندگی کا عمل‘ جاری رہ سکے گا؟ یہ زندگی ’ناقابلِ بقا‘ حالات میں قدم رکھ چکی ہو گی؟ اُسے اِس قسم کے سوالات سے کبھی کوئی غرض نہیں رہی!
زندگی ہمارا دامن کبھی خالی نہیں کرتی‘ کوئی ’مشرف بچائو تحریک‘ جیسی ’نازک اندام‘ بلکہ ’عدم دستیاب پارٹی‘ دم دے جائے تو اُس کی جگہ ’پاکستان پیپلز پارٹی‘ جیسی توانا اور مقبولِ خاص و عام بلکہ ’عوامی پارٹی‘ کھڑی کر دیتی ہے!
’چھوڑو یار! یہ روز روز کی دانتا کِل کِل!‘ جناب نجیب احمد نے گاڑی ایک طرف لگاتے ہوئے فرمایا اور گاڑی کے قریب پہنچنے والے پہلے بیرے سے جلد از جلد ’سندھی چکن بریانی‘ کی دو پلیٹیں لانے کے لئے کہا‘ ہم نے پہلا چمچہ ہی لیا تھا کہ ہمیں علم ہو گیا کہ یہ نوجوان ’سندھی چکن بریانی‘ والوں کا ’ہاکر‘ نہیں تھا کیونکہ یہ ’بریانی‘ تو ’پلائو‘ بھی نہیں لگ رہی تھی!
یار! یہ چکن بریانی ہے؟ جناب نجیب احمد نے نوجوان کو اپنی طرف دیکھتے‘ پکڑ لیا تھا‘ ’اس میں ’چکن‘ کہاں ہے؟‘ خلافِ معمول جناب نجیب احمد نے بہت رسان سے پوچھا اور نوجوان نے بھی اُسی ’رسان‘ سے پوچھا‘ ’آپ رات دو بجے چکن بریانی میں چکن تلاش کر رہے ہیں؟ آپ نے کبھی دن دیہاڑے گلاب جامن میں ’گلاب‘ یا ’جامن‘ تلاش کیا ہے؟‘
ہم سوچ رہے تھے کہ یہ ’مالک‘۔ ’ہاکر‘ کی طرح آوازیں لگا لگا کر کیا بیچ رہا ہے؟ یہ تو اپنے ’گاہک‘ کو بھی دوبارہ اپنی ’دکان‘ کا رُخ کرنے کا ’موقع‘ نہیں دے رہا! یہ ’زندگی‘ کے لئے کوئی ’موقع‘ کیونکر مہیا کر سکتا ہے؟
’رمضان المبارک‘ میں ’تاجروں‘ کی بن آئی اور رمضان آنے سے پہلے پہلے ہر شے ’آسمانی قیمتوں‘ پر بیچ لینے کے بعد اب رہی سہی ’کسر‘ 30 روپے کی چیز 60 روپے کی جگہ محض 45 روپے میں بیچ کر پوری کر رہے ہیں!
سر آرتھر کارلائل نے شاید اسی تناظر میں کہا تھا‘ ’بازار سامانِ تجارت سے بھرے ہونے چاہئیں؟ بازاروں میں خریداروں کی ریل پیل ہونا چاہئے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ حکومت ’تاجروں‘ کے حوالے کر دی جائے!‘
اور دنیا بھر کی حکومتیں ’تاجروں‘ کے ہاتھوں میں آ گئیں! یہ اسلحہ کے تاجر بھی ہیں اور اشیائے ضروریہ کے بھی اور ’اشیائے ضروریہ‘ کی فہرست میں پہلی چیز ’ہتھیار‘ ہوتی ہے! آٹا‘ چاول‘ چینی تو چھینے بھی جا سکتے ہیں!
تیرہ تیرہ سال کے لڑکوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دینے والے ’ہتھیارے تاجر‘ ’قاتل لیگ‘ سے کہیں زیادہ موثر ہیں‘ ’قاتل‘ صرف سوچ کے رہ جاتے ہیں؟ ’تاجر‘ اُن کے ہاتھ میں ’آلۂ قتل‘ بھی تھما دیتے ہیں! اور کام آسان ہو جاتا ہے!
پاکستان اور پاکستانی عوام ’تاجروں‘ ’TRADERS‘ کے ہتھے چڑھ گئے ہیں اور؎
قتلِ عشاق میں اب عُذر ہے کیا؟ بسمِ اللہ!
سب گنہگار ہیں راضی بہ رضا! بسمِ اللہ!
مگر‘ ماضی کے ایوانوں میں ایک صدا آج بھی گونج رہی ہے:
’آپ سب کے لئے میرا پیغام‘ اُمید‘ حوصلے اور اعتماد کا پیغام ہے! آئیں! ہم سب اپنے تمام وسائل سے ایک منظم اور منضبط انداز میں استفادہ کریں اور درپیش ’گراں تر مسائل‘ کا سامنا ایک عظیم قوم کے عزمِ صمیم اور نظم و ضبط کے ساتھ کریں!‘
اگر ہماری ’تاجر پیشگی‘ کے لمبے لمبے کانوں تک یہ آواز پہنچ بھی جائے تو کیا ’وہ‘ یہ آواز پہچان لیں گے؟ کہ یہ الفاظ اُسی شخصیت کے ہیں‘ جس کی قیادت میں ایک قوم ایک ملک کی تلاش میں نکلی تھی! اور آج وہ ملک اپنی قوم کی تلاش میں اِدھر اُدھر دیکھ رہا ہے شاید وہ ملک نہیں جانتا کہ اُس کی ’قوم‘ تاجر ہو چکی ہے اور ’تاجروں کی قوم‘ کبھی ’خوشحال‘ نہیں ہو پاتی کیونکہ ’تاجر‘ ہر چیز بیچ دیتے ہیں! گھوڑے بھی‘ تلواریں بھی بس ’منافع‘ کا تناسب ’درست‘ ہونا چاہئے!
ہمارے سوچنے کی بات صرف یہ ہے کہ ’اسلام آباد‘ کب تک ’تہران‘ کا کردار ادا کر سکے گا؟ یاد رہے ’تہران‘ پر ’رضا شاہ پہلوی‘ کا اقتدار تھا! ہمیں کس طرف دھکیلا جا رہا ہے؟ یہ آج سوچنے کی بات ہے؟ یا‘ ہم تک ’خبر‘ دیر سے پہنچائی جا رہی ہے؟ کیا خبر جناب پرویز مشرف یہ ’معاملہ‘ بھی طے کر کے ملک سے باہر گئے ہوں؟ کیا خبر؟