زکوٰۃِ دل و جاں

27 اگست 2009
مجھے شوکت خانم کینسر ہسپتال سے خواجہ نذیر نے فون کیا کہ شوکت خانم کے لئے زکٰوۃ دو میں حیران رہ گیا۔ خواجہ صاحب اچھے آدمی ہیں۔ شوکت خانم کے لئے ان کی خدمات بہت ہیں عمران خان کے سیاست میں جانے کے باوجود یہ ہسپتال چل رہا ہے۔ جس طرح ہم موٹروے پر جاتے ہی محسوس کرتے ہیں کہ ہم کسی اور ملک میں ہیں۔ شوکت خانم میں جا کے بھی یہی احساس ہوتا ہے۔ وہاں میرے عزیز فرخ عزیز خان بھی ہیں۔ ان سے شوکت خانم میں مل کر لگتا ہے کہ وہ کسی اور ملک کے رہنے والے ہیں۔ بہت محنتی اور معتمد آدمی ہیں۔ خواجہ نذیر میری طرح پینڈو ہے اور محبت والا ہے۔ مگر اس نے کیسے جان لیا کہ مجھ پر زکوٰۃ واجب ہے۔ میں ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہوں جو زکٰوۃ دینے والوں اور زکٰوۃ لینے والوں میں سے نہیں مجھے وہ لوگ اچھے لگتے ہیں جو نہ امیر ہوتے ہیں نہ غریب ہوتے ہیں۔ میرے آقا و مولا رسول کریمؐ نے فرمایا کہ زکٰوۃ نہ دینے والا زکٰوۃ دینے والے سے اچھا ہے۔ صحابہؓ حیران ہوئے کہ یہ کیا راز ہے۔ حضورؐ نے فرمایا کہ کسی آدمی کے پاس اتنے پیسے ہی نہ ہوں کہ اس پر زکوٰۃ واجب ہو۔ کیسی معاشرت تھی کہ مدینے کی گلیوں میں لوگ زکوٰۃ لے کے پھرتے تھے اور کوئی زکوٰۃ لینے والا نہ ہوتا تھا۔ جس معاشرے میں کوئی غریب نہ ہو وہ اچھا ہے اور جہاں امیر نہ ہوں وہ تو بہت ہی اچھا ہے۔ اتنا مال جمع ہی نہ ہونے دیں کہ وہ دینے والوں میں سے ہو جائے اور ایسا بھی نہ ہو کہ وہ زکٰوۃ لینے کی پوزیشن میں چلا جائے۔ اسی لئے میں نے کہا تھا کہ اے حکمرانو تم غریبی ختم نہ کرو اور تم ختم کر ہی نہیں سکتے صرف وعدہ کر سکتے ہو اور یہ وعدہ جھوٹا وعدہ ہوتا ہے۔ تم امیری ختم کرو۔ غریبی خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اب معاشرے میں ویلفیئر کا کام کرنے والے کچھ لوگ آ گئے ہیں ان کاموں کے لئے زکوٰۃ ضروری ہے۔ خواجہ نذیر نے کیا اچھی بات کی کہ آپ کی زکٰوۃ یہ ہے کہ پ ہمارے لئے کالم لکھیں میں اپنے لفظ و خیال غریبوں اور مریضوں کی نذر کرتا ہوں۔ جان و دل کی زکوٰۃ بھی ہوتی ہے۔ زکوٰۃ اداروں کے لئے بہت مناسب ہو تو شوکت خانم میں کروڑوں روپے لوگوں کے مفت علاج پر خرچ ہوتے ہیں کوئی آدمی یہ خطیر رقم اپنی جیب سے خرچ نہیں کر سکتا۔ زکٰوۃ بڑی ضروری ہے۔
عمران خان کو مانگنے کا طریقہ آ گیا ہے۔ اتنا چندہ اس نے پوری دنیا میں گھوم کر اکٹھا کیا کہ دل جھوم اٹھا۔ ہمارے ایک دوست نے عمران خان کو چندہ ماموں کہہ دیا تھا۔ میں نے فنڈ ریزنگ مہم میں کئی شہروں کا سفر اس کے ساتھ کیا وہ ایک دعا لارڈ سپیکر پر مانگا کرتا تھا۔ اے خدا مجھے بزدلی اور کنجوسی سے بچا۔ یہ دعا اس کے اپنے لئے آدھی پوری ہوئی کہ خدا نے اسے واقعی بہادری کی نعمت سے نوازا۔ کنجوسی کے معاملے میں خدا نے اسے منتظر رکھا ہوا ہے۔ وہ کنجوس نہ ہوتا تو اتنا بڑا ہسپتال کیسے بناتا مگر ہماری سیاست میں سخاوت ضروری ہے۔ دسترخوان وسیع ہو اور مزاج میں فراخدلی‘ کشادگی اور انکساری ہو۔ انکسار میں وقار ہے۔ دلیری کے ساتھ دلبری بھی ضروری ہے۔ لوگوں کے لئے بھی آدھی دعا پوری ہوئی۔ انہوں نے دل کھول کر چندہ دیا مگر ابھی بہادری ان میں پوری طرح نہیں آئی ورنہ یہ ملک امیروں‘ لٹیروں اور کرپشن کے عادی لوگوں‘ حکمرانوں افسروں ججوں اور جرنیلوں سے محفوظ ہو چکا ہوتا آپ صرف سرکاری ہسپتالوں میں جا کے دیکھیں۔ آپ کو لگ پتہ جائے گا مریضوں غریبوں کے لئے دوائیں ہٹے کٹے امیروں افسران اور حکمرانوں پر کس طرح لٹائی جاتی ہیں۔ لوٹ مار کا بازار ہر سرکاری ادارے اور دفتر میں لگا ہوا ہے۔ عمران خان کی خواہش ہوتی تھی کہ لوگ مجھے چندہ دیں اور میرا شکریہ بھی ادا کریں۔ اب ہسپتال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم پر عمران خان کا شکریہ واجب ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی دوسروں نے بھی یہ کام کرنا شروع کئے۔ مگر کام کاروبار بن جائے تو وہ کارنامہ نہیں بن سکتا۔ بہت معروف اور امیر کبیر گلوکار ابرارالحق نے دور آباد بلکہ غریب آباد علاقے نارووال میں ہسپتال بنوایا۔ یہ بڑی بات ہے۔ دیہات اور مضافات میں ویلفیئر بڑی ضروری ہے۔ مگر اس میں کئی ناقابل ذکر باتیں بھی سامنے آئیں۔ پھر بھی یہ کام کوئی کم کام نہیں اب سنا ہے کہ ہسپتال کی حالت اچھی نہیں۔ زکوٰۃ شوکت خانم ہسپتال کو دیں اور صغریٰ شفیع ہسپتال نارووال کو بھی دیں۔ اور بھی جو فلاحی ہسپتال ہیں اور جو ماں کے نام پر بنے ہوئے ہیں۔ جو آپ کے محلے گائوں اور شہر میں ہیں انہیں نہ بھولیں۔ یہاں رمضان میں چیزیں مہنگی کرنے والے ہیں تو زکوٰۃ دینے والے بھی ہیں۔ کہتے ہیں پاکستان میں مخیر حضرات دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہیں۔
سیما فرخ اور حسن کے ساتھ ایک گھر میں گیا۔ اس گھر میں سپیشل بچوں کے لئے ایک چھوٹا سا ادارہ ہے یہ ہسپتال نہیں مگر ہسپتال سے بڑھ کر ہے۔ اپاہج معذور بچوں کا علاج کینسر کے مریضوں سے زیادہ صبر آزما اور محنت طلب ہے۔ زندگی کو ایک اور زندگی بنانے کا یہ کام کتنا اعلیٰ ہے۔ گھر کا نچلا حصہ ماں نے اس بھلائی کے لئے اپنی بچی کو دے دیا ہے۔ بچی بھی ماں ہوتی ہے کہ مامتا ایک صفت ہے جو عورت کے خمیر ضمیر میں پیدا ہوتے ہی رکھ دی جاتی ہے۔ اس ادارے کا نام بھی ایک ماں محترمہ شہناز محسن کے نام پر ہوتا۔ طیبہ شیخ نے اس پورے
ماحول میں مامتا کی خوشبو بکھیر دی ہے۔ پروفیسر محسن شیخ گورنمنٹ کالج کی یاد پدرانہ شفقت سے اس ادارے کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ریاض صاحب بڑے جذبے سے ادارے کی خدمت میں مصروف ہیں۔ سیما فرخ ادارے کی خیر خواہ اور مخلص ہیں۔ ادارے کا فون نمبر 37418648 ہے۔ سپیشل کڈز 64۔ اے نیو چوبرجی پارک میں واقع ہے۔ جب آپ کا دل بھلائی کے لئے چاہے تو اس ادارے کے معذور بچوں کو یاد رکھیں۔ ایک معصوم معذور بچے عمر اسلام نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور میرے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ یہ لمس مجھے عمر بھر یاد رہے گا۔ میں بدقسمت ہوں کہ میں اس کے ننھے منھے ہاتھوں کا لمس اپنے منتظر ہونٹوں پر نہ سجا سکا۔ معذور بچہ مجبور آدمی سے بہتر ہے!