شامت اعمال

27 اگست 2009
اس ماہ مبارک میں دیگر دعائوں میں یہ دعا بھی شامل کر لیں کہ ’’اے اللہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کی ماں کو ایک لاکھ بار رنڈی کر دے جنہوں نے ہم سولہ کروڑ پاکستانیوں کو چچا سام کی غلامی میں دھکیل دیا ہے۔‘‘ جن سولہ کروڑ میں ہم عوام کے ساتھ ہمارے حکمران‘ سیادت خان اور ہر قسم کے ادنیٰ و اعلیٰ خادم بھی شامل ہیں۔ اگر بے نظیر بھٹو کو ان غلامی پسندوں نے قتل نہ کر دیا ہوتا تو ہم غلاموں کے صدر ہم سے فدیہ میں حکمرانی تو نہ وصول کر لیتے۔ قاتل کون ہیں؟ وہ جانتے ہوئے بھی ہمیں بتا نہیں رہے کسی کو اور فدیہ ہم سے وصول کرتے ہی جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی تحقیقاتی ٹیم کو بھی پچاس لاکھ ڈالر ہم عوام نے ادا کئے ہیں۔ کس جرم میں‘ ذوالفقار علی بھٹو کی وراثت سے پیار محبت کے جرم میں؟ اس جرم محبت کی ہماری سزا کب ختم ہو گی؟ امریکہ نے وردی شاہ اور بے نظیر کے درمیان این آر او کرا دیا نہ امریکہ نے ہم سے پوچھا نہ وردی شاہ نے اور نہ ہی بھٹو جمہوریت کی وارث نے۔ اس این آر او کی قوت سے وہ ہمیں جمہوریت اور آزادی دلانے واپس آئیں اور آصف علی زرداری دے کر آنجہانی ہو گئیں۔ قاتلوں نے انہیں قتل کر دیا تو ان کے شوہر نے انکشاف فرمایا کہ وہ ان کے حق میں وصیت کر گئی ہوئی ہیں ہم نے یہ تک نہ پوچھا کہ جمہوریت اور وصیت؟ ووٹروں نے ’’پاکستان کی تصویر بے نظیر‘‘ سے محبت میں ان کے شوہر کو ملک کا صدر اور پارٹی کو حکمران بنا دیا تب سے وہ ہم سے اس محبت کا مسلسل فدیہ وصول کر رہے ہیں۔ قاتلوں سے پوچھتے ہی نہیں اور عوام کو سولی پر چڑھایا ہوا ہے۔ ہائے شامت اعمال قاتلاں۔ بے نظیر وراثت کے مالک و مختار نے اس سے محبت کرنے والوں کو سولی پر کیوں چڑھایا ہوا ہے؟ اس لئے کہ کسی کو تو سولی پر چڑھانا ہی تھا۔ قاتلوں سے پیار و محبت رکاوٹ ہو گا۔ امریکہ نے وہ این آر او نہ کرایا ہوتا تو آصف علی زرداری قبلہ آج بھی امریکہ میں زیر علاج ہی ہوتے۔ لیکن کیا ہماری اور ہمارے ملک کی جو شامت آئی ہوئی ہے یہ صرف ان قاتلوں کے اعمال کا ہی نتیجہ ہے؟ اس میں ہمارا ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی بے نظیر صاحبزادی سے اور ان کی وصیت سے محبت کرنے والوں کا کوئی حصہ نہیں؟ اس میں انہیں اس مقام و مرتبہ تک پہنچا دینے والوں کا کوئی حصہ نہیں؟ اس میں میثاق جمہوریت کے علمبرداروں کا کوئی حصہ نہیں؟ اس میں سترھویں ترمیم کے عاشقوں کا کوئی حصہ نہیں؟ اس میں وردی شاہ اور اس کی وردی کے سیاسی پھُدنوں اور اس کی آمریت کے سیاسی بوٹ جرابوں کا کوئی حصہ نہیں؟ اور اس میں این آر او کے محافظوں اور عاشقوں کا کوئی حصہ پتی نہیں؟ سب کا حصہ پتی ہے ہم عوام کی اور ہمارے ملک کی اس شامت میں۔ جس بھی کسی نے ووٹ دیا ہوا ہے سپورٹ کیا ہوا ہے ان میں سے کسی کو بھی یہ شامت اس کے اعمال کی دی ہوئی ہے لہٰذا یہ شامت اعمال قاتلاں ہی نہیں شامل اعمال ما یعنی ہم پاکستانیوں کے اعمال کا بھی نتیجہ ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ’’ہور چوپو‘‘ یہ تو مرے کو مارے شاہ مدار والی بات ہو جائے گی اور ہم بے نظیر وراثت اور جمہوریت کے شہیدوں سے ایسا مذاق نہیں کر سکتے۔ عدلیہ آزاد ہے۔ جب امریکی معالجوں کے زیر علاج رہے ہمارے صدر مملکت‘ امریکہ کے نئے صدر سے صدارتی ملاقات کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ اس سے چند ہی روز پہلے میزبان صدر نے ایک خصوصی خطاب میں فرمایا تھا ’’پاکستان کی حکومت کے استحکام کے حوالے سے میں بڑا پریشان ہوں حکومت پاکستان بہت کمزور ہے وہ عوام کو صحت تعلیم امن و امان اور قانون کی حکمرانی جیسی بنیادی ضروریات فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اس لئے عوام کی حمایت اور وفاداری حاصل کرنا بہت دشوار ہے‘ ہماری جمہوریت اور این آر او کے محافظ بارک حسین اوباما کی اس فکرمندی کے بعد امریکی جریدے ٹائم نے اپنی خصوصی رپورٹ میں بتایا تھا کہ ’’آصف علی زرداری اور حامد کرزئی میں سے کوئی بھی اعلیٰ سیاسی اقدار کا نمونہ نہیں اور صدر اوباما نے مسٹر ہالبروک اور جنرل پیٹریاس کی ڈیوٹی لگا دی ہے کہ وہ ان دونوں کو ملک چلانے کی تعلیم و تربیت دیں‘‘ یہ انکشاف مئی کے دوسرے ہفتہ میں کیا گیا تھا۔ آج کیا تاریخ ہے؟ اس کے بعد ہی مسٹر ہالبروک اور جنرل پیٹریاس کے ورود پاکستان میں اضافہ ہو گیا تھا اور مسٹر ہالبروک کا حالیہ دورہ تو کچھ زیادہ ہی تربیتی ہو گیا تھا اب اگر یہ درست ہے کہ ہمارے لئے داخلی پالیسیاں بھی وہی یعنی مسٹر ہالبروک بنانے لگے ہیں اور ان کی حیثیت پاکستان کے لئے امریکی وائسرائے کی ہے تو اس میں ان کا اور ان کے بارک حسین اوباما کا کیا قصور؟ یہ تو زیادہ تر ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہم سب اپنا اپنا جائزہ لیں۔ منہ طرف ایوان صدر یا منہ طرف جاتی عمرہ کر کے نہیں جس بھی کسی کا قبلہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لئے مقرر کیا ہوا ہے وہ اس ماہ مقدس میں اس قبلہ کی طرف منہ کر کے سوچے کہ ہماری جو شامت آئی ہوئی ہے اس میں ہمارا اپنا کتنا حصہ ہے اور بے نظیر کے قاتلوں کا اس سے پیار کرنے والوں کا اس کے کئے این آر او کرانے والوں کا اور اس کی وصیت کا کتنا کتنا حصہ ہے؟ اس میں اور ہالبروک کی غلامی میں ہم سب کا حصہ ہے۔ ’’شامت اعمال ماصورت ہالبروک گرفت‘‘ یعنی ہالبروک کی حکمرانی کا یہ عذاب ہمارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے جو بھی کوئی اپنے اعمال درست نہیں کرے گا اسے کسی نادر شاہ یا ہالبروک سے کوئی نہیں بچایا کرتا!