عدم ثبوت: پشاور ہائیکورٹ نے صوفی محمد کے تینوں بیٹوں کی رہائی کا حکم دےدیا

27 اگست 2009
پشاور (بی بی سی اردو + اے پی پی + مانیٹرنگ نیوز) پشاور ہائیکورٹ نے حکومت کی جانب سے ٹھوس ثبوت فراہم نہ کرنے پر کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمد کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے تین بیٹوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔ بدھ کے روز پشاور ہائیکورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل خان نے حکومت کی جانب سے مولانا صوفی محمد کی تین بیٹوں رضوان اللہ‘ حیات اللہ اور فضل اللہ کی گرفتاری کے حوالے سے ٹھوس ثبوت فراہم نہ کئے جانے پر تینوں کی رہائی کا حکم دیا۔ رضوان اللہ‘ حیات اللہ اور ضیاءاللہ کی جانب سے ان کے وکیل اطلس خان جبکہ حکومت کی طرف سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فضل الرحمان اور اسسٹنٹ کمشنر ممتاز کنڈی نے پٹیشن کی سماعت کے دوران گرفتاری کی مخالفت اور حمایت میں اپنے اپنے دلائل پیش کئے تھے۔ اطلس خان نے عدالت میں مو¿قف اختیار کیا تھا کہ تینوں بھائی کسی بھی صورت پشاورکے امن کے لئے خطرہ نہیں تھے اور ان کی رہائی کے احکامات جاری کئے جائیں دوسری طرف ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل فضل الرحمان نے مو¿قف پیش کیا تھا کہ مولانا صوفی محمد اور ان کے بیٹے پشاور میں شوریٰ کا اجلاس منعقد کرتے رہے اور وہ شہر کے امن کے لئے مستقل خطرہ بنے ہوئے تھے۔

آئین سے زیادتی

چلو ایک دن آئین سے سنگین زیادتی کے ملزم کو بھی چار بار نہیں تو ایک بار سزائے ...