قومی مالیاتی کمشن کا اجلاس آج ہو گا‘ سرحد نے شرکت کا فیصلہ کر لیا

27 اگست 2009
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی + وقت نیوز + ریڈیو مانیٹرنگ) قومی مالیاتی کمشن کا اجلاس آج وزیر خزانہ شوکت ترین کی صدارت میں منعقد ہوگا جس میں سرحد نے بھی شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ سرحد نے قابل تقسیم محاصل سے 5 فیصد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سرحد کے وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ پشاور مں ہونے والے اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ کے لئے وفاقی حکومت کے طلب کردہ اجلاس میں شرکت کی حمایت کی گئی‘ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ وفاقی حکومت وفاقی محاصل کا 80 فیصد صوبائی حکومتوں کو دے۔ اجلاس میں بعض صوبوں نے اعتراضات بھی اٹھائے ہیں جس میں سندھ سرفہرست ہے۔ سندھ کا مو¿قف ہے کہ گرانٹس ان ایڈ، جی ایس ٹی اور گیس ترقیاتی سرچارج کو مالیاتی وسائل کے پول سے الگ کر دیا جائے۔ پنجاب ایک مرتبہ پھر مو¿قف اختیار کرے گا کہ وسائل کی تقسیم آبادی کی بنیاد پر کی جائے جبکہ بلوچستان کا مو¿قف ہے کہ تقسیم اراضی اور پسماندگی کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ سرحد کی حکومت نیٹ ہائیڈل منافع کی عدم ادائیگی کا معاملہ بھی اٹھائے گی۔این ایف سی اجلاس میں صوبے شیئر 50 فیصد تک لے جانے کا مطالبہ کریں گے جو وفاق کے لئے فوری طور پر قابل قبول مطالبہ نہیں کیونکہ وفاقی حکومت بتدریج اس شیئر کو 50فیصد تک لے جانے کی حامی ہے۔ پنجاب کی طرف سے این ایف سی میں وسائل کی تقسیم کو آبادی کے ساتھ دوسرے عوامل ملانے کی مخالفت نہیں کی جائے گی تاہم پنجاب آبادی سے ہٹ کر دوسرے عوامل کو زیادہ وزن دینے کی حمایت نہیں کر سکتا کیونکہ پنجاب کے پاس ایسے قدرتی وسائل موجود نہیں جن سے گیس رائلٹی یا ہائیڈل منافع کی مدات میں اسے اضافی رقوم دستیاب ہو سکیں تاہم پسماندگی اور غربت کے عوامل کو کچھ وزن دینے کی حمایت کرے گا۔ سندھ کی طرف سے آبادی کے ساتھ پسماندگی‘ غربت اور ریونیو جنریشن کو فیکٹر کے طور پر لینے کا مطالبہ کیا جائیگا تاہم ریونیو جنریشن کو مالی وسائل کی تقسیم کی ایک بنیاد بنانے کی تین صوبے پہلے ہی مخالفت کرتے رہے ہیں کیونکہ ان کا مو¿قف ہے کہ کراچی کی بندرگاہوں پر اترنے والا سامان پورے ملک کے شہری منگوا رہے ہیں صوبہ سرحد غربت‘ پسماندگی کے ساتھ نیٹ ہائیڈل منافع کے معاملہ کو اٹھائے گا تاہم دوسرے صوبے اس معاملہ کو الگ حل کرنے پر زور دیں گے‘ بلوچستان کی طرف سے رقبہ بالحاظ آبادی پسماندگی کے عوامل کو وزن دینے کی بات کی جا رہی ہوگی جبکہ بلوچستان گیس کی رائلٹی کی تقسیم کے فارمولہ پر بھی نظرثانی چاہتا ہے۔