لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں تین گھنٹے اضافہ‘ روزہ داروں کی زندگی اجیرن بن گئی‘ احتجاج جاری

27 اگست 2009
لاہور/ نارنگ منڈی (نیوز رپورٹر+ نامہ نگار) ملک بھر میں لوڈشیڈنگ کے دورانیہ میں 3 گھنٹے اضافہ کر دیا گیا جس سے روزہ داروں کی زندگی اجیرن بن گئی ہے۔ لاہور سمیت کئی شہروں میں سحر‘ افطار اور تراویح کے اوقات میں بجلی کی بندش کیخلاف مظاہرے کئے گئے جبکہ حکومت نے بیمار صنعتی یونٹوں کی بحالی کیلئے ریلیف پیکج دیگی۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر میں پیپکو کی جانب سے لوڈشیڈنگ کے دورانئے میں3 گھنٹے اضافہ کر دیا گیا ہے، سحری اور افطاری میں بھی بجلی کی مسلسل بندش جاری رہی۔ لاہور اور اسکے مضافات میں 5 سے 8گھنٹے تک بجلی بند کی جارہی ہے۔ پرانی انارکلی، جین مندر، ٹھوکر نیاز بیگ میں ٹرانسفارمر جلنے سے کئی گھنٹے تک بجلی بند رہی۔شہریوں نے لیسکو کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔جبکہ دوسر ی جانب ملک کے طول وعرض میں بجلی کی بندش 14گھنٹے تک ہے ۔مجموعی خسارہ 3144میگاواٹ تک ہے ۔ لاہور کے مختلف علاقوں اقبال ٹائون، شاہدرہ، بادامی باغ، وحدت کالونی، جوہر ٹائون، نواب ٹائون، ٹائون شپ، بند روڈ،گریفن ہائوسنگ سکیم، سبزرا زار، حمید نظامی روڈ، اندرون لاہور، ٹھوکر نیاز بیگ، سمن آباد، الحمد کالونی سمیت دیگر میںسحری اور افطاری کے وقت بجلی بار باربند ہوتی رہی۔ جس پر صارفین نے شدید احتجاج کیا ہے۔ نارنگ منڈی میں سحر‘ افطار کے اوقات میں لوڈشیڈنگ کا سلسلہ بند نہ ہو سکا جبکہ محلہ رفیق آباد میں ٹرانسفارمر جل جانے سے ایک ماہ سے ہزاروں شہری بجلی سے محروم ہیں۔ آن لائن کے مطابق حکومت نے ملک میں جاری حالیہ صنعتی بحران اور لوڈشیڈنگ کے باعث بند ہونے والے صنعتی یونٹس کی دوبارہ بحالی کا پروگرام ترتیب دیا ہے جس کے تحت ان صنعتوں کو دوبارہ فعال بنانے کیلئے ریلیف پیکج دیا جائے گا جبکہ حکومت نے اس حوالے سے قائم کی گئی ریزولیشن ٹرسٹ کمپنی ( آئی آر سی ) کو بھی فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمشن آف پاکستان سے آر ٹی سی کی منظوری بھی حاصل کرلی ہے۔ اس سلسلے میں بند بیمار صنعتوں کی بحالی کیلئے ان کی تفصیلات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ ان صنعتوں کی بحالی کیلئے آئی ایف سی نے (آئی آر سی) کو دو سو ملین ڈالر دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔