’’ججوں کی تقرریوں میں خواتین کی ایک تہائی نمائندگی ضروری ہے‘‘

27 اگست 2009
لاہور (رفیعہ ناہید اکرام سے) ججوں کی تقرریاں میرٹ پر کی جائیں اور پی سی او جج خواہ کتنے ہی لائق کیوں نہ ہوں انہیں دوبارہ تعینات کیا جائے تاہم نئی تقرریوں میں خواتین کو ایک تہائی نمائندگی دینا از حد ضروری ہے عدلیہ نے مشرف کے بارے میں فیصلہ دیکر اپنے حصے کا کردار ادا کر دیا اب پارلیمنٹ فعال ہو جوڈیشری کی خالی آسامیوں پر سیاسی کی بجائے میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز خواتین وکلاء نے ایوان وقت میں گفتگو کے دوران کیا شمسہ علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ جوڈیشل سسٹم میں خواتین کی نمائندگی کو 33 فیصد تک بڑھایا جائے۔ غزالہ خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ مشرف نے آئین توڑا وہ پوری قوم کے مجرم ہیں۔عمرانہ بلوچ ایڈووکیٹ نے کہا کہ بے نظیر کے 96ء کے دور میں ہر ضلع میں کم از کم دو خواتین ججوں کی تعیناتی کا قانون پاس ہوا مگر اس پر آج تک عملدرآمد نہیں ہو سکا انہوں نے کہا کہ صرف خواتین کو فیملی ججز تعینات کیا جائے۔ فوزیہ بشیر ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدلیہ بحالی کی تحریک کے مخالفین وکلاء کو بدنام کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں مگر وہ کامیاب نہیں ہونگے۔ عقلیہ سلطانہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جس… وکیل عہدے کے بھوکے نہیں انہوں نے اپنے مثالی کردار سے خود کو دنیا بھر میں منوایا۔ صبحیہ چغتائی ایڈووکیٹ نے کہا کہ نئی جوڈیشل پالیسی کا قیام خوش آئند ہے۔

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...