وفاقی کابینہ نے رینٹل پاور پراجیکٹس کی توثیق کردی

27 اگست 2009
اسلام آباد (اے پی پی + ثناء نیوز) وفاقی کابینہ نے ملک میں بجلی کی طلب و رسد کے درمیان فرق کو دور کرنے کیلئے بجلی کے تیز تر منصوبوں کے قیام کا فیصلہ کرتے ہوئے 2250 میگاواٹ کے پاور رینٹل پراجیکٹس کی منظوری کی توثیق کردی ۔ سرکاری شخصیات کو غیر ملکی دورے محدود کرنے کی ہدایت کی جبکہ وزیراعظم نے کہا ہے کہ دسمبر 2009ء تک ملک میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے، فاٹا میں قانونی اور سیاسی اصلاحات متعارف کرانے کے حوالے سے تاریخی فیصلوں کا اعلان کر کے حکومت نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے، ماہ رمضان کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ برداشت نہیں کیا جائے گا، تمام کابینہ ارکان اختیارات کے غلط استعمال اور اپنی وزارتوں کے امور کار میں نا اہلی کو بالکل برداشت نہ کریں۔ وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت وزیراعظم سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم کی پہلی تقریر میں اعلان کردہ کفایت شعاری اقدامات کے اطلاق کیلئے کابینہ نے منظوری دی کہ وزرائ، وزرائے مملکت، مشیران، معاونین خصوصی، سیکرٹریز، ایڈیشنل سیکرٹریز انچارج اور دیگر شخصیات کو سرکاری اخراجات پر صرف وہی غیر ملکی دورے کرنے چاہئیں جو اشد ضروری ہوں اور جن میں شرکت ناگزیر ہو۔ ان دوروں کا دورانیہ بھی کم سے کم رکھا جانا چاہیے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ لوڈ شیڈنگ سے ملک کی معیشت بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ قوم توانائی کی کمی کی وجہ سے مزید نقصان کی متحمل نہیں ہو سکتی لہٰذا ہمیں معیشت کے پہیئے کو رواں رکھنے کیلئے تیزی سے اقدام اٹھانا ہوں گے۔ عوام کے اعتماد کی بحالی کیلئے انہوں نے تمام کابینہ ارکان پر زور دیا کہ وہ اختیارات کے غلط استعمال اور اپنی وزارتوں کے امور کار میں نا اہلی کو بالکل برداشت نہ کریں اور سرکاری فنڈز کے استعمال میں دانشمندی کا مظاہرہ کریں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وہ بین الصوبائی رکاوٹوں کو دور کرنے کی پہلے ہی ہدایات جاری کر چکے ہیں اور اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ ایک ملک کو چار منڈیوں میں تقسیم کر دیا جائے، تمام صوبوں اور علاقوں کے عوام متحد ہیں اور غذائی اجناس پر مشترکہ دعویٰ رکھتے ہیں۔