چینی کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچا کر رہیں گے : لاہور ہائیکورٹ

27 اگست 2009
چینی کا معاملہ منطقی انجام تک پہنچا کر رہیں گے : لاہور ہائیکورٹ
لاہور (وقائع نگار خصوصی + اے پی پی) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ چینی کی مصنوعی قلت اور قیمتوں میں اضافے کے ذمہ دار سٹاکسٹس‘ ملز مالکان اور سرکاری اہلکار ہیں‘ عدالت نے استفسار کیا کہ حکومت چینی پر سبسڈی دیتی ہے تو اس پر عائد ٹیکس مکمل ختم کیوں نہیں کرتی۔ چینی کا بحران صرف دولت کی بھوک اور حرس کے باعث پیدا ہوا۔ میرا ایمان ہے کہ پاکستان میں چینی کم پیدا نہیں ہوئی۔ صرف سٹاک کرنے سے بحران پیدا ہوا۔ ہم یہ معاملہ چھوڑیں گے نہیں جب تک اس کو منطقی انجام تک نہ پہنچائیں۔ یہ ریمارکس لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس خواجہ محمد شریف اور جسٹس اعجاز احمد چودھری پر مشتمل بنچ نے چینی کے بحران پر لئے گئے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ادا کئے۔ قبل ازیں ایڈووکیٹ شفقت محمود نے عدالت کے روبرو چینی کے بحران پر اپنی دائر درخواست کے حوالے سے کہا کہ یہ منصوبہ بندی کے فقدان کا نتیجہ ہے اور یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ معاملے کی تحقیق کے لئے جوڈیشل کمشن بنایا جائے جو ملک بھر میں چینی کی مقدار کا تعین کرے اور واقعہ میں ملوث لوگوں کی نشاندہی کی جائے جس پر فاضل بنچ نے صوبائی و وفاقی حکومت سمیت شوگر ملز کی ایسوسی ایشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 ستمبر کو پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔ فاضل بنچ نے ٹی سی پی کے چیئرمین سے استفسار کیا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ قیمتیں کیوں بڑھیں؟ جس پر انہوں نے عدالت کو بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں شوگر کی پیداوار توقع سے کم ہوئی۔ نیز انڈیا میں بھی اس سال مون سون کم ہونے کے باعث شوگر کی پیداوار متاثر ہوئی۔ اس کمی کو دور کرنے کے لئے انڈیا نے عالمی مارکیٹ سے پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کے لئے رابطہ کیا جس پر پاکستان کی شوگر ملز نے عالمی صورتحال کی وجہ سے اپنا سٹاک نکالنا کم کر دیا اور بحران پیدا ہو گیا۔ جس پر عدالت عالیہ نے ریمارکس دئیے کہ ذخیرہ اندوز ساری روٹی خود ہی کھانا چاہتے ہیں۔ عوام کو ایک لقمہ بھی نہیں دینا جاہتے‘ ان کو خدا کا خوف نہیں وہ عوام پر رحم کریں۔ ملز مالکان کی فہرست ذرائع ابلاغ کے ذریعے سامنے آ چکی ہے یہ حکمران ہیں جو عوام کے ووٹ سے منتخب ہو کر آئے ہیں اور ان کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے انہی کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں‘عوام کو بھی جینے کا حق دیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں اور لوگ ٹرکوں پر چڑھ رہے ہیں اس سے میں خوفزدہ ہوں اور ڈرتا ہوں لوگ ہمارے گریبان نہ پکڑ لیں اور ہمیں نہ ماریں کیونکہ گنہگاروں کے ساتھ بے گناہ بھی رگڑے جاتے ہیں۔ جب انقلاب آتا ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے حکومت جب تک ذمہ داران کو ہاتھ نہیں ڈالے گی مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ ہاتھ حکومت نے ڈالنا ہے عدالت نے نہیں‘ حکومت نے ہی اپنی رٹ قائم کرنا ہے۔ فاضل بنچ نے ٹی سی پی اور وزارت صنعت و پیداوار‘ وکلا اور افسروں سے یقین دہانی حاصل کی کہ رمضان تک شہریوں کو حکومت کے مقررہ کردہ نرخ پر چینی کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی اور اس میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔ فاضل بنچ نے وزارت صنعت و پیداوار اور تجارت کی نمائندگی کرنے والی خاتون جائنٹ سیکرٹری شائستہ سہیل کو ہدایت کی کہ وہ حکومت کو تجویز پیش کرے کہ چینی کی موجودہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے چینی پر عائد 16 فیصد سیلز ٹیکس اور وفاقی ڈیوٹی بھی ختم کر دے جو پہلے ہی نصف کر دی گئی ہے۔ فاضل عدالت نے وفاقی حکومت کے وکلا کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر حکومت سے پوچھ کر عدالت کو بتائیں کہ حکومت نے کس طرح چینی کی قیمت 45 روپے فی کلوگرام تک بڑھانے کی اجازت دی جبکہ شوگر ملوں کے بارے میں مرتب کی جانے والی رپورٹ کے مطابق قیمت 33 روپے 56 پیسے بنتی ہے۔ چیئرمین ٹی سی پی سعید احمد نے بتایا کہ ہم حکومت کی مرضی کے منافی کوئی چیز نہیں خرید سکتے ہم وفاقی حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے کے پابند ہیں۔ حکومت نے پہلے ہمیں چینی درآمد کرنے کیلئے کہا جس پر ہم نے ٹینڈر طلب کئے بعد میں منع کر دیا گیا جس پر ہم نے تمام ٹینڈر منسوخ کر دئیے۔ انہوں نے بتایا کہ جب کرشنگ سیزن ختم ہوا تو چینی کی قیمت 35 روپے کلو تھی ۔جس پر عدالت نے استفسار کیا تو پھر چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار کون ہے‘ اس کے ذمہ دار سٹاکسٹس‘ ملز مالکان اور سرکاری اہلکار ہیں۔ چیئرمین ٹی سی پی نے بتایا کہ ملک میں دسمبر تک چینی کے سٹاک موجود ہیں اورہمیں چینی درآمد کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب محمد حنیف کھٹانہ نے بتایا کہ کرشنگ سیزن میں ہمیں 45 میں سے 16 شوگر ملوں نے سیزن ریٹ 33.06 روپے کلو دئیے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں سخت ہاتھ ڈالے ورنہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔ وزارت صنعت و پیدوار کی نمائندہ خاتون جوائنٹ سیکرٹری نے عدالت کو بحران کے پس منظر کے حوالے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی تو عدالت نے کہا کہ ہمیں بحران کا پتہ ہے آپ اپنی تھیوری نہ بتائیں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت نے چینی کی قیمت پر ٹیکس آدھا کر دیا ہے۔ جس پر عدالت نے کہا کہ حکومت چینی کی قیمت پر سبسڈی دیتی ہے تو پھر ٹیکس ختم کیوں نہیں کر دیتی۔ آپ پورا ٹیکس ختم کیوں نہیں کر دیتے۔ عدالتی استفسار پر چیئرمین ٹی سی پی نے بتایا کہ یوٹیلیٹی سٹورز پر چینی کی قیمتیں 3 ماہ کیلئے فکس کر دی گئی ہیں۔