این آر او کے خلاف درخواستوں کی سماعت ضرور ہوگی : چیف جسٹس

27 اگست 2009
اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + بی بی سی ڈاٹ کام) چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ قومی مصالحتی آرڈیننس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ضرور ہو گی۔ یہ ریمارکس انہوں نے گذشتہ روز ایک درخواست کی سماعت کے دوران دئیے جس میں ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عشرت علی نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ان کے خلاف دائر مقدمہ کو بھی این آر او کے تحت ختم کیا جائے۔ چیف جسٹس نے اس درخواست کو این آر او کے بارے میں سپریم کورٹ میں دائر دیگر درخواستوں کے ساتھ شامل کرنے کا حکم دیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب تک ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں آ جاتا اُس وقت تک درخواست گذار کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ نیب نے ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عشرت علی کے خلاف بدعنوانی کا مقدمہ درج کیا تھا تاہم عدالت نے اس کی ضمانت منظور کر لی تھی اور انہوں نے اس حوالے سے دس لاکھ روپے بطور ضمانت عدالت میں جمع کروائے تھے۔ مذکورہ سرکاری اہلکار نے سپریم کورٹ میں یہ درخواست اس رقم کو واپس لینے کے لئے دائر کی تھی۔ چیف جسٹس نے نیب کی عدالتوں کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان عدالتوں میں مؤثر طریقے سے کام ہوا نہ ہی مقدمات تیزی سے نمٹائے گئے۔ اسلام آباد سٹاک ایکسچینج سکینڈل کے ازخود نوٹس کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چاہئے تو یہ تھا کہ ان عداتوں میں زیر التواء مقدمات کی سماعت کر کے ان مقدمات کو فوری طور پر نمٹایا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اگر اعلیٰ عدالتوں کے جج صاحبان زیادہ دیر تک عدالتوں میں بیٹھ کر مقدمات کی سماعت کر سکتے ہیں تو پھر نیب کی عدالتوں کے جج صاحبان ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ چیف جسٹس نے اس مقدمے کی تفتیش مکمل نہ ہونے پر قومی احتساب بیورو کے اہلکاروں کی سرزنش کی اور حکم دیا کہ اس مقدمے کی تفتیش جلد از جلد مکمل کی جائے۔ انہوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نیب کے اہلکار ملزم کے ساتھ بارگین کر کے لاکھوں روپے لے لیتے ہیں اور کروڑوں روپے لوٹنے والوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف پیسے جمع کروانے سے جرم ختم نہیں ہو جاتا۔ نیب کے حکام نے چیف جسٹس کی ہدایت کے باوجود اُن افراد کی فہرست ابھی تک عدالت میں پیش نہیں کی جو نیب کی حراست میں ہیں تاہم ان کے خلاف ریفرنس ابھی تک دائر نہیں ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد سٹاک ایکسچینج سکینڈل میں سینکڑوں افراد کی سات کروڑ سے زائد کی رقم ڈوب گئی تھی۔ نمائندہ نوائے وقت کے مطابق قبل ازیں ایف آئی اے کے ہی ایک اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی درخواست پر عدالت عظمیٰ لارجر بنچ قائم کرنے کا حکم دے چکی ہے جو این آر او کے حوالے سے دائر تمام درخواستوں کو یکجا کر کے سماعت کرے گا۔ پراسیکیوٹر جنرل نیب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کو بری نہیں کیا گیا بلکہ سماعت معطل کی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ تو این آر او کے متعلق معاملہ ہے ہم معاملہ مجوزہ لارجر بنچ کو بھیج دیتے ہیں جو این آر او کی آئینی حیثیت کے جائزے کے لئے بنایا جا رہا ہے۔ سٹاک ایکسچینج سکینڈل کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس غلام ربانی اور جسٹس جواد ایس خواجہ پر مشتمل تین رکنی بنچ نے کی۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نیب کے مقدمات میں افسران کی تیاری مکمل نہیں ہوتی۔ جس کی وجہ سے مقدمات کی سماعت میں تاخیر ہوتی ہے۔ انہیں مکمل تیاری کے ساتھ عدالت میں پیش ہونا چاہئے۔ جسٹس افتخار چودھری کا کہنا تھا کہ نیب عدالتوں کی کارکردگی تسلی بخش نہیں ہے اور نہ ہی ان عدالتوں میں مقدمات تیزی سے نمٹائے جا رہے ہیں انہیں اپنا تشخص بحال کرنے کے لئے کارکردگی کو بہتر بنانا ہو گا۔ سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ پلی بارگین کا مطلب ملزم کی جانب سے الزام کو قبول کر لینا ہوتا ہے۔ ادھر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 3990 ڈیلی ویجز ملازمین کو مستقل کرنے کے لئے سمری کابینہ ڈویژن کو بھجوا دی جبکہ وزارت دفاع نے بھی ان ملازمین کو مستقل کرنے سے اتفاق کیا ہے یہ بات سپریم کورٹ کو سول ایوی ایشن اتھارٹی ہیومن ریسورس کراچی کے جنرل مینجر محمد لطیف نے بتائی‘ چیف جسٹس نے کہا کہ مستقل کرنے کا اصول تو یہ ہے کہ تاریخ تعیناتی سے مستقل کیا جائے ہے آپ یکم جون 2009ء سے کیسے مستقل کر رہے ہیں، تاریخ تعیناتی سے مستقل کریں۔ عدالت نے پراگریس رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت اکتوبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کر دی ہے۔