بلوچستان میں صرف ایک فیصد لوگ خودمختاری سے آگے جانا چاہتے ہیں : وزیرداخلہ

27 اگست 2009
لندن (آصف محمود سے) وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے درمیان جھگڑا اُن کا ذاتی معاملہ ہے اگر فریقین نے مجھے کہا تو اِن کے درمیان صلح کرا دوں گا۔ برطانوی وزیر داخلہ ایلسن جانسن سے ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف ٹی وی پروگرام دیکھ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ نوازشریف غلط ہیں یا الطاف حسین‘ جب کوئی چیز سامنے آئے گی تب ہی پیپلز پارٹی اپنا مؤقف دے سکتی ہے‘ پیپلز پارٹی اس معاملے میں غیر جانبدار ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پہلے ہی کہتا تھا کہ بیت اللہ محسود مارے جا چکے ہیں‘ ہمارے پاس کچھ ایسی غیر مصدقہ معلومات بھی ہیں جن کے مطابق حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمن محسود بھی آپس کی لڑائی میں مارے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا صدر زرداری فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس سے قبل برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن سے ملاقات میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔ قبل ازیں برطانوی ہم منصب سے ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ نے برطانوی جیلوں میں قید اور غیر قانونی طور پر یہاں مقیم پاکستانیوں کو فوری طور پر سفری دستاویزات دینے پر اتفاق کیا ہے۔ رحمن ملک نے اس موقع پر کہا کہ اِس معاہدے کے تحت ہزاروں پاکستانیوں کو فائدہ ہو گا‘ جن لوگوں کا برطانیہ میں قیام جائز نہیں انہیں پاکستان واپس جانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر رہنے والے پاکستانیوں سے کہتا ہوں کہ وہ اگلے 10 سال تک بھی یہاں کی سکونت حاصل نہیں کر سکتے لہٰذا باعزت طریقے سے پاکستان واپس چلے جائیں۔ بعدازاں رحمن ملک نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں انٹرپول کی طرف سے حافظ سعید کے کوئی ریڈ وارنٹ موصول نہیں ہوئے‘ ابھی صرف میڈیا کے ذریعے ہی اطلاعات ہیں‘ ریڈوارنٹ ملے تو جائزہ لیں گے۔ دریں اثناء رحمن ملک سے متحدہ کے وفد نے لندن میں ملاقات کی‘ وفد میں بابر غوری‘ رابطہ کمیٹی کے ارکان محمد انور اور رضا ہارون شامل تھے۔