رمضان بازاروں میں سستی خریداری کیلئے جانیوالی خواتین مایوس لوٹ گئیں

27 اگست 2009
لاہور (لیڈی رپورٹر) رمضان بازاروں میں سستی خریداری کیلئے جانے والی خواتین آسمان سے باتیں کرتی ہوئی مہنگائی کے باعث خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور ہو گئیں جکبہ سستے بازاروں میں آٹے اور چینی کیلئے روزہ کی حالت میں قطاروں میں کھڑے ہونے کی وجہ سے اکثر خواتین نڈھال دکھائی دیں اور کچھ خواتین قطار میں کھڑے ہوکر اپنی غربت پر آنسو بہاتی رہیں حکومتی دعوؤں کے برعکس رمضان بازاروں میں بکنے والی اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام مارکیٹ کے برابر ہونے سے خواتین کی پہنچ سے دور ہو گئیں اور سبزیاں‘ پھل‘ گوشت‘ دالیں‘ گھی اور چاول کی خریداری کیلئے آنے والی خواتین مختلف سٹالوں سے صرف قیمتیں ہی پوچھتی رہیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلند بانگ دعوؤں اور چھاپوں کے باوجود ریلیف دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔ رمضان بازار آنیوالی خواتین ذکیہ‘ بشریٰ اور صادقہ نے کہا کہ سستی خریداری کو صرف ایک خواب بن کر رہ گئی ہے منافع خوروں نے ان بازاروں کا بھی رخ کر لیا ہے سعدیہ اور نادیہ نے کہا کہ جو چیز سستی مل جاتی ہے وہ یا تو کم وزن ہوتی ہے یا پھر گھٹیا معیار کی ہوتی ہے۔