پاس کریں یا برداشت کریں

27 اگست 2009
یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کوئی خزانہ ان کے ہاتھ آگیا ہے۔’’انہیں میرے ہر معاملے میں ٹانگ اڑانے کا شوق ہے جبکہ میں اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کررہا ہوں‘‘ گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف کا نام لئے بغیر ان پر پھبتی کسی ’’اب تو نامور قانون دانوں ایس ایم ظفر، عابد حسن منٹو اور ملک محمدقیوم نے بھی ہائیکورٹ کے ججوں کے تقرر کے معاملہ میں وزیراعلیٰ کا کوئی کردار نہ ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ جبکہ بطور گورنر صرف مجھ سے مشاورت ہونی ہے اور میں اپنا یہی آئینی فریضہ ادا کر رہا ہوں۔ ہائیکورٹ کے جج کیلئے دس افراد کے انٹرویو لے لئے ہیں اور حتمی فہرست آج ہی ایوان صدر بھجوا دوںگا۔‘‘ مجھے گورنر پنجاب کی باتوں سے یوں محسوس ہوا جیسے پہلی بار انہیں وزیراعلیٰ پر پوائنٹ سکور کرنے کا کامیاب موقع ملا ہے۔ اسی دوران وفاقی وزیر مملکت محمد افضل سندھو نے اسلام آباد سے فون کرکے گورنر پنجاب کو خوشخبری دی کہ’’ وفاقی وزارت قانون نے چار سینئر ججوں سے مشورے کے بعد ہائیکورٹ کے ججوں کے تقرر کے معاملہ میں بطور گورنر ان کے ’’کنسلٹنسی‘‘ کے کردار کو نوٹیفائی کردیا ہے۔ اس لئے اب اس معاملہ میں کوئی ابہام نہیں رہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے ججوں کے تقررکے ایشو پر کچھ بھی نہیں کرنا، آئین میں صرف آپ کا کردار ہے‘‘ افضل سندھو کی اس خوشخبری نے گورنر سلمان تاثیر کے چہرے پر مزید رونق پیدا کردی اور انہوں نے افضل سندھو کو بھی یہی جوابی خوشخبری سنائی کہ میں امیدواروں کے انٹرویو مکمل کر چکا ہوں اور حتمی فہرست آج ہی ایوان صدر بھجوا دوں گا۔
مجھے گورنر ہائوس میں کھُسر پھُسرکی سرسراہٹ سی محسوس ہو رہی تھی۔ گورنر سلمان تاثیر ججوں کے تقرر کے ایشو کا قضیہ بھی طے کر رہے تھے۔ 28 ستمبر کو اپنے سمیت چاروں گورنروں کی ’’قومی سلامتی اور جمہوریت‘‘ کے ایشو پر تبادلہ خیالاتی اعلیٰ سطح کی میٹنگ کے انتظامات میں بھی لگے ہوئے تھے اور مشرف کے لائے گئے مقامی حکومتوں کے نظام کے دفاع میں مصروف سابق ایم این اے دانیال عزیز کو بھی انہوں نے اپنے پاس مدعو کررکھا تھا۔ گویا پردہ داری میں بھی کھلے عام اشارے مل رہے تھے جس سے میں یہی نتیجہ اخذ کرکے گورنر ہائوس سے باہر آیا کہ خدا اس آشیانے کی خیر کرے،پھر کوئی بجلی ٹوٹنے والی ہے۔اگر پنجاب کی مخلوط حکومت میں سارے معاملات افہام و تفہیم اور خوش اسلوبی سے چل رہے ہوتے تو ججوں کے تقرر جیسے کسی طے شدہ آئینی ایشو کو بھی متنازعہ بنانے کی کبھی ضرورت محسوس نہ ہوتی۔ اگر اس ایشو پر بھی اضطراب ہے تو یہ بین ثبوت ہے مخلوط حکومت میں ایک دوسرے کے ساتھ بداعتمادی کا، پھر اس بداعتمادی میں ایک دوسرے کا دوبارہ حکومتی حلیف بننے کی کیا ضرورت تھی۔ جبکہ اسی بداعتمادی کی وجہ سے گڈ گورننس کی فضا نہیں بن پا رہی اور عوام کے گھمبیر مسائل حل نہ ہونے کی وجہ سے مزید گھمبیر ہورہے ہیں۔ مرکز میں فرینڈلی اپوزیشن کا لیبل لگ رہا ہے اور پنجاب میں اطمینان سے حکمرانی بھی نہیں ہو پا رہی،جب مرکز میں اپنے لئے اپوزیشن کا کردار طے کرلیا ہے تو پھر پنجاب میں اپنی حکومت کیلئے ’’نمبر‘‘پورے ہونے کے باوجود آپ کو پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت دوبارہ تشکیل دینے کی مجبوری کیوں لاحق ہوئی اور اگر یہ مجبوری کوئی ضروری قسم کی شے ہے تو بھائی صاحب برداشت کریں۔ مسابقت ہے تو یا پاس کر،یا برداشت کر،اس کے علاوہ کوئی درگزر ہوگا تو وہ اصولوں کے ڈھنڈورے کے نام پر منافقت ہوگی۔ اگر آپ کے ہاتھ بندھے ہیں تو عوام میں آ کر اپنی پوزیشن واضح کریں ورنہ عوام خود آپ کی پوزیشن واضح کردیں گے کہ مسائل کی چکی میں پستے پستے اب وہ سلطانی ٔ جمہور کی فیوض و برکات سے بھی مایوس و محروم ہونے لگے ہیں۔ آپ ایک دوسرے کو ’’جھاکے‘‘ دیتے، ’’ٹھِبّی‘‘ مارتے ایوان اقتدار میں دن گزارتے رہیں گے مگر عوام پر یہ دن بہت بھاری ثابت ہوں گے۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کو احساس بھی ہے، جس کا وہ اپنی اکثر تقاریر میں اظہار بھی کرتے رہتے ہیں کہ اگر ہم نے عوام کے مسائل حل نہ کئے،غربت، افلاس اور بھوک میں کمی کی کوئی تدبیر نہ سوچی تو یہی عوام خونیں انقلاب پر اتر آئیں گے۔ پھر اپنے اس احساس کے باوجود وہ ’’سٹیٹس کو‘‘ کے تابع چلنا کیوں قبول کر رہے ہیں۔ جبکہ اب محض دردمندی کے احساس کے اظہار سے مایوس و مجبور عوام کی تسلی اور تشفی نہیں ہوگی۔ وہ ایوان اقتدار میں جاری رسہ کشی کے عمل سے تو اپنا پیٹ نہیں بھرسکتے اس لئے قبل اس کے کہ لاوا پھٹ پڑے، زبانی کلامی نہیں، عملی طور پر عوام کے ترجمان بن جائیں ورنہ بے قیادت عوام بالآخر وہی منزل لے آئیں گے جس کا میاں شہبازشریف کو دھڑکا ہے۔