کالا باغ ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہے

27 اگست 2009
گزشتہ سے پیوستہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک سندھی لیڈر رسول بخش پلیجو نے حال ہی میں منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر پر بھی اعتراض اٹھایا ہے کہ ان کی تعمیر کے بعد سندھ کی متعدد فصلیں پیداواری صلاحیت سے پانی کی کمی کی وجہ سے محروم ہو گئیں اور اس صوبے کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اگر منگلا اور تربیلا ڈیم کی تعمیر کے وقت بھی سیاست کا کھیل کھیلا جاتا تو شاید یہ ڈیم بھی تعمیر نہ ہوتے۔ پلیجو صاحب نے دریائے سندھ کے بالائی حصوں میں ڈیم بنانے کی حمایت کی اور بھاشا ڈیم کے حق میں بھی رائے دی۔
بلاشبہ بھاشا ڈیم کی تعمیر ملک کی اہم ترین ضرورت ہے لیکن یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ بھاشا دیامیر کے مقام پر دریائے سندھ میں 45 ملین ایکڑ فٹ پانی دستیاب ہو گا جبکہ کالا باغ ڈیم کے مقام پر پانی کی مقدار کابل اور سوان دریاؤں کے مل جانے کی وجہ سے 90 ملین ایکڑ فٹ ہو جاتی ہے اور کوٹری بیراج سے نیچے 20 ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کیا جا سکے گا جبکہ فی الوقت 10 ملین ایکڑ فٹ پانی کی روانی سندھ کی ضرورتوں کے لئے کافی سمجھی جا رہی ہے۔ بھاشا ڈیم کی تعمیر سے پہلے کم از کم 135 کلو میٹر شاہراہ قراقرم کی تعمیرِنو ضروری ہو گی جس کا تخمینہ اربوں روپے ہے۔ دوسری طرف بھاشا ڈیم کا مقام قدرتی زلزلوں کی حدود میں ہونے کے علاوہ اب طالبان کے نوزائیدہ خطرات کی زد میں بھی ہے لیکن کالا باغ ڈیم کا مقامِ تعمیر اس قسم کے تمام خطرات سے محفوظ ہے اور اسے صرف 5 سال کے عرصے میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔ سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک مرحلے پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا لیکن اقتدار و اختیار کے سب شعبوں پر قابض ہونے کے باوجود انہوں نے بھی گریز اختیار کیا اور ملک کو اندھیروں کی نذر کر دیا اور یہ کہنا بھی مناسب ہے کہ صوبہ سندھ اور صوبہ سرحد کے سیاستدانوں نے سَستی بجلی سے روشنی حاصل کرنے کے لئے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو قبول نہیں کیا اور اندھیرے کی سزا قبول کر رکھی ہے اور مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسے ہٹ دھرمی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے بلا سوچے سمجھے یہ بیان جاری کر دیا کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا ہے۔ دوسری طرف جب نواز شریف نے 28 مئی 1998ء کو ایٹمی دھماکہ کیا تھا تو کالا باغ ڈیم بنانے کا اعلان بھی کیا لیکن پھر انہوں نے بھی پسپائی اختیار کر لی۔ اب اطلاعات آ رہی ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے ججوں اور سترھویں ترمیم کے مسئلے کی طرح ’’کالا باغ ڈیم مہم‘‘ کو ملک گیر سطح پر چلانے اور عوام اور لیڈروں کو ڈیم کی تعمیر پر راضی کرنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ نظریاتی اخبار ’’نوائے وقت‘‘ نے قوم کے وسیع تر مفاد میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کو ہمیشہ ناگزیر قرار دیا ہے اور رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے یہ اخبار اب بھی پیش پیش ہے۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے صفحات پر یہ تجویز بھی پیش کی جا چکی ہے کہ ڈیم کی سطح مزید کم کر کے صرف پنجاب کے لئے ڈیم تعمیر کر لیا جائے تاہم اس میں اتنی گنجائش رکھ لی جائے کہ اگر دوسرے صوبے شامل ہونا چاہیں تو کالا باغ ڈیم کی سطح اونچی کی جا سکے۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف کو اس تجویز پر فوری طور پر غور کرنا چاہیے۔ اس اقدام سے اندھیرے روشنیوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں‘ صنعت کا جامد پہیہ چالو ہو سکتا ہے۔