لال مسجد و جامعہ حفصہ میں ظلم کا حساب لیں!

27 اگست 2009
خواجہ ثاقب غفور ..............
اسلام آباد میں جولائی 2007ء کو سانحہ لال مسجد و جامع حفصہ کا شرمناک فوجی ایکشن جنرل (ر) پرویز مشرف کے ایسے خاص الخاص سیاہ کارناموں میں سے ایک کے طور یاد رکھا جائے گا جس کی وجہ سے مسلح افواج اور عوام میں شدید نفرت کی لکیر کھینچ دی گئی۔ پوری قوم کے 80 فیصد خواتین و حضرات کے دل زخموں سے چُور ہو گئے اور لال مسجد و جامعہ حفصہ میں خون‘ چوڑیوں‘ سکارف‘ برقعے‘ کپڑے‘ جلی ہوئی نعشوں‘ فاسفورس گیس سے جلے لڑکیوں اور لڑکوں کے ڈھانچوں‘ خون کے بڑے چھوٹے نشانوں‘ گولیوں‘ گولوں‘ بموں‘ بھاری ہتھیاروں سے مسجد‘ کمرے‘ مدرسے‘ 5 ہزار سے زائد قرآن شریف کے جلے نسخوں کے دل دُکھانے والے مناظر‘ ٹی وی اخبارات کے ذریعے آنکھوں سے آنسوؤں کے سمندر قوم کے اعصاب کو مفلوج کر گئے اس سانحہ میں مولانا عبدالرشید غازی شہید‘ مولانا عبدالعزیز کی والدہ (80 سالہ) شہید‘ ان کے بیٹے کی شہادت اور بڑی تعداد میں سینکڑوں طلبہ و طالبات کی شہات نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگا دیا جس کے ذمہ دار اس وقت کے وہ جرنیل تھے جنہوں نے یہ آپریشن مکمل کیا‘ اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل مشرف کے احکامات پر عملدرآمد کیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد ہزاروں قبائلی طلبہ و طالبات کے انتقامی جذبات سے ملک بھر میں افواج پاکستان پر حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ اس خالص علمی بحث سے قطع نظر چند انتہائی اہم معاملات ہنوز حل طلب ہیں جو پوری قوم کی امنگوں کے ترجمان ہیں (سوائے اسلام سے باغی دانشوروں کے) جن میں سرفہرست یہ ہے کہ کیا جنرل (ر) پرویز مشرف کے حکم پر سینکڑوں لڑکے لڑکیوں کو بے دردی سے جلا کر کالے گوشت اور ہڈیوں میں تبدیل کرنے والے کالے کرتوت کسی رہنما‘ حکومت یا عدالتوں کو ’’معاف‘‘ کرنے کا اختیار ہے؟ کبھی کسی بڑے جج یا سیاستدان نے یہ سوچا ہے کہ اللہ کی عدالت میں آخرت میں کھڑا ہو کر انصاف (بلاخوف و مفاد) فراہم نہ کرنے کا کیا جواب دیا جا سکے گا؟ وہ بڑی تعداد میں کوئلہ بنا دی جانے والی قرآن و حدیث کا ذکر اور درود پاک کا ورد کرتی طالبات کی روحیں اللہ سے دنیا میں انصاف نہ ملنے کی فریاد کریں گی؟ ہمارا عدالتی نظام کیا ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ ایک ظالم جنرل (ر) مشرف کو لڑکیوں کو جلا کر شہید کرنے کے مقدمے میں سزا دے سکے؟ ہم اپنی بیٹی بہن ماں کی آنکھوں میں تو دو چار آنسو دیکھ کر مارنے‘ لڑنے‘ قتل کرنے کے جذبات میں مغلوب ہو جاتے ہیں آخر وہ بڑی تعداد میں شہید ہونے والی کیسے گولیوں‘ گولوں‘ باردوی دھماکوں‘ بھوک‘ پیاس‘ خوف‘ بے بسی‘ لاچاری‘ ذہنی دہشت‘ خوف کی حالت میں ایک ایک منٹ دھڑکتے دل‘ خوفزدہ آنکھوں‘ بہتے آنسوؤں ‘ اللہ سے فریادوں‘ زندگی‘ ظلم سے نجات‘ گرتے گولوں کی دل پھاڑنے والی دھمک‘ آنسو گیس کے سینکڑوں شیلوں سے لمحہ بہ لمحہ سانس کی ٹوٹتی ڈوروں‘ غشی‘ بے ہوشی‘ آکسیجن کی کمی‘ آگ کے بگولوں‘ دھویں کے کالے اٹھتے بادلوں‘ فاسفورس سے لوہے کے پنکھے پگھلا دینے والی شدید آگ و گرمی اور درجہ حرارت‘ لوہے کی کھڑکیوں‘ جالیوں‘ الماریوں کو پگھلا ‘ ٹیڑھا کر دینے والی آگ کے ناقابل بیان درد جھیلتی خاک و خون ہو گیئں تھیں؟ آخر ان لڑکیوں کا ظلم جرم کیا اتنا بڑا تھا کہ ان کو اس طرح تڑپا تڑپا کر شہید کیا جاتا؟ جنرل (ر) مشرف کا شرمناک بیان کہ ’’چین کے اعلیٰ حکام نے چینی خواتین کے اغوا پر میرا سر شرم سے جھکا دیا؟‘‘ ایسے لوگوں کو اس سوال کا جواب بھی دینا چاہیے کہ کیا بڑی تعداد میں (سرکاری 100 افراد مارے گئے) ‘ حقیقی طور پر بڑی تعداد میں لڑکیاں جلا کر شہید ہوئیں تھیں ان کے اس دہشت گردانہ طور پر مارنے سے بھی جنرل (ر) مشرف کا سر اللہ کی عدالت میں شرم سے جھکے گا کہ نہیں؟ یا گناہوں کی کثریت سے جنرل (ر) مشرف (ر) مشرف کا دل بالکل مردہ ہو چکا اب شاید توبہ کی توفیق بھی نہ ملے؟