صحرا میں جیسے سایۂ اشجار ڈھونڈیئے

27 اگست 2009
گوجرانوالہ کے ریجنل پولیس افسر ذوالفقار چیمہ ایک دیانت دار، فرض شناس اور جرأت مند انسان ہیں۔ ہر محب وطن پاکستانی کی طرح وہ قائداعظمؒ کے مداح بلکہ عاشق ہیں۔ اس سال انہوں نے 14 اگست کے حوالے سے گوجرانوالہ ڈویژن کے تقریباً ہر ضلع میں تقریبات کا انعقاد کیا۔ اس طرح کی تقریبات جن میں پاکستان کی آزادی کے حوالے سے قائداعظمؒ اور تحریک پاکستان کے دیگر رہنماؤں کو خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہئے، کا انعقاد سیاسی جماعتوں کی اولین ذمہ داری ہے لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ دوسری جماعتوں کا تو کیا ذکر پاکستان کی بانی جماعت مسلم لیگ کے کسی گروپ کو بھی ضلع اور تحصیل کی سطح پر یومِ آزادی کی تقریبات کے اہتمام کی توفیق نہیں ہوئی۔
یومِ آزادی کے سلسلہ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی آئی جی ذوالفقار چیمہ نے ادبی اسلوب میں بہت خوبصورت باتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری یہ ’’تمام ممبریاں، وزارتیں، جائیدادیں، عہدے اور اختیارات کے چاند ستارے قائداعظم محمدعلی جناحؒ اور ان کے ساتھیوں کی جوتیوں کی بدولت ہیں۔ یہ ملک بیشمار قربانیوں کے نتیجہ میں ایک مقدس مہینہ رمضان کی مقدس رات اور مبارک دن میں معرضِ وجود میں آیا۔ ہمیں کھلیانوں، ایوانوں اور پٹوارخانوں سے لیکر تمام شعبوں تک انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا اور انصاف دینے کی سب سے زیادہ ذمہ داری پولیس کے شعبہ پر عائد ہوتی ہے۔ آج کے بعد اگر کسی تفتیشی افسر نے مدعی یا مظلوم سے پیسے مانگے تو اس تفتیشی افسر کو نہ صرف ملازمت سے برخواست کر دیں گے بلکہ اس کیخلاف مقدمہ درج کرکے اسے جیل میں ڈال دیں گے‘‘
ذوالفقار چیمہ صاحب کے درج بالا خیالات سے کس کو اتفاق نہ ہو گا لیکن محکمہ پولیس کے عمل کا اگر جائزہ لیا جائے تو افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ چیمہ صاحب کے خیالات اور ان کے محکمہ پولیس کے عمل کے درمیان ناقابلِ عبور خلیج موجود ہے۔ قانون نے پولیس کو اتنے زیادہ اختیارات دے رکھے ہیں کہ سب سے طاقتور سول محکمہ یہی ہے۔ پولیس کو حددرجہ طاقتور اور بااختیار بنانے کی وجہ یہ ہے کہ یہ طاقت اور اختیار مظلوم کے حق میں استعمال ہو اور ظالم کیخلاف مظلوم کی ڈھال بن جائے لیکن تھانوں میں ’’ظالم‘‘ اور مظلوم دونوں کو ایک آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ ’’ظالم‘‘ سے رشوت لینا بھی جرم ہے لیکن مظلوم سے رشوت لینا ایسے ہی ہے جیسے مردے کا کفن اتار کر بیچ ڈالنا اور تھانوں میں ایسا ہی ہو رہا ہے۔ ذوالفقار چیمہ کی خوشنما تقریریں اور ذاتی ایمانداری قابلِ تعریف ہے لیکن جب وہ یہ کہتے ہیں کہ آج کے بعد اگر کسی پولیس افسر نے مظلوم سے رشوت لی تو اسے محکمہ پولیس سے فارغ کر دیا جائیگا اور اسے جیل بھی جانا ہو گا تو میں تصور کی آنکھ سے تھانوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ کیا واقعی آج کے بعد کسی تھانے میں کسی مظلوم سے کوئی تفتیشی افسر رشوت نہیں لے گا۔ کیا آج کے بعد واقعی تھانوں میں کسی شریف کی پگڑی نہیں اچھالی جائیگی اور کیا واقعی بدمعاش اور غنڈے تھانے میں داخل ہو کر خوف محسوس کریں گے۔ تھانوں میں رشوت اور تشدد کا چلن اگر ختم ہو جائے تو پولیس کا محکمہ معاشرے میں عزت اور افتخار کا نشان بن سکتا ہے۔ پولیس کا شعبہ دوسرے محکموں کے مقابلے میں اگر بدنام ہے تو رشوت اور تشدد کی وجہ سے ہے۔ رشوت لینے میں تمام سرکاری محکموں کے ملازمین ایک دوسرے سے بڑھ کر ہوں گے لیکن پولیس کے پاس ناجائز گرفتاری اور تشدد کا جو ہتھیار ہے اس کا استعمال بڑی دیدہ دلیری سے کیا جاتا ہے۔ پولیس کے اعلیٰ اور بالخصوص سی ایس ایس پولیس افسر اگر مکمل طور پر نہیں تو محکمہ پولیس میں تشدد اور رشوت کے موجودہ حجم میں پچاس فیصد تک بھی کمی لے آئیں تو پورے معاشرے پر اس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ورنہ موجودہ محکمہ پولیس کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ہمیں احمد صغیر صدیقی کا یہ شعر ہی درست معلوم ہوتا ہے۔
؎ اس دورِ کم نگاہ میں انصاف کی تلاش
صحرا میں جیسے سایۂ اشجار ڈھونڈیئے