کل اور آج

27 اگست 2009
رفیق غوری ۔۔۔
ہم دیہاتی تو یہ کہتے اور سمجھتے ہی تھے کہ ’’خدا نیڑے کہ کُسن‘‘ مگر ہمارے آج کے حکمران نے جنرل پرویز مشرف کو آرٹیکل 6 کے تحت قرار واقعی سزا دینے کی بجائے حسب ضرورت اور حسب سابق لیت و لعل سے کام لیا تو ہمیں بہت کچھ یاد آ گیا۔ مثلاً جس طرح ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کو مکمل پروٹوکول کے ساتھ بیرون ملک روانہ کیا گیا کہ موصوف باہر جا کر جو مرضی کہیں یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح 16 دسمبر 1971ء کے بعد پاکستان کو دولخت کرنے والے ایک مجرم شیخ مجیب الرحمن کو بچاکر لندن پہنچایا گیا تھا۔ البتہ شیخ مجیب الرحمن کو جاتے وقت جو پروٹوکول کی کسر باقی رہ گئی تھی وہ لاہور میں اسلامی کانفرنس کا انعقاد کرکے بعد میں شیخ مجیب الرحمن کو ڈھاکا سے بلا کر پوری کر لی گئی تھی۔ تب موصوف کا اس طرح استقبال کیا گیا اسی طرح پروٹوکول کا اہتمام کیا گیا۔ جس طرح جنرل پرویز مشرف کو ایوان صدر سے جاتے وقت دیا گیا میرے جیسے کچھ لوگوں کو اس پر تاسف ، پریشانی ہے دکھ بھی ہے مگر wherethe shoes Pinches والی بات ہی ہے کہ ہمارے صدر مملکت اور وزیراعظم کو ہی صحیح طرح معلوم ہے کہ ان پر کن کا دباؤ اور ایسے مواقع پر کیا کیا۔ کہاجاتا ہے، اور کیسے کہا جاتا ہے اور ماضی میں بھی کہیں بیان کی ہوئی باتیں کیسے واپس لی جاتی ہیں۔ سقوط ڈھاکا کے بعد ہی ایک غیر ملکی اخبار نویس خاتون اریانہ فلاسی جس کی انٹرویو کرنے کی بڑی مشہوری تھی دنیا کی مشہور شخصیات موصوفہ کو انٹرویو دینے کا تفاخر حاصل کیا کرتی تھیں۔ امام خمینی، یاسر عرفات جیسی شخصیات نے بھی بی بی اریانہ فلاسی کو انٹرویو دیئے اور تب کی دنیا میں اپنی بات پہنچائی تو جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے بھی اسے انٹرویو دینے اور اپنی بات دنیا تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔ انٹرویو ہو گیا اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے دو قومی نظریہ کو خلیج بنگال میں ڈوبنے کا دعویٰ کرنے والی آنجہانی اندراگاندھی کو تمام باتیں سنا کر اپنے دل کی بھڑاس نکال لی۔ جو تمام دکھی دلوں میں تھیں مگر چونکہ وطن عزیز آج کی طرح گھمبیر صورت حال سے ہی دوچار تھا اسی سبب اس کوشش کا تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ جو باتیں محض جذبات میں آ کر کہہ دی گئیں ملک کے بہترین مفاد میں انٹرویو نگار (اریانہ فلاسی) ان کی تردید کر دیں کہ گویا یہ باتیں کی ہی نہیں گئیں۔ ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے پہلے انٹرویو دیتے ہوئے جذباتی لب ولہجہ اختیار کیا اور بعد میں اریانہ فلاسی کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہ دو ممالک کے تعلقات کا معاملہ تھا جن سے خطہ کا امن بھی وابستہ تھا یہ کہانی اگر ذہن میں رکھی جائے تو آج کی کہانی کا پورا نہیں تو تھوڑا سکرپٹ بھی ذہن میں آ سکتا ہے اور معلوم ہو جاتا ہے کہ ملک کے بہترین مفاد میں پہلے جو کچھ کہا جاتا ہے جو دعوے کئے جاتے ہیں بعد میں انہیں واپس لینا کیوں ضروری معلوم ہو جاتا ہے۔ ان تمام باتوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ تب یہ کام تب کے پرنٹ میڈیا کے ذریعے کیاجاتا تھا جبکہ اب چونکہ ہم گلوبل ویلیج کا حصہ ہو گئے ہیں اسی سبب الیکٹرانک میڈیا کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ جب اریانہ فلاسی کو انٹرویو دیا گیا تو سرد موسم تھا اور کچھ لوگ شعیب بن عزیز کے شعر کو ذہن میں رکھ کر کہہ رہے تھے؎
اب اداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں
اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
کچھ لوگ گرم موسم اور ماحول کے جس میں یہ سوچ سکتے ہیں کہہ سکتے ہیں کہ شاعر کا یہ شعر بر محل نہیں تو انہیں کسی اور شعر کے ذریعے قائل کیا جا سکتا ہے۔
دیکھنا ہے اور کتنے روز جمتی ہے بساط
میں اکیلا سربکف ہوں ایک جہاں ہے سامنے (نجیب احمد)
مگر ان لوگوں کو یہ خیال بھی آنا چاہئے کہ آج 1972ء نہیں بلکہ 2009ء اور ذوالفقار علی بھٹو کی جگہ صدر آصف علی زرداری ہیں اور وزارت عظمٰی سید یوسف رضا گیلانی کے ہاتھ میں ہے۔ ہمارے حکمران جو مناسب سمجھ رہے ہیں کر رہے ہیں مگر ہم عوام بھی تو پہلے سے زیادہ آگاہ ہو گئے ہیں۔ گلوبل ویلیج میں آکر ہم بڑے چالاک اور دنیادار ہو چکے ہیں اور آزاد میڈیا ہمیں کافی معلومات دے رہا ہے جن میں ضروری اور غیر ضروری دونوں شامل ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہم بے بس ہیں جب کبھی ووٹ ڈالنا ہو ووٹ ڈال سکتے ہیں ،بسں!