چہ قلندرانہ گفتم

27 اگست 2009
اصغر ملک......
ریڈیو پاکستان کی سٹاف یونین جو 36 سال بعد بحال ہوئی ہے اس کی حلف برداری کی تقریب میں کوئٹہ پشاور اور کراچی یونین کے نمائندے بھی ریڈیو پاکستان لاہور کی اس تقریب میں شریک ہوئے اور اس تقریب کے مہمان خصوصی ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل غلام مرتضی سُولنگی تھے جنہوں نے سٹاف یونین کے صدر حاجی محمد یوسف اور جنرل سیکرٹری عباس ملک اور دیگر کو مبارک باد پیش کی اور دوران خطاب انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کے کارکن میرے ساتھی اور بھائی ہیں اور ہم سب نے مل جل کر اس قومی ادارے کے پروگراموں میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے کوشاں رہنا ہے کیونکہ آج کا دور الیکٹرونک میڈیا کا دور ہے اور اس مقابلے کی زبردست فضا میں یہ ثابت کردیا ہے کہ ریڈیو پاکستان کے پروگراموں کی ایک علیحدہ پہچان ہے اور اس قومی ادارے نے اپنے پروگراموں میں محبت شائستگی اور آداب کا دامن کبھی نہیں چھوڑا اور نہ ہی ہمسایہ ملک کے فلمی گیتوں وغیرہ کا سہارا لے کر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ ہم بڑے کامیاب جا رہے ہیں ہم نے پاکستان کلچر ثقافت اور نظریہ پاکستان کو پروموٹ کیا ہے اور آج کے جدید تقاضوں کے مطابق پروگراموں کو ڈھال کر پیش کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سابقہ دور حکومت کے سفارشی اور منہ زور چند ملازمین جو عرصہ دراز سے یہاں تعینات تھے ان کو ٹرانسفر کیا ہے اور یہ کہہ کر کیا ہے ٹرانسفر ملازمت کا حصہ ہوتی ہے اور کچھ ملازم جو ریڈیو لاہور کو حلوائی کی دوکان سمجھ کر حلوہ کھا رہے تھے ان کی تحقیقات کے کمیٹی بنا دی ہے اور کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں باز پرس کی جائے گی۔ جہاں تک ریڈیو پاکستان لاہور کے میڈیم ویوز ٹرانسمیٹر کا تعلق ہے تو وہ اتنا پرانا اور خستہ ہوچکا تھا کہ اس کو مرمت کروانا روپے ضائع کرنے والی بات تھی لہذا انجینئرنگ ونگ کے افسران کے فیصلے کے مطابق جلد میڈیم ویوز نیا ٹرانسمیٹر منگوایا جارہا ہے لیکن اس کی جگہ وقتی پھر ڈیجٹیبل ٹرانسمیٹر ایف ایم 93 جو پانچ کلوواٹ ہے جس کا دائرہ نشریات ڈیڑھ سو کلومیٹر تک صاف سنائی دے رہا ہے اور لو گ موبائل فون موٹر گاڑیوں وغیرہ پر لاہور کی نشریات سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور چند ماہ تک ہر ضلع میں نئے بوسٹر لگا اس کی نشریات پنجاب سے باہر تک پھیلا دی جائیں گی دوسری بات جو 21 اگست کو تین بجے سہ پہر ریڈیو پاکستان لاہور کے اسٹیشن ڈائریکٹر سردار علی خان کے بقول نہ تو کسی اناؤنسر یا کمپیئر کو پروگراموں سے روکا گیا ہے اور نہ ہی ملازمین کی چھانٹی کی جا رہی ہے جبکہ ڈی جی ریڈیو پاکستان کی ہدایت کے مطابق فری لانسر اناؤنسروں کو پہلے کی طرح ڈیوٹی آفیسر اور کچھ کو فیلڈ میں مختلف تقریبات کے لئے موبائیل فون کے ذریعے آنکھوں دیکھا حال براہ راست نشر کرنے کے لئے بھیجا جائے گا پھر تجربہ کار حضرات کو چھوڑ کر نئے لوگوں کی تربیت پر بڑا وقت درکار ہوگا ڈی جی ریڈیو پاکستان نے موجودہ سنیئر براڈ کاسٹروں اور اناؤنسروں کو ریڈیو کا اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان فلاح کے لئے بہت اہم اعلان کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ فن کار کبھی ریٹائر نہیں ہوتا اور سینئر فن کاروں کے بغیر الیکٹرونک میڈیا کے پروگراموں کو مقبول نہیں بنایا جا سکتا۔