دارلخلافہ کو سازشوں سے بچائیں

27 اگست 2009
ملک حبیب اللہ بھٹہ (بہاولپور) .malikhabibullahbhutta@gmail.com
چند حوالے تحریر کر رہا ہوں ایک تو میری پہچان میں آسانی ہو دوسرا جن مسائل کا حل قوم اور حکمرانوں کے سامنے پیش کرنے لگا ہوںاس پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے۔
۱۔ محترمہ فاطمہ جناح جب صدارتی امیدوار کے طورپر بہاولپور تشریف لائیں تو سب سے پہلے پھول پیش کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوامیں نے انکے جلوس کی قیادت کی ‘ انہیں کھلا ووٹ بہاولپور میں صرف میں نے دیا ، جنرل ایوب کیخلاف جب استعفوں کی تحریک چلی توایکس آفیشو ممبر میونسپلٹی بہاولپور سے میرا استعفیٰ پاکستان کے چند پہلے استعفوں میں سے ایک تھا۔ جب ذوالفقار علی بھٹو شہید 1968ء میں جنرل اکبر خاں مرحوم ، مصطفے کھر اورحئی سنز کے رفیع منیر کے ہمرا غریب خانہ پر تشریف لائے تو راقم الحروف نے انہیں اسلامی سوشلزم پر بریفنگ دی جسے اپنانے پر پارٹی چاربار حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی یہ تاثر غلط ہے کہ انہیں کسی مولوی نے اسلامی سوشلزم کی اصطلاح دی ان کی میزبانی ،جلسے کے انتظامات اور صدارت کرنے کی پاداش میں جھوٹے مقدمہ کو تین سال تک عدالت میں بھگتنا پڑا ۔ شہید بھٹو کی سر شست میں نہیں تھا کہ وہ پارٹی چھوڑنے والے کو منائیں لیکن یہ اعزاز صرف مجھے حاصل ہے ۔شہید بھٹو کے بہاولپور کو پنجاب کا اٹوٹ انگ کہنے پر پارٹی چھوڑی ۔پہلی دفعہ مصطفیٰ کھر، انکے بعد نواب بہاولپور کے اے ڈی سی کرنل خانزادہ مرحوم اور 70ء کے انتخابات کے بعدملک معراج خالد مرحوم رائو عبد الستار مرحوم جو ڈپٹی چیئر مین سینٹ بنے افضل وٹوجوسینئر وزیر پنجاب بنائے گئے اور قاضی شاہد سابق سینیٹر مجھے پارٹی میں واپس لانے کیلئے غریب خانہ پر تشریف لائے۔انہوں نے مجھے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کیلئے تین دن دیئے،تیسرے دن میں نے انکار کر دیا ۔
1975ء سرکٹ ہائوس بہاولپور میں ساڑھے تین روزہ قیام کے دوران ون ٹو ون ملاقات کا شرف شہید بھٹو نے صرف مجھے دیا۔ مجھ سے پارٹی پوزیشن دریافت کی میں نے بتایا کہ 70ء کی پوزیشن نہیں ہو گی۔ آپکو آئندہ انتخابات کیلئے موزوں امیدوار میدان میں اتارنے پڑینگے ۔ انہوں نے حیرانی سے پھر پوچھا کیا پارٹی پوزیشن کمزور ہو گئی ہے ؟میں نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے دراصل عوام کو آپ نے سیاسی شعور دیا ہے۔ کاش! میرے مشورے پر عمل کرتے ہوئے چند غیر مقبول امیدواروں کو نظر انداز کر کے صاف شفاف انتخابات کراتے تو کامیابی پھر بھی پیپلز پارٹی کی یقینی ہوتی۔
1977ء میں جب شہید بھٹو حکومت کے خلاف تحریک کی وجہ سے لاہور میں کرفیو نافذ کیا گیا تو راقم الحروف نے کرفیو کے دوران نیو مسلم ٹائون تار گھر سے گورنر ہائوس میں قیام پذیر شہید بھٹو کو تار کے ذریعے آگاہ کیا کہ آپ پی این اے لیڈر شپ سے مذاکرات کے بجائے عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران عوام سے پوچھیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں اسی اجتماع میں ریفرنڈم کرانے کا اعلان کر دیں ۔ اگلے روز انہوں نے ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب کے دوران بتایا کہ انہیں ریفرنڈم کرانے کی تجویز ملی ہے لیکن میں پارلیمنٹ کو قربان نہیں کر سکتا ۔چند دنوں بعد ریفرنڈم کرانے پر آمادگی کا اظہار کیا لیکن وقت ساتھ چھوڑ چکا تھا۔دوبارہ گرفتاری سے پہلے میری آخری ملاقات لاڑکانہ میں ہوئی انہوں نے ضیاء الحق کے90دنوں میں انتخابات کرانے پر تاریخی جملہ کہا کہ انقلاب تو آ سکتا ہے انتخاب نہیں ۔
1979ء میں فٹ بال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ پر میاں نواز شریف کو ڈرنگ اسٹیڈیم کے سوئمنگ پول پر بہاولپور میں پہلا شاندار استقبالیہ دینے کا اعزاز بھی مجھے حاصل ہے میاں صاحب نے اس استقبالیہ کا ذکر کرتے ہوئے لاہور کے ایک ریسپشن میں کہا کہ میزبانی کا ڈھنگ بہاولپوریوں سے سیکھو۔انکا دور ِحکمرانی ہویا میاں شہباز شریف کا اپنے بیٹے نجیب اللہ ملک سابق چیف سیکرٹری پنجاب کی پوسٹنگ تک کیلئے کبھی نہیںکہا۔ حتیٰ کہ بہاولپور میں اپنا قیمتی گھر گرانے والے حکمرانوں کا بھی محض اصولوں کی بنیاد پر ساتھ دے رہا ہوں اور گھر گرائے جانے کیخلاف دادرسی کیلئے عدالت سے رجوع کر چکا ہوں۔خود ساختہ جلا وطنی سے پہلے شہید بے نظیر بھٹو صاحبہ نے بہاولپور اپوزیشن جلسے کو خطاب کرنا تھا میرے غریب خانہ پر انکے قیام کا بندوبست تھا عین موقع پر دورہ منسوخ ہو گیا تاہم سینیٹر رضا ربانی اور قاسم ضیاء نے میرے ہاں قیام کیا۔ نوائے وقت کے کالم کے ذریعے دنیا کو آگاہ کیا کہ آئندہ جنگیں پانی پر ہونگی پاکستان پہلے ہی حالت جنگ میں ہے ۔ اس وقت کے اسلامیہ یونیورسٹی کے استاد آج پاکستان کے یمن میں سفیر نے مضمون پڑھا تو حیرت زدہ رہ گئے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ پاکستانی لیڈر شپ بشمول میاں نواز شریف بھارت سے دوستی کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے جبکہ پانی کا مسئلہ صرف جنگ کے ذریعے حل ہو گا۔
1998ء میںواجپائی سابق وزیر اعظم بھارت نے علامتی طور پر پنجاب کے پانچ دریائوں کا پانی سندھ میں بہاتے ہوئے بیان دیا کہ یہ پانی ہمارے درمیان نفرتوں کی سرحد یں گرا دینگے چند روز بعد کالم کے ذریعے قوم کو آگاہ کیا کہ بھارت ہمارے دریائوں پر ڈیم تعمیر کر کے پاکستان کو بنجر بنانے کی سازش کریگا۔زراعت کیلئے تو کجا دریائے راوی اور ستلج کی ری چارجنگ نہ ہونے کی وجہ سے زیر زمین پانی میں کیمیکل شامل ہو جائیگا جس کی وجہ سے دریائے راوی اور ستلج کے علاقوں کے انسانوں کیلئے پینے کا صاف اور شفاف پانی میسر نہیں ہو گا۔
جس مسئلہ پر توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جب درا لخلافہ کراچی تھا تو اسے سندھ نے یرغمال بنایا ہو ا تھا اس وقت کی حکومتوں کیخلاف تمام سازشیں کراچی سے ہوئیں آج درا لخلافہ پنجاب میں ہے توسازشوں کا محور پنجاب ہے ۔پارلیمنٹ سے دو کلو میٹر فاصلے پر پنجاب کی سرحد فیض آبادسے شروع ہو جاتی ہے ۔ ریلی لاہور سے نکل رہی ہوتی ہے تو سیاسی کپکپی اسلام آباد میں محسوس ہونے لگتی ہے دارلخلافہ کو سازشوں سے محفوظ کرنے کیلئے اسلام آباد کی حدود اٹک کے پل سے دریائے جہلم کے پل تک اور ضلع میانوالی بھی دارلخلافہ کی حدود کے اندر ہونا چاہیے اگر کرکٹ کی وجہ سے ضلع میانوالی اسلام آباد زون میں شامل کیا جا سکتا ہے تو انتظامی طور پر کیوں شامل نہیں کیا جا سکتا اس سے دارلخلافہ سازشوں سے نہ صرف محفوظ ہو جائیگا بلکہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر مرکزی حکومت کے تحت ہو سکے گی ۔ پانی کی تقسیم اور پاور جنریشن کی آمدنی کی تقسیم دونوں مرکز کریگا۔