A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

فرینڈز آف پاکستان سے متوقع امداد میں مایوسی......اپنے وسائل پر تکیہ ہی قومی مفاد ہے

27 اگست 2009
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سوات اپریشن کے حوالے سے پاکستان کیلئے اعلان کی گئی اربوں ڈالر کی امداد فوری طور پر فراہم کرے تاکہ شدت پسندی کیخلاف کی گئی کارروائی میں حاصل اہداف اور کامیابی کو برقرار رکھا جا سکے۔ گزشتہ روز استنبول میں فرینڈز آف پاکستان کے اجلاس کے موقع پر ایک خبررساں ایجنسی ’’رائٹر‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے باور کرایا کہ طالبان کیخلاف جاری جنگ کی وجہ سے پیدا شدہ بحران سے نمٹنے کیلئے ہمیں وعدے کے مطابق امداد کی جلد فراہمی درکار ہے‘ جبکہ پاکستان کو اب تک صرف تین سو ملین ڈالر کی امداد ملی ہے۔ انکے بقول ہمیں عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے وسائل درکار ہیں۔ ہم نے 20 لاکھ سے زائد بے گھر افراد کے مسائل سے نمٹنے کیلئے اپنے وسائل سے 8 سو ملین ڈالر مختص کئے تھے‘ جن میں سے دو سو ملین ڈالر پہلے ہی خرچ ہو چکے ہیں جبکہ 20 لاکھ افراد کیلئے روزگار اور تباہ شدہ ڈھانچہ اب حکومت کیلئے بڑا چیلنج ہے۔
فرینڈز آف پاکستان کے اس اجلاس میں اگرچہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا گیا ہے‘ مالاکنڈ پراجیکٹ کی منظوری کے علاوہ ٹوکیو کانفرنس میں کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد پر اتفاق کیا گیا ہے اور پاکستان کو دہشت گردی کیخلاف جنگ سمیت تمام مسائل کے حل میں تعاون کا یقین بھی دلایا گیا ہے تاہم وزیر خارجہ کی گفتگو سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ ٹوکیو ڈونرز کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ کئے گئے امداد کے وعدے ایفاء ہونے کی جو توقعات باندھ کر استنبول کی کانفرنس میں شریک ہوئے ہیں‘ وہ پوری نہیں ہو سکیں۔ اگرچہ ان وعدوں کی تکمیل کیلئے ضامن کا کردار ادا کرتے ہوئے امریکی صدر اوبامہ کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک بھی اس کانفرنس میں موجود تھے مگر اس کانفرنس سے عقدہ یہی کھلا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر ہمیں اپنے مفادات کی جنگ میں جھونکنے والے امریکہ سمیت کسی بھی ملک نے پاکستان کے ساتھ کئے گئے اربوں ڈالر کی امداد کے وعدوں کو ایفاء کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لی اور بقول وزیر خارجہ ہمیں اب تک صرف تین سو ملین ڈالر کی امداد ملی ہے جس سے ایک تو ہماری خارجہ پالیسی کی ناکامی کی غمازی ہوتی ہے اور دوسرے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ دوسروں پر انحصار کرکے پرائی آگ میں کودنا خود کو ہی جھلسانے کے مترادف ہے۔ ہم نے اس خطہ میں امریکی مفادات کی جنگ کو اپنی جنگ بنا لیا اور امریکی ڈکٹیشن قبول کرتے اور اسکے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس وطن عزیز کو بدترین دہشت گردی کی جانب دھکیل دیا جبکہ امریکہ نے اپنے مفادات کی خاطر یہاں کبھی امن و امان کی فضاء قائم نہیں ہونے دی۔ حکومت کی جانب سے قبائلی عمائدین کے جرگوں کے ذریعے جب بھی مقامی طالبان اور عسکریت پسندوں کے ساتھ قیام امن کیلئے پیش رفت کی جاتی‘ امریکی ڈرونز کے حملے کرکے قیام امن کی ان کوششوں کو سبوتاژ کردیا جاتا جبکہ سوات‘ مالاکنڈ ڈویژن میں نظام عدل ریگولیشن کے نفاذ کی صورت میں سرحد حکومت اور تحریک نفاد شریعت محمدی کے مابین طے پانے والے معاہدے کے بعد تو وہاں امن و امان کی فضاء بحال ہو گئی تھی اور پورے ملک میں مٹھائیاں تقسیم کی جا رہی تھیں کہ امریکی سازش کے تحت اس معاہدے کو بھی سبوتاژ کردیا گیا اور پھر سوات میں فوجی اپریشن شروع کراکے ایک تو ہماری سالمیت کیخلاف ہمارے دشمن بھارت کو اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کا موقع فراہم کیا گیا اور دوسرے اس اپریشن کے نتیجہ میں 30 لاکھ سے زائد شہری اپنے ہی وطن میں بیٹھے بٹھائے بے گھر ہو گئے جبکہ اس اپریشن کے ردعمل میں ملک بدترین دہشت گردی کی لپیٹ میں بھی آگیا۔ پھر بھی دہشت گردی کے تدارک کیلئے امریکی تقاضوں میں کمی نہ آئی اور اسکی جانب سے اپریشن کا دائرہ کار جنوبی وزیرستان تک بڑھانے کا تقاضہ بھی کیا جانے لگا۔ جبکہ بلوچستان کو اپریشن کی زد میں لانے کی امریکی فرمائش بھی سامنے آچکی ہے اور امریکی سرپرستی میں ہمارے شاطر دشمن بھارت نے تو دہشت گردی کے خاتمہ کی آڑ میں ہم پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے اور فدویانہ کارروائیوں کے تقاضے کرنے میں کوئی کسر ہی نہیں چھوڑی۔
ہمارے حکمرانوں نے یہ ساری فرمائشیں اس آس میں پوری کیں اور ابھی تک امریکی احکام کی تکمیل کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیںکہ اسکے عوض اربوں ڈالر امداد کے جو وعدے کئے گئے ہیں‘ وہ پورے ہوں گے تو متاثرین سوات اپریشن کی بحالی کے ساتھ ساتھ دگرگوں قومی معیشت کو بھی سنھبالا دے دیا جائیگا۔ اس مقصد کی خاطر ہمارے حکمران کشکول اٹھا کر غیروں کے درپر در بدر ہوتے رہے مگر ان ساری کاوشوں کا نتیجہ صفر ہی برآمد ہوا ہے جبکہ قومی بجٹ میں بھی اس متوقع بیرونی امداد پر ہی انحصار کیا گیا تھا کیونکہ متعدد ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہی یہ امداد ملنے پر ہونا ہے۔ اسکے برعکس حقیقت یہ ہے کہ امداد نہ ملنے کے باعث متاثرین سوات اپریشن کی بحالی ہی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خود تسلیم کر رہے ہیں کہ سوات اپریشن سے بے گھر ہونے والے 20 لاکھ سے زائد شہریوں کے تباہ حال گھروں اور کاروبار کی بحالی بھی ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی اور ان بے گھر شہریوں کے مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ اس طرح فوجی اپریشن کرکے اپنا نقصان بھی کیا گیا۔ پاک فوج اور عوام کے مابین قائم اعتماد کے رشتے کو بھی کمزور کیا گیا۔ ردعمل میں ہونے والی دہشت گردی سے بھی قومی جانی و مالی نقصان ہوا اور اب متاثرین اپریشن کی بحالی کی ذمہ داری بھی ہم پر ہی آن پڑی ہے‘ گویا ’’اس عاشقی میں عزت سادات بھی گئی‘‘۔
اپنے لئے قبول کی گئی اور اٹھائی گئی ان ہزیمتوں کے بعد تو ہمارے حکمرانوں کو کم از کم کشکول توڑ ہی دینا چاہئے اور خود کو امریکی مفادات کی جنگ سے فی الفور باہر نکال کر اپنے وسائل سے متاثرین اپریشن کی بحالی کی جانب توجہ دینی چاہئے۔ لاکھوں متاثرین اپریشن کو جن کے گھر بار‘ کاروبار سب کچھ تباہ ہو چکا ہے‘ معمولات زندگی کی جانب واپس لوٹانا بلاشبہ انتہائی کٹھن مرحلہ ہے مگر ہم بیرونی امداد پر تکیہ کئے بیٹھے رہے تو انکے مسائل مزید بڑھیں گے۔ نتیجتاً ہماری معیشت پر بھی مزید بوجھ بڑھے گا‘ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ’’فرینڈز آف پاکستان‘‘ کی متوقع امداد پر تکیہ کرنے کے بجائے متاثرین اپریشن کی بحالی کیلئے اپنے وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ اس سلسلہ میں ضروری ہے کہ ایک قومی فنڈ قائم کرکے صدر اور وزیراعظم پہلے خود اپنی جیب سے اس فنڈ میں خاطرخواہ رقم جمع کرائیں اور پھر مخیر حضرات اور قوم سے اس فنڈ میں زیادہ سے زیادہ حصہ ڈالنے کی اپیل کریں۔ ادارہ نوائے وقت نے پہلے ہی متاثرین اپریشن کی بحالی کیلئے پچاس لاکھ روپے خود ڈال کر فنڈ قائم کیا ہے جس سے اس ہزار روپے فی کس کے حساب سے متاثرین اپریشن کی امداد کی جا رہی ہے اور اس فنڈ سے اب تک 607 متاثرہ خاندانوں کی مالی اعانت کی جا چکی ہے۔ اسی طرح اگر دیگر اداروں اور حکومت کی اپنی سطح پر متاثرین اپریشن کی بحالی کی کاوشیں کی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں بیرونی امداد پر تکیہ کرنا پڑے جبکہ اس امداد کے عوض ہمیں قومی غیرت اور مفادات کے تقاضوں کے منافی شرائط کے ساتھ بھی باندھ دیا جاتا ہے۔ اس لئے اب بیرونی امداد کے حقیر ٹکڑوں کے حصول کیلئے نام نہاد فرینڈ آف پاکستان کے وعدوں کے ایفاء ہونے کا کسی دوسری ڈونرز کانفرنس تک انتظار نہ کیا جائے اور امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی والا کردار ترک کرکے خودانحصاری کی بنیاد پر ملک کی تعمیرنو کا آغاز کر دیا جائے‘ یہی ہماری قومی ضرورت اور قومی مفادات کا تقاضہ ہے۔
پاکستان کا قیام قائداعظم کی ہی جدوجہد کا ثمر ہے
بھارت میں سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس کے سابق سربراہ سدرشن نے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ قوم پرست تھے‘ وہ پہلے وطن پرست تھے لیکن وہ بعد میں ناراض ہو گئے۔ وہ متحدہ بھارت کے حق میں تھے‘ سدرشن نے اندور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہندوستان کی تقسیم کے ذمہ دار قائداعظم نہیں‘ گاندھی تھے۔ قائداعظم یقیناً کسی دور میں متحدہ ہندوستان اور ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے‘ لیکن ہندوئوں کے خبث باطن کے اظہار کے بعد وہ قائل ہوگئے کہ انگریز سے آزادی کے بعد مسلمانوں کیلئے بندر کی غلامی کا آغاز ہو گا اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں کیلئے آزاد مملکت کے قیام کی خاطر دن رات ایک کر دیا۔ ان سے بھی ایک مرتبہ سوال کیا گیا تھا کہ آپ تو کبھی ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے‘ ان کا جواب تھا میں کبھی پرائمری میں بھی پڑھتا تھا۔
جسونت سنگھ اور سدرشن جسے لوگ اپنے نکتہ نظر سے گاندھی وغیرہ کو تقسیم ہند کا ذمہ دار قرار دے کر انکی نالائقی اور نااہلی کا ماتم کر رہے ہیں۔ یہ ان کا موقف ہو سکتا ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا قیام حضرت قائداعظم کی عظیم ترین جدوجہد کا ہی ثمر ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو کی ہمشیرہ مسز وجے لکشمی پنڈت نے قائداعظم کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا: ’’اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندھی اور ابوالکلام آزاد ہوتے اور کانگریس کے پاس صرف ایک لیڈر محمدعلی جناح ہوتا تو ہندوستان کبھی تقسیم نہ ہوتا۔‘‘
متعصب ہندوئوں کو اس حقیقت کو تسلیم کرلینا چاہئے کہ اس وقت کی ہندو قیادت کی پوری کوششوں اور سازشوں کے باوجود قائداعظم کی فہم و فراست اور دانش و حکمت کی وجہ سے پاکستان وجود میں آیا۔
آئین کیمطابق صوبائی خودمختاری ہر صوبے کا حق ہے
جمہوری وطن پارٹی لاہور کے صدر زاہد چودھری نے کہا ہے کہ ہم اپنے قائد نواب اکبر بگتی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 1973ء کے آئین میں رہ کر صوبوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں اور ہم وفاق پاکستان میں رہتے ہوئے ہی صوبوں کے حقوق چاہتے ہیں۔ گزشتہ روز ایوان وقت میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ لاہور سے ڈیرہ بگتی تک لانگ مارچ میں نوابزادہ شاہ زین بگتی کے ہمراہ میاں نواز شریف‘ سید منور حسن‘ عمران خان اور دیگر قومی قائدین بھی شرکت کرینگے۔ آئین میں متعین کردہ صوبائی خودمختاری بلاشبہ ہر صوبے کا حق ہے اور اگر آئین کیمطابق صوبوں کو خودمختاری دیدی گئی ہوتی تو کسی صوبے میں نہ محرومی کا احساس ہوتا نہ مرکز گریز عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی۔ فوجی آمریتوں کے دور میں بدقسمتی سے ملک کے دساتیر کا ہی حلیہ بگاڑا جاتا رہا ہے‘ اس لئے کسی ایک صوبے کو تو کجا‘ پورے ملک کے عوام کو انکے بنیادی آئینی حقوق سے محروم کیا جاتا رہا ہے۔ بلوچستان کے مسائل بلاشبہ گھمبیر ہیں‘ جو زیادہ تر مشرف آمریت ہی کے پیدا کردہ ہیں جبکہ اب بلوچ صدر مملکت آصف علی زرداری کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وفاق کی علامت کے طور پر بلوچستان سمیت تمام صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کریں اور بالخصوص بلوچستان کی محرومیاں دور کرنے کیلئے اقدامات بروئے کار لائیں۔ اگر وہ مشرف کے قومی جرائم پر ان کیخلاف آئین و قانون کا پراسس شروع کرادیں تو اس سے بھی بلوچ عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے میں مدد مل سکتی ہے کیونکہ نواب اکبر بگتی کے داماد نواب جمیل بگتی بھی مشرف کیخلاف نواب اکبر بگتی کے قتل کے مقدمہ کے اندراج میں بمشکل تمام تین سال بعد کامیاب ہوئے ہیں اور یہ کارروائی بھی عدالتی حکم پر ممکن ہوئی ہے۔
کرائے کے بجلی گھروں کی ضرورت
وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ حکومت بجلی کی کمی دور کرنا چاہتی ہے اور کوشش کر رہی ہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کا استعمال کم ہو کیونکہ یہ تیل پر چلنے کے باعث مہنگے ہیں جس کی وجہ سے بجلی مہنگی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی ضرورت کو فوری طور پر پورا کرنے کیلئے رینٹل پاور پلانٹ ہی واحد راستہ ہیں۔
آج بھی ہائیڈل پاور پراجیکٹس سے بجلی کی پیداوار ایک روپے فی یونٹ سے کم لاگت آ رہی ہے اور ہمارے پاس ایسے منصوبوں کی کمی نہیں ان میں سے کچھ سیاست اوپر کچھ پالیسی سازوں کی غفلت اور نااہلی کی نذر ہو گئے۔ کالا باغ ڈیم سے 3600 ، بھاشا ڈیم سے 4500 میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکتی ہے۔ بھاشا ڈیم غیر متنازعہ منصوبہ ہے وہ بھی بار بار اعلانات کے باوجود ابھی تک شروع نہیں ہو سکا۔ کالا باغ ڈیم سرے سے حکومت نے ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کی فزیبلٹی تیار ہے اور انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی تیاریوں پر 80 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اتفاق رائے ہو جائے تو یہ جلد تکمیل کے مراحل طے کر سکتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں بجلی کی ضرورت 12 ہزار میگا واٹ ہے جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 17 ہزار پانچ سو میگاواٹ ہے۔ یعنی ضرورت سے بھی 5 ہزار 5 سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے لیکن بروقت ادائیگیوں اور کچھ پلانٹس کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے سے 12 ہزار میگا واٹ ضرورت بھی پوری نہیں ہو رہی۔ اس کا عجب حل نکالا گیا۔ 2 کھرب روپے کے کرائے کے بجلی گھر منگوائے جا رہے ہیں۔وزیر پانی و بجلی کہتے ہیں کہ وہ بھی 6 ماہ سے پہلے نہیں آ سکتے۔ 2 کھرب روپے معمولی رقم نہیں ادھار پر گزارا کرنے والے ملک کے لئے یہ بہت بڑی رقم ہے جو غیر ضروری بجلی گھروں کے کرائے پر خرچ کی جا رہی ہے۔ اس میں سے کچھ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کی ادائیگی اور کچھ بند پڑے یونٹس چالو کرنے پر خرچ کی جائے تو یہ حکومت کا ملک وقوم پر احسان ہو گا۔ کرائے کے بجلی گھروں کی ضرورت نہیں رہے گی۔