مسئلہ کشمیر پر وزیراعظم کا دبنگ موقف

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان کے وزیراعظم نے خطاب کرتے ہوئے جس طرح مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا‘ اس سے نہ صرف پاکستان اور آزادکشمیر کے عوام بلکہ مقبوضہ کشمیر اور دنیا بھر میں آباد کشمیریوں کو تقویت حاصل ہوئی ہے اور وہ اس پر مسرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی کے صدر نے بھی کھل کر مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کو اس کا اصل کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ یہ اقوام متحدہ میں اس دیرینہ حل طلب مسئلہ کی وہ گونج ہے جو ساری دنیا میں سنائی دی گئی ہے۔وزیراعظم پاکستان نے واشگاف الفاظ میں مسئلہ کشمیر پر مغربی اقوام کی دوغلی پالیسی کو بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا اگر ایسا مسئلہ امریکہ یا یورپ میں ہوتا تو کیا مغربی اقوام اور اقوام متحدہ اس سے بھی یونہی آنکھیں چراتی اور اسے حل نہیں کرتی۔ بے شک یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ آج تک اپنی قراردادوں کے مطابق بھی اس دیرینہ حل طلب مسئلے کو لٹکائے ہوئے ہے جس کی وجہ سے خطہ عدم استحکام سے دوچار ہے۔
 پاکستان اس مسئلے کے سبب 2 مرتبہ بھارتی جارحیت کا نشانہ بن چکا ہے۔ ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری بھارت کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارے جا چکے ہیں مگر افسوس صد افسوس اقوام عالم اس کے باوجود خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس مسئلہ پر انڈونیشیا اور سوڈان کے مسیحی اکثریتی علاقوں والی تیزرفتار علیحدگی کے حق میں استعمال ہونے والی پالیسی کیوں اپنائی نہیں جا رہی۔ 
اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں تمام تر مظالم کے باوجود مجاہدین بھارتی غاضب افواج کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔ 4 برس قبل بھارت نے یہ سوچ کر کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی کہ اب وہ بزور طاقت کشمیر کے دو ٹکڑے کر کے وہاں آزادی کی تحریک کو ختم کر دے گا تو ایسا کچھ بھی نہ ہوا کچھ عرصہ خاموشی رہی مگر تمام تر مظالم و جبر کے باوجود کشمیر میں جاری تحریک آزادی دب نہ سکی۔ بھارت نے پہلے پنجاب کے تین ٹکڑے کر کے وہاں کی عوامی قوت کو ختم کر لیا تھا مگر اب یہ حربہ کشمیر میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ بھارتی عدالت نے بھی کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے خلاف اپنی کارروائی میں حکومت سے کہا ہے کہ وہ ایک مدت کا فریم ورک تیار کر کے اس کی بحالی کے لیے اقدامات کرے۔ 
گزشتہ جمعہ کو 4 سال بعد میرواعظ مولوی عمر فاروق کو جبری نظربندی کے بعد رہا کر کے کشمیر کی تاریخی قدیم جامع مسجد میں نماز ادا کرنے اور جمعہ پڑھانے کی اجازت ملی تو وہاں موجود ہزاروں افراد نے ان کا پرجوش استقبال کر کے آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور میرواعظ نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کو ہی آخری حل قرار دیا۔ انہوں نے چشم گریاں کے ساتھ کہا کہ کشمیریوں کے بہتے ہوئے آنسو رائیگاں نہیں جائیں گے۔ ان کی قربانیاں رنگ لائیں گی۔ میرواعظ کے استقبال اور خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کا موڈ کیا ہے۔ بھارتی نوازشات ان کے لیے کوئی معنیٰ نہیں رکھتے۔ کوئی ان کا ساتھ دے یا نہ د ے وہ اپنی آزادی کی جنگ جاری رکھیں گے۔ 
گزشتہ روز تحریک حریت کے تمام رہنما?ں اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے وزیر اعظم پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بھارت مسئلہ کشمیر کے حل پر راضی نہیں ہوتا علاقے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان اپنی طرف سے یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے کوشاں ہے۔ 
عالمی برادری کو بھی اس بات کا احساس کرنا چاہیے کہ یہ مسئلہ اب دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کسی بھی وقت کسی ہولناک جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔ بھارت کی جنونی ہندو توا والی کوئی انتہا پسند حکومت ایٹمی جنگ کی گھنٹی بجا سکتی ہے۔ جو بھارت مغربی ممالک میں اپنے مخالفین کو قتل کرواتے ہوئے کسی کو خاطر میں نہیں کسی کے سخت فیصلے سے نہیں ڈرتا۔ وہ پاکستان کے خلاف جنگ کرتے ہوئے کسی بین الاقوامی پابندی کی پرواہ کب کرے گا۔ اب یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے خاص طور پر امریکہ اور مغربی یورپی ممالک کی کہ وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دارفر جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور انڈونیشیا کی علیحدگی پسندوں کے مطالبے کی طرح مقبوضہ جموں کشمیر کے بھارت سے علیحدگی کے مطالبے پر کان دھرے اور اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق ریاست میں رائے شماری کرائے تاکہ استصواب رائے کے تحت کشمیر کے باسی اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں اور وہاں جاری خونریزی اور کشمیریوں کی نسل کشی کا سلسلہ ختم ہو۔ 
بھارت کو اتنی چھوٹ نہیں دی جا سکتی کہ وہ علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکے۔ اس کے مکروہ ہندو توا کی خواہش پر روک لگانا پڑے گی۔ اسے عالمی امن برباد کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اگر بھارت اقوام عالم کی پرواہ نہیں کرتا تو اس کے خلاف عالمی سطح پر ایسے ہی پابندیاں عائد کرنا ہوں گی جیسے امریکہ و مغربی ممالک اپنے مخالف ممالک کے خلاف لگاتے ہیں تاکہ بھارت کے ہوش ٹھکانے آ سکیں۔ دنیا کی پونے دو ارب آبادی کو اس وقت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جو تباہی و بربادی کے خدشات ہیں ان کو دور کرنا اقوام عالم کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کے سامنے یہ سنگین مسئلہ رکھ دیا ہے۔ امید ہے وہ اس بارے میں ان کے موقف پر کان دھریں گے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ مسئلہ نجانے کب تک مظلوم بے گناہ کشمیریوں کی جان لیتا رہے گا۔ جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنا حق خودارادیت مانگ رہے ہیں۔ اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہتے ہیں۔
٭....٭....٭