ٹی او آر کمیٹی کا 4 ابتدائی نکات پر اتفاق، اپوزیشن نے 2 واپس لے لئے

26 مئی 2016 (20:31)

 پانامہ لیکس کی تحقیقات کے لیے ٹی او آر بنانے والی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اہم پیش رفت ابتدائی 4 نکات پر اتفاق کرلیا گیا ‘ اپوزیشن پندرہ میں سے دو نکات سے پیچھے ہٹ گئی۔ ٹی او آر کا شق وار جائزہ لینے کے لئے  جمعہ کو پھر اجلاس ہوگا‘کمیٹی میں شامل اپوزیشن رہنماﺅں نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا نام نکالنے پر رضامند ہیں لیکن خاندان کا احتساب ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ نے حکومت کے ٹی او آر مسترد کردیئے اب ان پر بات نہیں ہوگی۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں ٹی او آر بنانے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں حکومت کی طرف سے اسحاق ڈار، خواجہ آصف، خواجہ سعد رفیق، انوشہ رحمان، اکرم درانی اور میر حاصل بزنجو جب کہ اپوزیشن کی طرف سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن، شاہ محمود قریشی، صاحبزادہ طارق اللہ، طارق بشیر چیمہ، الیاس بلور اور بیرسٹر سیف نے شرکت کی۔ ابتدا میں سپیکر سردار ایاز صادق بھی موجود تھے تاہم باقاعدہ کارروائی شروع ہونے پر وہ باہر چلے گئے۔ اجلاس کے باقاعدہ آغاز پر اپوزیشن نے حکومتی ٹی اور پر اعتراض کردیا۔ ان کا موقف تھا کہ جو ٹی او آر چیف جسٹس مسترد کرچکے ہیں، ان پر غور نہیں ہوسکتا۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کے اضافی ممبر پر بھی اعتراض کیا گیا جس پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیر قانون پارلیمانی کمیٹی میں بطور ایکس آف شو ممبر شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو ساتویں رکن پر اعتراض ہے تو معاملے کو دیکھ لیں گے۔ ایکس آف شو ممبر کمیٹی میں ووٹ نہیں دے سکتے جس پر اپوزیشن جماعتوں نے اضافی ممبر کو نکالنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کی کمیٹی میں ضرورت نہیں۔ ہمیں ارکان کی تعداد پر اعتراض ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ایکس آف شو ممبر کی آڑ میں ساتویں رکن کی گنجائش نہیں۔ کمیٹی کا آئندہ اجلاس جمعہ کو دن گیارہ بجے پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوگا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کے پہلے اجلاس میں چار ابتدائی نکات پر اتفاق ہوچکا ہے۔ اجلاس میں تمہیدی معاملات پر اتفاق ہوا ہے۔ اپوزیشن نے پندرہ میں سے دو نکات واپس لے لئے ہیں۔ ٹی او آر پر مزید مشاورت جاری ہے۔ جمعہ سے باقاعدہ مذاکرات شروع کریں گے۔ ابتدائی کام مکمل ہوچکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمارے ٹی او آر جامع ہیں لیکن اپوزیشن کو ان پر اعتراض ہے۔ مکمل اتفاق رائے سے آگے بڑھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ اسحاق ڈار کی کچھ باتوں کے حوالے سے غلط فہمی پیدا ہوگئی ہے ٹی او آرز کے ڈرافٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔ دوسرا مرحلہ جمعہ سے ہوگا۔ کھلے دل اور ذہن کے ساتھ کمیٹی کی کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں چار نکاتی ابتدایئے پر اتفاق ہوا ہے ہمارے پندرہ میں سے تیرہ نکات بہت اہم ہیں۔ دو نکات اور سوالات واپس لے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ٹی او آر سپریم کورٹ مسترد کرچکی ہے اب ان پر بحث کی ضرورت نہیں۔ پانامہ لیکس پر جس کا بھی نام آیا ہے احتساب ہونا چاہئے ۔چیف جسٹس نے درست کہا کہ حکومت کے ٹی آو آرز سے معاملہ بہت لمبا جائے گا۔ وزیراعظم کا نام نکالنے پر رضامند ہیں لیکن ان کے خاندان کا احتساب ہونا چاہئے۔ وزیراعظم یہاں جلسے اور لندن میں شاپنگ کرتے ہیں۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہمارا موقف تسلیم کرلیا ہے اور کمیٹی سے اضافی حکومتی ممبر نکالنے پر رضامند ہوگئی ہے۔ وزیر اعظم کی واپسی پر فیصلہ کیا جائے گا کہ کونسا ممبر نکالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا مقصد معاملے کو نیک نیتی سے آگے بڑھانا ہے ہمیں حکومتی ٹی او آر پر اعتراضات تھے وہ پیش کئے۔ حکومت کو بھی جن ٹی او آر پر اعتراض ہیں وہ سامنے رکھیں۔ ہم تحقیقات کو نتیجہ خیز بنانا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہر نکتے اور سوال کے پیچھے کوئی نہ کوئی قانون شکنی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ حکومت ہو یا اپوزیشن کوئی بھی بات چیت کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا دونوں کے پاس بات چیت کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے ہم کوشش کررہے ہیں۔ کہ ٹی او آر اتفاق رائے سے بنائیں اور امید ہے کہ اس مقصد میں کامیاب بھی ہوجائیں گے۔