و لی محمد ہی ملا اختر منصور تھا، ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کیخلاف ہیں، اقوام متحدہ میں بھی آواز اٹھائیں گے: سرتاج عزیز

26 مئی 2016 (20:18)

پاکستان نے سابق امیر افغان طالبان ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں تصدیق کر دی ہے، امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والا ملا اختر منصور ہی تھا،طالبان رہنما کی ہلاکت کے بعد خطے میں امن عمل کو شدید نقصان پہنچا ہے، ملامنصورکی نعش ابھی تک ہمارے پاس ہے، ڈی این اے ٹیسٹ لے لیا گیا ہے رپورٹ آنے کے بعد سو فیصد تصدیق کی جائے گی، ڈرون حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی اور پاکستان کی خود مختاری کے خلاف ہے، ہماری اطلاعات کے مطابق ملا منصور مذاکرات کے خلاف نہیں تھے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کیا۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والا ملا اختر منصور ہی تھا تاہم طالبان سربراہ کی ہلاکت کے بعد خطے میں امن عمل کو شدید نقصان پہنچا ہے، افغان طالبان کے مطابق ملا منصور جعلی نام ولی محمد اور جعلی سفری دستاویزات کے ساتھ سفر کررہا تھاجبکہ ایران بھی خبروں کی تردید کر رہا ہے کہ ملا منصور ولی محمد کے نام سے نہیں بلکہ کسی اور نام سے ایران میں سفر کر رہے تھے۔ ملا منصور کی نعش سے متعلق انہوں نے کہا کہ ملامنصورکی نعش ابھی تک کسی کے حوالے نہیں کی گئی، واقعے کے 3 دن بعد کچھ لوگوں نے انکو اپنا رشتہ دار ظاہر کر کے نعش انکے حوالے کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا جن کا ڈی این اے ٹیسٹ لے لیا گیا ہے تاہم ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کے بعد سو فیصد تصدیق ہو جائے گی کہ حملے میں مارا جانے والا ولی محمد ہی دراصل ملا اختر منصور تھا۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ امریکہ نے حملے سے قبل پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا بلکہ واقعہ کے7 گھنٹے بعد رابطہ کیا گیا۔ ڈرون حملہ پاکستان کی خود مختاری پر حملہ ہے اور واقعے پر پاکستان نے امریکہ سے شدید احتجاج بھی کیا ہے اور یہ احتجاج اقوام متحدہ میں بھی کیا جائے گا۔ سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت سے خطے میں امن عمل کو شدید نقصان پہنچا ہے، افغان طالبان کے امیر کی ہلاکت افغان امن مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے جبکہ مذاکرات کی کامیابی کی پاکستانی خواہش کو نظر انداز کیا گیا۔ امریکہ کی طرف سے بیان جاری ہوا تھا کہ ملا منصور مذاکرات کے راستے میں رکاوٹ بن رہے تھے جبکہ بعض اس کی نفی بھی کرتے ہیں، ہماری اطلاعات کے مطابق ملا منصور مذاکرات کے خلاف نہیں تھے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ مذاکرات کی میز پر آہی جاتے۔ مشیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن عمل کے قیام کےلئے پاکستان افغانستان چین اور امریکہ کی جانب سے کی گئیں مشترکہ کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملا اختر منصور کے بارے میں ہماری ایجنسیوں کو پتہ تھا یا پتہ ہونا چاہئے تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے کہا ہے کہ ملا اختر منصور امن مذاکرات میں رکاوٹ تھے یہ غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موثر سرحدی انتظام ضروری ہے، ماضی میں بھی افغان بارڈرکی مینجمنٹ کامعاملہ اٹھاتے رہے ہیں، پھر بھی چار ملکی گروپ افغانستان میں مفاہمت کے عمل کےلئے کوششیں جاری رکھے گا۔ مشیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ کوڈرون حملے کے حوالے سے پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا گیا ہے، ڈرون حملہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے بھی خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف امریکہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر دعوت دیتا ہے دوسری طرف طالبان سربراہ اور ان کے دیگر رہنماﺅں کو ماررہا ہے امریکہ کی ایسی پالیسیوں سے خطے میں امن ممکن نہیں۔ سرتاج نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک 60 ہزار پاکستانی ہلاک ہوچکے ہیں اور 110 ارب ڈالرز کا نقصان بھی ہو چکا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سرتاج عزیز نے کہا کہ 2001 سے لیکر اب تک 390 ڈرون حملے ہو چکے ہیں، ہماری دور حکومت سے قبل صبح شام امریکی ڈرون حملے ہوتے تھے تاہم 2013 کے بعد حکومت نے واضح موقف اپنایا اور امریکہ کو باور کرایا کہ ایسے حملے پاکستان کی خود مختاری اور سالمیت کے خلاف ہیں جس کے بعد ڈرون حملوں میں واضح کمی ہوئی۔ امریکہ امداد کے حوالے سے انکا کہنا تھا کہ امریکہ کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف دیئے جانے والے، کولیشن سپورٹ فنڈز ہیں امداد نہیں بلکہ ہمارے اخراجات ہیں جبکہ دہشتگردی کےخلاف جنگ کے تناظرمیں امریکہ کی طرف سے دیئے جانے والے یہ فنڈز بھی بہت کم ہیں۔
سرتاج عزیز