پشاور: بحث کے بعد ہسپتال میں ٹائلٹ کے سامنے جگہ پانے والا زخمی خواجہ سرا دم توڑ گیا

26 مئی 2016

پشاور (بیورو رپورٹ+بی بی سی) پشاور میں مسلح افراد کی فائرنگ میں چار دن پہلے شدید زخمی ہونے والا خواجہ سرا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ خواجہ سرا ایسوسی ایشن کے کوارڈینیٹر علیشا کی عمر 27 سال کے لک بھگ بتائی جاتی ہے اور ان کا تعلق ضلع سوات سے تھا۔ علیشا کے قریبی دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ پانچ سال کے عمر میں سوات سے پشاور آ کر آباد ہوئے تھے۔ ان کا ایک بہن کے سوا خاندان کے کسی اور فرد سے رابط کوئی نہیں تھا۔ خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے سرگرم غیر سرکاری تنظیم بلیو وینز پروگرام کے کوارڈینیٹر قمر نسیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کی رات علیشا کو پشاور کے علاقے فقیر آباد میں چند مسلح افراد نے پہلے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اْنہیں فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا تھا۔ قمر نسیم نے الزام عائد کیا ہے کہ لیڈی ریڈنگ ہپستال پشاور کی انتظامیہ کی جانب سے بروقت طبی امداد فراہم نہ کرنے کی وجہ سے علیشا کی ہلاکت ہوئی۔ علشیا کو ہپستال پہنچایا گیا تو خواجہ سراؤں کی درخواست کے باوجود انہیں عورتوں کے بجائے مردوں کے وارڈ میں داخل کیا گیا۔ ان کے مطابق چار گھٹنے تک ہسپتال انتظامیہ اس بات کا فیصلہ نہیں کرسکی کہ زخمی خواجہ سرا کو کس وارڈ میں داخل کیا جائے۔ جبکہ مردوں کے وارڈ میں داخل مریضوں اور ان کے لواحقین کی طرف سے خواجہ سرا کے داخلے پر اعتراض کی وجہ سے ہپستال میں کشیدگی کا ماحول پیدا ہوا تھا۔ کئی گھنٹوں کی گفت و شنید کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ خواجہ سرا کو مردوں کے وارڈ میں ٹائلٹ کے سامنے بیڈ دیا جائے کیونکہ وارڈ کے دیگر مریض اس بات پر ہی راضی ہوئے تھے کہ انہیں مریضوں کے درمیان میں جگہ نہ دی جائے۔ ذرائع ابلاغ میں خبریں شائع ہونے کے بعد قائم مقام گورنر خیبر پی کے اسد قیصر زخمی خواجہ سرا کی عیادت کے لیے ہپستال آئے اور انہیں پرائیوٹ وارڈ میں الگ کمرے میں منتقل کیا گیا لیکن اْس وقت بہت دیر ہو چکی تھی۔ تاہم لیڈی ریڈنگ ہپستال کے ترجمان ذوالفقار باباخیل کا کہنا ہے کہ شروع میں مرد اور خواتین وارڈ کے مریضوں نے اعتراض کیا تھا لیکن بعد میں معاملہ حل کر لیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ہپستال انتظامیہ کی طرف سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ آئندہ خواجہ سرا مریضوں کو وارڈز میں مختص سائیڈ روم میں جگہ دی جائیگی یا ان کو الگ سے کمرہ دیا جائے گا۔ تھانہ فقیر آباد کے سامنے خواجہ سرا علیشا کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے میں شامل ٹی اے اے کے ایک رکن قمر نسیم نے میڈیا کو بتایا کہ جب علیشا کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا تو ڈاکٹرز اس سے یہ پوچھتے رہے کہ وہ ڈانس کرنے کے کتنے پیسے لے گی۔ مظاہرے میں شریک علیشا کے ساتھی روتے رہے بعدازاں پولیس سے مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا۔
خواجہ سرا/ ہلاک