یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن میں تین سال کے دوران 71 کروڑ 40 لاکھ روپے کی کرپشن ہوئی : قائمہ کمیٹی سینٹ میں انکشاف

26 مئی 2016

اسلام آباد (این این آئی+ آن لائن) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت وپیداوار کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان میں گزشتہ تین سال کے دوران 71 کروڑ 40 لاکھ روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و تجارت کے اجلاس میں بتایا گیا کہ یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن میں گزشتہ 3 سال کے دوران 36 کروڑ روپے کی کرپشن ہوئی جس کی تحقیقات جاری تھیں تاہم جوں جوں تحقیقات بڑھتی جارہی ہیں کرپشن کی رقم بھی بڑھتی جارہی ہے اور یہ 71 کروڑ 40 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ ایم ڈی یوٹیلٹی سٹورز گلزار علی شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ کرپشن کے الزامات میں اب تک یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے 139 ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کیا جاچکا ہے۔ کرپشن کے الزام میں کے پی کے سے 17، پنجاب37، سندھ 58 اور بلوچستان سے 28 ملازمین کو برطرف کیا گیا۔ چیئرمین ہدایت اللہ کی زیر صدارت میں ہونے والے اجلاس یوٹیلٹی سٹورز کے حکام نے بتایا کہ یکم جون سے ملک بھر کے سٹورز پر مشروبات کی قیمت میں 30 روپے تک کمی ہو گی ٗ آٹا 6 روپے فی کلو کم ہو گا۔ حکام نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ یکم جون سے ہی چینی 5 روپے فی کلو، گھی اور کوکنگ آئل 10 روپے فی کلو، ڈبے کے دودھ میں 8 روپے فی کلو اور چائے کی پتی کی قیمت میں 87 روپے فی کلو کمی کی جائیگی جبکہ کھجور کی قیمت میں 40 روپے سے 80 روپے فی کلو کمی ہو گی۔ علاوہ ازیں کمیٹی نے گذشتہ تین سالوں کے دوران یوٹیلیٹی سٹورز میں کرپشن اور گھپلوں میں ملوث ملازمین کے خلاف اقدامات کی رپورٹ طلب کر لی ہے، ارکان کمیٹی نے کہا کہ پاکستان سٹیل ملز کے ملازمین کے گریجویٹی اور پراوڈنٹ فندزکا استعمال مجرمانہ اقدام ہے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے ،سٹیل ملز کی نجکاری کے سلسلے میں سندھ حکومت کے نمائندوں محکمہ خزانہ اور نجکاری کمیشن کو اگلے اجلاس میں طلب کر لیا ہے،کمیٹی میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستان میں موجود گاڑیوں کی کمپنیاں انجن سمیت تمام پرزے برآمد کرتے ہیں اور ایک پلگ بھی پاکستان میں نہیں بنایا جاتا ہے آٹو کمپنیاں ای ڈی بی کو ابھی تک کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں یکم جولائی سے آٹو پالیسی کے نفاذ کے بعداحکامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے ۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیرمین سینیٹر ہدایت اللہ کی سربراہی میں پارلیمنٹ ہائو س میں منعقد ہوا اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے ایم ڈی یوٹیلیٹی سٹورز گلزار علی شاہ نے بتایاکہ یوٹیلیٹی سٹورز میں گذشتہ تین سالون کے دوران یوٹیلیٹی سٹورز میں 71کروڑ 40لاکھ روپے کی کرپشن ہوئی ہے اور اب تک 139 ملازمین کو کرپشن کے الزام میں نکالا گیا ہے انہوںنے بتایاکہ پنجاب میں کرپشن کے 40مقدمات نیب اور ایف آئی اے کے پاس ہیںجس میں مجموعی طورپر 31کروڑ 70لاکھ روپے کرپشن ہوئی ہے بلوچستان میں 36کروڑ90لاکھ سندھ میں 4کروڑجبکہ خیبر پی کے میں 2کروڑ 20لاکھ روپے کی کرپشن ہوئی جن کے مقدمات نیب اور آیف آئی کے پاس ہیں اور اب تک کرپشن کے الزامات کے تحت 140ملازمین کو نکالا گیا ہے انہوں نے بتایاکہ یوٹیلیٹی سٹورز کا 2013/14کا خسارہ4آرب روپے کے قریب تھا جبکہ امسال 10ماہ کا خسارہ کم ہوکر 1ارب40کروڑ روپے ہے انہوںنے بتایاکہ یوٹیلیٹی سٹورز سے کرپشن اور خسارے کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں ملک بھر میں یوٹیلیٹی سٹورز کے ریجنل دفاتر،زونل آفسز اور یوٹیلیٹی سٹورز کو کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے جس کے خسارے کو منافع میں تبدیل کیا جا سکے گاانہوں نے بتایا کہ یوٹیلیٹی سٹورزماہ رمضان کے دوران 22اشیاء رعایت فراہم کر رہا ہے اور ماہ رمضان کے دوران خصوصی ٹیمیں یوٹیلیٹی سٹورز میں اشیاء کی فراہمی اور معیار کے حوالے سے معائنہ کریں گی کمیٹی نے یوٹیلیٹی سٹورز میں کرپشن کے ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرنے کورٹ کیسز اور نیب ایف آئی اے میں موجود کیسز کی تازہ ترین صورتحال پراگلے اجلاس میں تفصیلی بریفنگ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے انڈسٹریل ڈیویلپمنٹ بورڈ کے ایم ڈی طارق اعجاز نے بتایاکہ نئی آٹو پالیسی کے تحت بیمار اور نئے صنعتی یونٹوں کو ٹیکس اور مشنری کی درآمد میں ٹیکس استشنیٰ سمیت مختلف سہولیات فراہم کر رہے ہیں انہوںنے بتایاکہ نئی آٹو پالیسی کا یکم جولائی سے اجراء ہو جائے گا جس کے بعد ملک میں گاڑیاں تیار کرنے والی تمام کمپنیوں کو شرائط کی پابندی کرنا ہوگی انہوںنے انکشاف کیا کہ پاکستان میں موجود کمپنیاں حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی پابندی نہیں کر رہی ہے اس معاہدے کو دوبارہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔