پنشن فنڈز کی رپورٹ پر بحث پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ ‘ حکومتی اپوزیشن ارکان کی لفظی جنگ

26 مئی 2016

لاہور (خصوصی رپورٹر+ خبر نگار+ خصوصی نامہ نگار+سپیشل رپورٹر+سپورٹس رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں پنشن فنڈز پنجاب کی سالانہ رپورٹ پیش کئے جانے اور بحث کے دوران ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ سرکاری ترجمان زعیم حسین قادری اور اپوزیشن لیڈر محمود الرشید بلند آواز میں بولتے رہے۔ دیگر سرکاری اور اپوزیشن ارکان بھی بنچوں پر کھڑے ہو کر بحث میں اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ میٹرو، اورنج ٹرین، پانامہ لیکس کا نام لیے جانے پر زعیم قادری اور سرکاری ارکان نے اپوزیشن پر چڑھائی کر دی۔ جبکہ عمران خان کو بابائے آف شور کمپنی اور جھوٹا قرار دیئے جانے پر میاں محمود الرشید اور تحریک انصاف کے ارکان نے بھرپور جواب دیا۔ رانا بابر نے بتایا کہ پنشن فنڈز کی رقم حکومت نے نجی کارپوریٹ بانڈ، حکومت پاکستان انویسٹمنٹ بانڈ میں سرمایہ کاری کر کے اربوں روپیہ منافع کمایا ہے بلکہ 2012ء میں 13.79 فیصد منافع ہوا۔ پارلیمانی سیکرٹری انفارمیشن رانا ارشد نے کہا کہ حکومت نے پنشنروں کیلئے بہت کچھ کیا ہے۔ جس پر تحریک انصاف کے صدیق خان نے کہا کہ پنشن فنڈ میں منافع کمانے کے دعوے کئے جا رہے ہیں۔ صرف ایک ضلع مظفرگڑھ میں اس مد میں 63 کروڑ روپے کی کرپشن کی گئی ہے۔ زعیم قادری نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے ہوتے پنجاب میں کرپشن ممکن نہیں ہے۔ اورنج ٹرین، میٹرو بس، پانامہ لیکس سے اس خبر کا کیا تعلق ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ میٹرو بس بنی تو پنجاب سے سب کا صفایا ہو گیا، اب اورنج ٹرین بن رہی ہے آئندہ الیکشن میں ملک سے تمام پارٹیوں کا صفایا ہو جائے گا۔ پانامہ لیکس پر ٹی او آرز بن رہے ہیں۔ عمران خان خود بابائے آف شور کمپنی ہیں۔ جھوٹ بولنا ان کی عادت اور جھوٹ بول کر بھاگ بھی جاتے ہیں۔ نیازی سروسز کس کی ہے۔ اس دوران محمود الرشید نے زعیم قادری کو وزارت دینے کا مطالبہ کر دیا۔ خاموشی ہوئی تو زعیم قادری نے کہا کہ اگر میاں محمود الرشید کو فلور دیا گیا تو ایوان سے واک آؤٹ کر جائیں گے۔ جس پر سپیکر نے کہا کہ انہوں نے جو کہا حذف کرا دیا۔ محمود الرشید نے کہا کہ موجودہ 3 سالہ دور میں جتنے خرچے کئے گئے 70 سال میں نہیں کئے۔ ہم نے کشکول توڑا نہیں اس کا سائز بڑا کر لیا ہے۔ فافن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کرپشن میں سب سے آگے ہے۔ علاوہ ازیں اپوزیشن نے شہباز شریف کی اپنے اسمبلی چیمبر میں موجودگی کے دوران دو بار کورم کی نشاندہی کی اور دونوں مرتبہ کورم پورا نہ ہونے پر سپیکر کو ’’حاضری‘‘ پوری کرنے کیلئے "5-5" منٹ تک گھنٹیاں بجانے کے احکامات دینا پڑے اور وزیراعلیٰ سے ملاقات کے منتظر ارکان کو ایوان میں پہنچا کر کورم پورا کیا گیا۔ وزیراعلیٰ کی ایوان میں آمد پر ارکان نے شیر آیا شیر آیا کے نعرے لگائے۔ تاہم وزیراعلیٰ کے اسمبلی سے جاتے ہی حکومتی ارکان غائب ہو گئے جس کے بعد اپوزیشن کی طرف سے کورم کی نشاندہی پر سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کچھ دیر اسمبلی میں رہے جس دوران اپوزیشن لیڈر اور وزیر قانون کے درمیان تقریباً ایک گھنٹہ تک بحث چلتی رہی۔ اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حالات یہ ہو گئے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو کورم پورا کرنے کے لئے خود آنا پڑتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی تجویز وزیراعلیٰ پنجاب نے مان لی ہے اور وزیراعلیٰ بھی اسمبلی میں آنے لگے ہیں۔ اپوزیشن ارکان کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے کیونکہ حکومتی ارکان کو 25 کروڑ فی کس اپنے حلقے میں ترقیاتی سکیموں کے دیئے جا رہے ہیں۔ وزیر قانون نے کہا اپوزیشن لیڈر کسانوں کو حکومت کے خلاف اکساتے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے تین گھنٹے مذاکرات کر کے ان کی بات سنی اور مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اس پر اپوزیشن لیڈر پھر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں نے وزیراعلیٰ کی ایوان سے غیر حاضری پر قرارداد پیش کی۔ سپیکر نے کہا کہ اس قرارداد کو مجھے نہیں پتہ وزیراعلیٰ کو کیسے پتہ چل سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پہلی تقریر میں کہا تھا کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلیں گے لیکن اپوزیشن انتظار کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ صوبے کے گھنٹہ گھر بنے ہوئے ہیں وہ سارے اختیارات ان کے پاس ہیں وہ اختیارات تقسیم کر دیں۔ سکول پرائیویٹ کمپنیوں کو دیئے جا رہے ہیں تھانہ کلچرل تبدیل نہیں ہوا ہے۔ سپیکر نے گھنٹہ گھر کے الفاظ کو حذف کرا دیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ یہ بات درست نہیں حکومتی ارکان کو فی کس 25 کروڑ کے ڈویلپمنٹ فنڈز دیئے گئے ہیں تاہم ارکان اسمبلی کو ان کے علاقوں میں کچھ فنڈز دیئے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ ایوان سے اٹھ کر جانے لگے تو اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ وزیراعلیٰ ایوان سے بھاگ گئے ہیں۔ اس پر وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ جو سلوک اپوزیشن کے ساتھ کے پی کے میں ہو رہا ہے پنجاب میں ہم نے اپوزیشن کو بہت بہتر طریقہ سے رکھا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں پارلیمانی سیکرٹری چوہدری علی اصغر منڈا نے محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈ منسٹریشن سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے۔ سپیکر نے چھ سوالات کے جوابات نہ آنے پر پارلیمانی سیکرٹری سے استفسار کرتے ہوئے وضاحت طلب کی اور کہا کہ اس کی انکوائری کرائیں اور آئندہ اجلاس میں رپورٹ پیش کریں۔
پنجاب اسمبلی