خیبر پی کے اسمبلی میں حکومتی رکن کا تعمیراتی منصوبوں کی عدم تعمیر پر احتجاج

26 مئی 2016

پشاور (بیورو رپورٹ) خیبرپی کے اسمبلی میں حکومتی رکن اسمبلی محمد علی نے تعمیراتی منصوبوںکی عدم تعمیر پر متعلقہ وزراء اورسیکرٹریوںکی بے بسی کوآڑے ہاتھوں لیتے ہوئے صوبائی حکومت کو شدید تنقیدکا نشانہ بنایا اورکہاکہ پنجاب میںایک پل3ماہ میںمکمل ہو جاتا ہے مگر ہمارے صوبہ میں تبدیلی کی وجہ سے تین سال گزرجانے کے باوجود ضلع دیرمیںایک پل تعمیر نہ ہو سکا تعمیراتی پل کے منصوبہ کا ٹھیکیدارکام ادھورا چھوڑکرغائب ہو چکا ہے متعلقہ ایکسین ملنے والے ترقیاتی فنڈزکے ایک کروڑ روپے کو سنبھالے بیٹھا ہے دیر ہی کے علاقہ کی ایک سڑک کی تعمیرکیلئے17کروڑ روپے کی خطیررقم جاری کی گئی ہے جس پرمحکمہ تعمیرات کا ایکسین اژدھا بن کرقابض ہے سڑک کاافتتاح ہونے کے باوجود ابھی تک مذکورہ سڑک پرتاحال تعمیراتی کام شروع نہیںہوا لگتا ہے صوبے میںجمہوری اورپی ٹی آئی کی حکومت نہیں بلکہ صوبہ میںبیوروکریسی کی حکومت ہے حکومت نے بل کی عدم تعمیرکی وجہ سے حادثہ کاشکارہونے والے نوجوان کو معاوضہ ادا نہ کیا پل کی تاخیرکے ذمہ دارٹھیکیدار اور ایکسین کے خلاف کارروائی نہ کی گئی اور پل کی تعمیرکو ہنگامی بنیادوںپر مکمل نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کرتے رہیںگے جو ان کا بنیادی حق ہے حکومتی رکن اسمبلی کی دھواںدار تقریرکو اپوزیشن جماعتوںنے جلتی پرتیل کا کام کرتے ہوئے ایوان میں شیم شیم کے نعرے لگائے۔ ہنگامہ آرائی اورشور شرابہ کرتے ہوئے اپوزیشن ارکان کے منہ سے آگ اگلنے والے حکومتی رکن سے ہمدریوںکااظہارکرنے لگے ایجنڈا نظراندازکرتے ہوئے حکومت کوراہ راست پرلانے کیلئے الزامات کی بوچھاڑکردی اورکہاکہ معززحکومتی رکن کے اعتراضات حق بجانب ہیں یہ معاملات ضلع دیر ہی میں نہیں بلکہ پورے صوبہ میں ترقیاتی منصوبوں، امدادی کاموںکا بُراحال ہے، دہشت گردی، سیلابوں زلزلوںسمیت دوسری قدرتی آفتوںکے مارے ہوئے صوبہ کے عوام حکومتی امدادی اعلانات کے باوجود آج بھی بے سروسامانی کے عالم میںدربدرکی ٹھوکریںکھا رہے ہیں جن ارکان اسمبلی نے بحث میں حصہ لیا، ان میںنگہت اورکزئی، سرداراورنگزیب نلوٹھا، رشادخان، عبدالستار، صاحبزادہ ثناء اللہ، قربان علی، جعفرشاہ اور سردار حسین بابک شامل ہیں۔
اسمبلی/ حکومتی رکن احتجاج