9 ماہ میں 14 کھرب‘ 86 ارب حقیقی آمدنی ہوئی‘ 10 کھرب‘ 79 ارب ادائیگی پر خرچ

26 مئی 2016

لاہور (احسن صدیق) وفاقی حکومت کی اپنی دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ رواں مالی سال 2015-16 کے دوران جولائی سے مارچ تک حکومت کی حقیقی آمدنی کا ساڑھے 72 فیصد قرضوں کی واپسی اور سود کی ادائیگی پر ہی خرچ ہو گیا اور باقی اخراجات نئے قرض لے کر پورے کیے وفاقی حکومت نے نو ماہ کے دوران قرضوں کی واپسی اور سود کے ادائیگی پر 10 کھرب 79 ارب 44 کروڑ روپے ادا کیے ملکی قرضوں کی واپسی اور سود کے ادائیگی پر 10 کھرب 2 ارب 87 کروڑ روپے اور غیر ملکی قرضوں کی واپسی اور سود پر 76 ارب 57 کروڑ روپے ادا کئے گئے جبکہ محکمہ خزانہ کے مطابق رواں مالی سال جولائی سے مارچ تک وفاقی حکومت کی حقیقی آمدنی 14 کھرب 86 ارب 41 کروڑ 20 لاکھ روپے رہی۔ حکومت نے ٹیکسوں اور دوسرے ذرائع سے مجموعی طور پر 27 کھرب 39 ارب 59 کروڑ 50 لاکھ روپے اکٹھا کیے اس میں سے 12 کھرب 53 ارب 18 کروڑ 30 لاکھ روپے صوبوں کا حصہ چلا گیا‘ غیر ترقیاتی اخراجات کا حجم 23 کھرب 93 ارب 72 کروڑ 40 لاکھ روپے رہا‘ سب سے زیادہ رقم 4 کھرب 82 ارب 91 کروڑ 20 لاکھ روپے دفاعی امور اور سروسز پر خرچ ہوئی جو کہ غیر ترقیاتی اخراجات کا 20.17 فیصد ہے حکومت نے دفاع اور دوسرے اخراجات کے لیے 223 ارب بیرونی ذرائع اور 10 کھرب 8 ارب روپے اندرونی ذرائع سے نیا قرض لیا۔
قرضوں کی واپسی/ خرچ