ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی معاشرتی وبا بن گئی، شہری بنیادی حقوق سے محروم

26 مئی 2016

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) حکومتی محکموں کی عدم دلچسپی، طلب اور رسد میں عدم توازن، مروجہ قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے اور ناکافی سزائوں کے باعث ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی نے معاشرتی وبا اختیار کرلی ہے۔ ناجائز منافع خوری ایکٹ 1977ء اور فوڈ سٹف کنٹرول ایکٹ 1958ء پر مؤثر عملدرآمد نہ ہونے سے شہری آئین کے آرٹیکل 37-14-9 اور 38 کے تحت حاصل بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ قانونی حلقوں نے خودمختار پرائس کنٹرول اتھارٹی اور طلب ورسد کے توازن کیلئے علیحدہ قوانین قائم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق آئین اور مروجہ قوانین میں ضروریات زندگی کی بروقت، سہل اور مناسب قیمتوں پر فراہمی کی ضمانت کے باوجود حکومتی محکمے منظم مافیا کو ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے مواقع مہیا کرتے ہیں۔ حکومت سیاسی مقاصد کیلئے ان مافیا کا تدارک کرنے سے قاصر ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت درخواستوں میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی محکموں کی آشیرباد سے ضروریات زندگی کی رسد کم کر دی جاتی ہے جس سے طلب میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ بڑے ذخیرہ اندوزوں کے دبائو پر قلت والی اشیا باہر سے منگوانے کی منظوری دی جاتی ہے۔ پھر ذخیرہ اندوز سٹاک کی ہوئی اشیا کو زیادہ داموں فروخت کرتے ہیں اور یوں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستقل طور پر بڑھتی رہتی ہیں۔ حکومتی سطح پر رسد اور طلب میں توازن قائم رکھنے کا کوئی میکنزم موجود نہیں۔ انتظامی مجسٹریٹس کے چھاپوں کے بعد معمولی جرمانے کرکے ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو چیک کرنے والے محکموں میں متعین افسر خود غیرقانونی کاموں کے طریقے بتاتے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں رٹ درخواست دائر کرنے والے سینئر وکیل اظہر صدیق نے بتایا کہ پرائس کنٹرول ریگولیٹری اتھارٹی اور خودمختار فورس بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نئی قانون سازی کی ضرورت ہے جس میں ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے لئے سزائیں بڑھائی جائیں۔
معاشرتی وبا