امریکی سفیر کی ملاقات: جنرل راحیل کا ڈرون حملے پر شدید اظہار تشویش

26 مئی 2016
امریکی سفیر کی ملاقات: جنرل راحیل کا ڈرون حملے پر شدید اظہار تشویش

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+بی بی سی+ نوائے وقت رپورٹ) چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے بلوچستان میں امریکہ کے 22 مئی کو کئے گئے ڈرون حملہ پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ڈرون حملہ کو پاکستان کی سلامتی و خودمختاری کے منافی اور باہمی تعلقات کیلئے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے گزشتہ روز جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات کی۔ جنرل راحیل شریف نے امریکی ڈرون حملے پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کارروائیاں پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور دوطرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈرون حملے علاقائی استحکام اور امن کے حصول کے لئے جاری عمل میں بھی معاون ثابت نہیں ہوں گے۔ جنرل راحیل نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششیں، کامیابیاں اور قربانیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ آرمی چیف نے امریکی سفیر کو اس معاملے پر تحفظات سے آگاہ کیا۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اس جنگ میں پاکستان کو اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ حملے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے لئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ اگر مستقبل میں ایسے حملے ہوئے تو ان کو پاکستان کی سالمیت اور استحکام کے خلاف سمجھا جائے گا۔ آرمی چیف نے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان کی سالمیت کے خلاف ہیں جو پاکستان اور امریکہ کے تعلقات متاثر کر سکتے ہیں، ایسی کارروائیوں سے علاقائی استحکام کو نقصان پہنچے گا۔ دریں اثنا آرمی چیف نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ہم نہ کبھی ہار مانیں گے اور نہ پیچھے ہٹیں گے، دشمن کو شکست دے کر رہیں گے انہوں نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ قوم کے ہیروز کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق جنرل راحیل شریف نے راولپنڈی میں قائم آرمڈ فورسز انسٹیٹیوٹ برائے امراض چشم (ا ے ایف آئی او) کا دورہ کیا۔ اور آپریشن ضرب عضب کے دوران زخمی ہونے والے غازیوں سے ملاقاتیں کیں، آرمی چیف نے زخمی جوانوں اور افسروں کے ساتھ وقت گزارا، جب کہ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے آرمی چیف کو ادارے سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ جوانوں اور افسروں سے ملاقات میں آرمی چیف نے زخمی فوجی اہلکاروں کے حوصلے کو سراہا اور کہا کہ ہم کبھی ہار نہیں مانیں گے اور کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، قوم کے ہیروز کے علاج معالجے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ ترجمان کے مطابق بریفنگ میں آرمی چیف کو بتایا گیا کہ اب تک 179فوجیوں کی مکمل یا جزوی طور پر بینائی متاثر ہوئی ہے، یہ بینائی آئی ای ڈی دھماکوں کے باعث متاثر ہوئی، آپریشن میں حملوں کے دوران تیس جوانوں نے اپنی آنکھیں مکمل طور پر کھو دی ہیں، جب کہ اے ایف آئی او میں 56 جوانوں کا علاج جاری ہے۔