پانامہ لیکس کی شفاف تحقیقات نہ ہوئی تو عوام کا سمندر اسلام آباد پہنچ جائیگا: سراج الحق

26 مئی 2016

لاہور+ پشاور (خصوصی نامہ نگار + نامہ نگاران)امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے خبردار کیا ہے کہ پاناما لیکس کی صاف اور شفاف تحقیقات اور عدالتی کمشن کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا تو عوام کا سمندر اسلام آباد پہنچ جائے گااور ایوانوں کو کرپٹ لوگوں سے پاک کیا جائے ان لوگوں کی جگہ اڈیالہ جیل ہے ۔کرپشن کے خلاف قومی مہم جاری رہے گی کراچی سے خیبر تک عوام اب اس ناسور سے نجات حاصل کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ہمیں موقع ملا تو ، کرپٹ ، لینڈ ، ڈرگ اورکمیشن مافیا کو جیلوں میں ڈال دیں گے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ٹرین مارچ کے پہلے روز لاہور سمیت مختلف ریلوے سٹیشنز پر مارچ کے استقبال کے لیے آنے والے کارکنوں اور شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا، سینیٹر سراج الحق کرپشن کے خلاف پشاور سے ٹرین مارچ کی قیادت کرتے ہوئے پشاور، واہ کینٹ راولپنڈی جہلم، گجرات، وزیر آباد، گوجرانولہ سے لاہور پہنچے تو ان کا زبردست استقبال کیا گیا۔ جگہ جگہ شرکاء ٹرین مارچ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امرائ، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، چاروں صوبائی امرائ،سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم سمیت مرکزی ،صوبائی اور ضلعی رہنمائوں اور نوجوانوں کی بڑی تعداد مارچ میں شامل ہے۔ سینیٹر سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے تہیہ کررکھا ہے کہ کرپشن کے خاتمہ کے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔کرپشن تمام ملکی مسائل کی جڑ ہے۔ہم کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے باہر نکلے ہیں۔ 20کروڑ عوام شدید گرمی میں صاف پانی کو ترس رہے ہیں۔ نوجوان ڈگریاں جلانے پر مجبور ہیں۔ اشرافیہ کا یہ گروہ کسانوں کو ان کی محنت کا پھل نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ ایوانوں اور وزارتوں پر لینڈ مافیا ، ڈرگ مافیا ، کمیشن مافیا کا قبضہ ہے ۔ ایسے کرپٹ لوگوں سے ایوانوں کو پاک کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں روزانہ 12ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔ عوام کے گھڑوں میں پینے کا پانی نہیں ہے جبکہ کرپٹ بیوروکریسی کے پانی کے ٹینکوں سے نوٹ برآمد ہو رہے ہیں، پاناما لیکس، سوئس لیک ہو یا دوبئی لیک جماعت اسلامی پاکستان کے کسی کارکن کا نام کسی لیکس میں نہیں آیا۔ پاناما لیکس میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں وہ خود ہی سیاست سے الگ ہو جائیں۔ قوم اب کرپٹ مافیا کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ ایک طرف پاکستان کی محبت میں مولانا مطیع الرحمٰن نظامی اور دیگر رہنما بنگلہ دیش میں جام شہادت نوش کر رہے ہیں دوسری طرف پاکستان کا حکمران طبقہ پاکستان کو لوٹ رہا ہے۔ملک کا نظریہ محفوظ نہیںہے کبھی یہ لبرل اور کبھی سیکولر بننے کے نعرے لگاتے ہیں ۔ان حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان کا جغرافیائی وجود خطرے میں ہے۔ ڈرون حملہ خودمختاری کے خلاف ہے۔ امریکہ نے پاکستان کی خودمختاری کی دھجیاں اُڑادی ہیں حکمران طبقہ کو کہنا چاہتا ہوں کہ گیڈر کی 100سالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے۔ قوم بدعنوانوں کو کوئی ر عایت دینے کے لیے تیار نہیں۔ پشاور کینٹ ریلوے سٹیشن پر ٹرین کی روانگی سے قبل جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ اشرافیہ کے حساب اور احتساب کا دن قریب آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پشاور سے ٹرین مارچ اس لئے شروع کی ہے کہ حکمرانوں کو آگاہ کروں کہ اگر عدالت کے ذریعے احتساب نہ ہوا اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہ ہوا تو پھر مظلوم اور مجبور عوام کے ہاتھ آپ کے گریبانوں میں ہوں گے۔ حکمران اس دن سے ڈریں جب غریب جھونپڑی سے نکلے گا، مزدور، کسان اور دہقان زمینوں اور گاؤں سے نکل کر اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ سراج الحق نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہے۔ جماعت اسلامی ہی حقیقی احتساب کرسکتی ہے، راولپنڈی میں خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسا بااختیار کمشن بنایا جائے جو کرپٹ مافیا ٹیکس چوری کرنے والوں کا احتساب کرکے ان کے آئندہ کسی سیاسی یا حکومتی منصب کے لئے نااہل قرار دے۔گوجرانوالہ میں کرپشن فری پاکستان ٹرین مارچ کے شرکا سے خطاب کر تے ہو ئے ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقابلہ کرپٹ بزدل لوگوں کے ساتھ ہے۔ ہم کرپشن سے پاک پاکستان کیلئے باہر نکلے ہیں عوام ہمارا سا تھ دیں۔ مارچ کے شرکاء منصورہ میں رات گزاریں گے اور آج صبح 7:55 پر خیبر میل کے ذریعے ٹرین مارچ کے شرکاء دوسرے مرحلے میں لاہور سے روہڑی روانہ ہونگے۔ روہڑی سے مارچ کے شرکاء ایک بار پھر عوام ایکسپریس کے ذریعے ٹرین مارچ کے تیسرے اور آخری مرحلہ میں کراچی روانہ ہونگے۔کرپشن کے خاتمے کیلئے لندن تک مارچ کرنا پڑا تو کرینگے۔