ایران خفیہ طور پر طالبان کی مدد کر رہا ہے: نیویارک ٹائمز

26 مئی 2016

نیویارک (نیٹ نیوز+ نوائے وقت رپورٹ) نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریہ میں کہا ہے کہ اوباما نے ریڈ لائن عبور کی ہے اب پاکستان امریکہ تعلقات خراب ہوں گے۔ اخبار نے ملا منصور کو مذاکرات میں رکاوٹ قرار دینے کے اوباما کے دعوے کی نفی کر دی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ ملا منصور کے قتل سے مذاکرات کا عمل مزید مشکل ہو گیا۔ ملا منصور کے قتل سے افغان محاذ گرم کرنے کے حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں۔ ایسی صورتحال پیدا کی گئی ہے کہ امریکی فوج کی تعداد بڑھانی پڑے گی۔ فوجی کمانڈرز فوجیوں کی تعداد بڑھانے پر زور دینگے۔ ملا منصور کو نشانہ بنا کر اہم سوال کھڑا کر دیا گیا۔ کیا اوباما افغانستان میں فوجیوں کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں۔ عسکری تنظیم کے سربراہ کو نشانہ بنانے کا مقصد تشدد کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ بلوچستان پر ڈرون حملہ پاکستان کی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ اوباما نے افغان جنگ کے روزمرہ آپریشنز میں شامل ہونے سے انکار کیا مگر ملا منصور کو قتل کر کے کچھ اور ہی پیغام دیا گیا۔ صدر اوباما پر افغان جنگ تیز کرنے کیلئے کانگرس کا دباؤ ہے۔ وال سٹریٹ جرنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکی سی آئی اے نے ملا اختر منصور کا اس وقت پتہ چلایا جب وہ ایران میں اپنے اہل خانہ سے ملنے گئے ہوئے تھے۔ دوسری جانب نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ ایران خفیہ طور پر طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی جاسوسی ڈرون طیارے ایران پاکستان سرحدی علاقے پر کام نہیں کر سکتے اس لئے انٹیلی جنس اور مواصلاتی رابطوں کی جاسوسی دوسری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی مدد سے اختر منصور کا پتہ چلایا گیا۔ وہ سفید کرولا کار میں بلوچستان کے سرحدی علاقے میں داخل ہوئے۔ حکام نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ (ان کے بقول) طالبان رہنما کے کوئٹہ پہنچنے سے قبل ہی افغانستان کے سرحدی علاقے سے مسلح ڈرون طیارے بھیجے گئے جنہوں نے گاڑی کو ہدف بنایا۔ اخبار کے مطابق ملا اختر منصور کی بلوچستان میں ہلاکت ایک طرح کی پاکستان کو وارننگ دی گئی کہ جہاں ضروری ہوا امریکہ پاکستان کو بتائے بغیر اس کی سرزمین پر کارروائی کر سکتا ہے۔ صدر اوباما اور امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک سی ٹونر پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاکستانی سرزمین پر کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ پاکستانی سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ملا اختر منصور امن مذاکرات میں رکاوٹ نہیں تھے۔ نیویارک ٹائمز نے اداریہ میں لکھا ہے کہ امریکہ کئی سال سے سینئر طالبان رہنماؤں کی نگرانی کر رہا تھا۔ اخبار کے مطابق ملا اختر منصور افغانستان میں امریکی اہداف پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور مذاکرات کے مخالف تھے۔ اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ دوہری گیم کر رہا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران خفیہ طور پر طالبان کی مدد کر رہا ہے۔