ملا ہیبت اللہ مذہبی رہنما‘ جنگی تجربہ کم، اصل اختیارات ملا یعقوب اور حقانی کے پاس ہونگے

26 مئی 2016

اسلام آباد (بی بی سی+ایجنسیاں) طالبان کے مقرر کئے جانے والے نئے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تحریک کے آغاز کے بہت بعد اس کا حصہ بنے تھے۔ افغان امور کے ایک ماہر نے بتایا کہ ملا ہیبت اللہ افغان طالبان کی 1994 میں قندھار سے شروع ہونے والی تحریک کے 33 ارکان کا حصہ نہیں تھے۔ ملا ہیبت اللہ اصل میں ایک مذہبی رہنما ہیں جن کا جنگی تجربہ کم ہے، لیکن اس وقت طالبان دھڑے بندیوں کا شکار ہیں جس کی وجہ سے مذہبی رہنما کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کو اعتراض نہ ہو۔ ملا ہیبت اللہ طالبان کی جنگی کارروائیوں کے حق میں فتوے جاری کرتے رہے ہیں۔ وہ 2001 سے قبل افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت میں عدالتوں کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ ملا ہیبت اللہ کو اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں طالبان کا سابق چیف جسٹس کہا گیا تھا۔ ملا ہیبت اللہ نے زندگی کا زیادہ تر حصہ افغانستان میں ہی گزارا ہے اور ان کے بیرونِ ملک سفر کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے افغان طالبان کی مبینہ کوئٹہ شوریٰ کے ارکان سے گہرے روابط رہے ہیں۔ افغان امور کے ایک ماہر نے بتایا کہ ملا ہیبت اللہ قندھار میں ایک مدرسہ چلاتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طالبان انہیں اپنا استاد کہتے ہیں۔ ہیبت اللہ کی عمر 45 سے 50 سال کے درمیان ہے وہ قندھار کے علاقے پنجوائی میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق نور زئی قبیلے سے ہے۔ بظاہر ملا ہیبت اللہ صرف علامتی سربراہ ہوں گے اصل اختیارات ان کے نائبین یعنی مل ایعقوب اور طاقتور فوجی کمانڈر سراج الدین حقانی کے پاس ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپریل میں ملایعقوب کو افغانستان کے 15 صوبوں کا فوجی کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، اس لیے توقع ہے کہ طالبان کے جنگی امور کی قیادت یہی دو نائبین کریں گے۔ ماہرین کے مطابق طالبان کے تیسرے امیر شوریٰ پر زیادہ انحصار کریں گے ان کے فیصلے اکثریت کی بنیاد پر ہوا کریں گے۔ ملا ہیبت اللہ عالم اور مذہبی شخصیت تو مانے جاتے ہیں لیکن ان کی پہچان میدانِ جنگ نہیں رہی۔ انہوں نے کم عمری کے زمانے میں روسیوں کے خلاف جنگ میں ضرور حصہ لیا، لیکن بعد میں وہ علمی سرگرمیوں سے منسلک ہو گئے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے طالبان کے شدت پسندانہ نظریات کا جواز پیش کرنے اور انہیں عوام میں قابلِ قبول بنانے کے لیے کئی فتوے جاری کئے۔ ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ملا ہیبت اللہ کی بطور سربراہ تعیناتی سے معلوم ہوتا ہے جیسے طالبان دوبارہ پتھر کے دور میں چلے گئے ہیں۔ ہیبت اللہ اخونزادہ کی افغانستان میں شہرت جنگجو کے بجائے ایک عالم دین کی ہے، 1979 میں روس نے افغانستان پر حملہ کیا تو ہیبت اللہ افغانستان سے ہجرت کر کے کوئٹہ پہنچے جہاں وہ ایک مسجد کی امامت کے فرائض سرانجام دیتے رہے، افغانستان میں طالبان کی دوبارہ حکومت قائم ہوئی تو ہیبت اللہ واپس افغانستان چلے گئے جہاں وہ طالبان دور میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہے اسلامی قوانین کے بڑے بڑے فیصلے سنائے،2001 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر دوبارہ حملہ کیا تو پھر مولوی شیخ ہیبت اللہ واپس کوئٹہ آگئے، مولوی ہیبت اللہ طالبان دور میں جلال آباد اور کابل میں نظامی جج کے عہدے پر بھی فائز رہے جو صرف طالبان رہنمائوں کے اوپر لگائے گئے الزامات اور مقدمات کو سنتا اور فوری فیصلے صادر کرتے، ہیبت اللہ اخونزادہ کا شمار ملا عمر اور ملا اختر منصور کے مشیر، نائب اور قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے جو پالیسی طالبان امیر ملا عمر کی تھی وہی پالیسی ملا اختر منصور نے اختیار کی، ہیبت اللہ بھی انہی پالیسیوں کو لے کر آگے بڑھیں گے۔ ہیبت اللہ نہ تو افغان حکومت کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق مخالف گروپ ملا محمد رسول کا جو اس وقت پاکستان کی قید میں ہیں ان کے ساتھیوں کو نئے امیر کے انتخاب کے لئے مشاورت کے لئے مدعو نہیں کیا گیا۔ ہیبت اللہ کے انتخاب میں کئی اہم رہنماؤں سے مشاورت نہیں کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان کے مختلف گروپوں میں اختلافات برقرار ہیں۔