ٹی او آر کمیٹی کا کوئی سربراہ نہیں ہو گا‘ حکومت‘ اپوزیشن میں اتفاق‘ کام کا طریقہ کار طے

26 مئی 2016

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) حکومت اور اپوزیشن نے اپنے اپنے ٹی او آرز ایک دوسرے کے حوالے کر دئیے۔ پانامہ لیکس پر پارلیمانی کمیٹی نے ٹی او آرز کی تیاری کے کام کا طریقہ کار طے کر لیا۔ حکومت نے اپنے بنائے ہوئے ٹی او آرز اپوزیشن کو پیش کئے۔ چیف جسٹس کا خط بھی اپوزیشن کو پیش کیا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن نے اتفاق کیا کہ پارلیمانی کمیٹی کا کوئی سربراہ نہیں ہو گا۔ سربراہ نہ بنانے کی تجویز شاہ محمود قریشی نے پیش کی۔ شاہ محمود نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دو فریق ہیں۔ اس لئے پارلیمانی کمیٹی کا کوئی سربراہ نہیں ہو گا۔ جس سے حکومت نے اتفاق کیا۔ پارلیمانی کمیٹی کا اگلا اجلاس آج 11بجے صبح ہو گا۔ اجلاس کے بعد حاصل بزنجو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ اتفاق رائے سے حل ہونے کیلئے پرامید ہیں۔ ضروری نہیں کہ کمیٹی کا چیئرمین ہو۔ کمیٹی کے تمام ارکان کی باڈی لینگویج مثبت تھی۔ فیصلے اکثریت سے نہیں اتفاق رائے سے کریں گے۔ خورشید شاہ اور ایاز صادق بطور سہولت کار اجلاس میں شریک ہوئے۔ اپوزیشن ارکان کی نمائندگی کرتے ہوئے اعتزاز احسن اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے نامزد ٹیم نے اجلاس میں شرکت کی جس میں طے پایا کہ فیصلے اتفاق رائے سے کئے جائیں گے، قوم کو مایوس نہیں کریں گے۔ شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پہلے یہ ابہام پیدا ہوا تھا کہ کمیٹی کا کوئی چیئرمین ہو۔ اب طے ہوا ہے کہ کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں ہوگا۔ چھ کی آڑ میں ساتواں آدمی کمیٹی میں شامل نہیں ہو گا۔ کمیٹی کے ارکان کی تعداد میں اضافہ نہیں ہو گا۔ حکومت کی صوابدید ہے کہ جسے مناسب سمجھے اپنی ٹیم کا حصہ بنائے۔ ہمیں کمیٹی میں کسی بھی حکومتی شخصیت کی شمولیت پر کوئی اعتراض نہیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس کو وزارت قانون کے خط کی کاپیاں بشمول ٹی او آر دی گئیں۔ حکومت اور اپوزیشن ٹی او آر کا جائزہ لیں گے۔ کمیٹی ارکان میں رجسٹرار سپریم کورٹ کے جواب کی کاپیاں بھی تقسیم کی گئیں۔ حکومت اور اپوزیشن اتفاق رائے سے ٹی او آر کو حتمی شکل دیں گے۔