افغانستان میں قیام امن کی امید کم ہو گئی، پاکستان کا کردار پہلے ہی محدود تھا، اب مشکل ہو گیا: بی بی سی

26 مئی 2016

لندن (آئی این پی) برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے امیر ملا محمد اختر منصور کی پاکستانی سرزمین پر ہلاکت کے بعد افغانستان میں قیام امن اور مصالحتی عمل کے بارے میں امید مزید کم ہو گئی ہے۔ بی بی سی کے مطابق افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے قائم کیے جانے والے چار ملکی گروپ میں امریکہ بھی شامل تھا۔ اسی نے طالبان کے امیر کو ڈرون حملے میں ہلاک کیا ہے۔ افغان قیادت میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور اس پس منظر میں مذاکرات کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ مستقبل میں اگر افغان حکومت اور امریکہ طالبان کو اپنے قیدیوں کی رہائی سمیت دیگر بنیادی شرائط کو پورا کرتا ہے تو شاید بات چیت کا سلسلہ اسی صورت میں دوبارہ شروع ہو سکے کیونکہ طالبان کے نئے امیر ہیبت اللہ سخت گیر رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کا افغان طالبان پر اثر و رسوخ پہلے ہی محدود تھا اور اب مزید کم ہو جائے گا۔ اب امریکہ پاکستان سے کہہ سکتا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرے کیونکہ اس میں ایک رکاوٹ ملا منصور کو اس نے راستے سے ہٹا دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں امریکہ کے اس دعوے پر کہ ملا منصور مذاکرات کے حق میں نہیں تھے، یقین نہیں، پاکستان کا کردار اور بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ پہلے بھی اثر و رسوخ محدود تھا اور اب پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ افغان طالبان کو بات چیت کے لیے کس حد تک مجبور کر سکتا ہے۔