دہشت گردی کیخلاف جنگ میں مدد‘ امریکہ نے پاکستان کیلئے 80 کروڑ ڈالر کا نیا فنڈ قائم کر دیا

26 مئی 2016

واشنگٹن (نیٹ نیوز+ ایجنسیاں) امریکہ نے حالیہ دنوں میں پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے شدت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے کے لیے دباؤ برقرار رکھا ہوا ہے۔ امریکی سینٹ کی مسلح سروسز کی کمیٹی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد کے لیے قائم کولیشن سپورٹ فنڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد پاکستان کی اس جنگ میں مدد کے لیے نیا فنڈ قائم کیا ہے۔ 80 کروڑ ڈالر کے اس فنڈ میں پاکستان کو افغانستان میں جاری جنگ سے الگ کیا گیا ہے ساتھ میں دی جانے والی امداد میں سے 30 کروڑ ڈالر کو حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی سے مشروط کر دیا ہے باقی امداد پاکستان کی اندرونی سلامتی اور استحکام سے متعلق ہے۔ مسلح سروسز کی کمیٹی کی جانب سے منظور کیے جانے والے سینٹ کے نیشنل ڈیفنس آتھورائزیشن ایکٹ میں پاکستان کے لیے فنڈ شامل ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں مدد کے لیے کولیشن سپورٹ فنڈ سے رقم دی جاتی رہی ہے لیکن اب اس فنڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں پاکستان کے لیے الگ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ امریکہ کے دفاعی بجٹ میں پاکستان کو افغانستان سے الگ کرنے پر تجزیہ کاروں نے بتایا کہ امریکی یہ محسوس کر رہے ہیں کہ افغان حکومت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور طالبان کے خلاف اپنے طور پر کارروائیاں کر سکے اس لیے انہوں نے پاکستان کو اس سے الگ کیا ہے تاکہ وہ اس پر دباؤ ڈال سکیں کہ وہ ان گروہوں کے خلاف سخت اقدامات کرے۔ ’اب غالباً ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ پاکستان کو مجبور کریں کہ وہ افغان طالبان کے بارے میں سخت پالیسی اپنائے کیونکہ یہ پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں جس کا ثبوت ملا اختر منصور کی ہلاکت ہے۔ اس کے لیے امریکہ پاکستان پر دباؤ رکھے گا کیونکہ اس کے نزدیک صرف افغان حکومت طالبان کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔‘ کیا امریکہ پاکستان سے دور ہوتا جا رہا ہے؟ اس سوال کے جواب میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ابھی پاکستان سے نوے کی دہائی کے طرح تعلقات بہت زیادہ محدود نہیں کرے گا وہ پاکستان پر دباؤ رکھے گا کیونکہ امریکہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا تو اس صورت میں وہ طالبان کے ساتھ پوری طرح سے مل جائے گا۔ امریکہ کی جانب سے حقانی نیٹ ورک سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف اقدامات کے مطالبے میں شدت اور امداد میں کمی کیا پاکستان کے چین کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ کی وجہ سے ہے؟ پاکستان پر زیادہ دباؤ افغانستان کے حوالے سے ہے لیکن ’پاکستان اس وقت تنہائی کی جانب جا رہا ہے اسے اپنی خارجہ پالیسی میں وسعت لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔