پانامہ لیکس میں جن لوگوں کے نام آئے ان کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائیگا: چیئرمین ایف بی آر

26 مئی 2016

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی +این این آئی) چیئرمین ایف بی آر نثار محمد خان نے پبلک اکائونٹس کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانامہ لیکس میں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائیگا، ٹیکس چھپانے کے حوالے سے جہاں سے بھی معلومات ملیں تحقیقات کی جائیں گی۔ اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہائس میں سید خورشید احمد شاہ کی زیر صدارت ہوا۔ جس میں وزارت کیڈ اور سی ڈی اے 2013-14ء کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ سید خورشید احمد شاہ کے موبائل فون کارڈز پر ٹیکس کی کٹوتی کے حوالے سے سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ موبائل فون کارڈز پر 32 فیصد ٹیکس کٹوتی ہوتی ہے جس میں سے18.5 فیصد ڈائریکٹ ٹیکس اور 14 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کی مد میں کٹوتی ہوتی ہے ٗاس کا زیادہ حصہ صوبوں کو جاتا ہے۔فیڈرل ،فاٹا،کشمیر ،گلگت بلتستان کو وفاقی حکومت کے حصے میں سے ادائیگی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس سال ہم قانون میں ایسی ترمیم لارہے ہیں جس سے فرانزک آڈٹ کیا جاسکے گا۔ آج سے پہلے صوبوں اور وفاقی حکومت کے پاس ایسا کوئی میکنزم نہیں تھا، ٹیلی کام کو اب فرانزک آڈٹ کے نظام کے اندر لایا جارہا ہے جس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ 32 فیصد حکومت کے نظام میں آتا ہے کیونکہ یہ کسی ایک کا نہیں ہم سب کا اجتماعی مسئلہ ہے۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ جو موبائل کمپنیاں سروس فراہم کررہی ہیں ہم نے ان سے وصول کرنا ہوتا ہے۔ شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ جب کوئی موبائل کمپنی کارڈز جاری کرتی ہے تو اسے ایف بی آر سے اجازت چاہیے اور انہی کارڈز کے حساب سے ٹیکس لینا چاہیے۔ شفقت محمود کے پاناما لیکس کے حوالے سے سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ پاناما لیکس کے حوالے سے ہوم ورک کررہے ہیں جو نام آئے ہیں ان کا جائزہ لیا جارہا ہے ان کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سال پرانے ٹیکس چھپانے کے کیسز کو ایف بی آر دوبارہ کھول سکتا ہے، بعض قوانین کی وجہ سے ایف بی آر کا کردار محدود ہوجاتا ہے، ہم حکومت کو ان قوانین کی ترامیم تجویز کریں گے۔ قو می اسمبلی کی پبلک ا کاؤنٹس کمیٹی نے کہا ہے کہ سی ڈی اے چوروں اور ڈاکوئوں کا اڈا بن گیا ہے، حکومت کر پشن ختم کر نے میں ناکام ہوگئی ہے۔ بدھ کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سید خورشیدشاہ کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میںسی ڈی اے کے مالی سال 2013-14 کے دوران 19 ارب سے زائد کی بے قاعدگیون کی جانچ پڑتال کی گئی ،اجلاس میں کمیٹی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آڈٹ اعتراضا ت کے جائزے کو مئو خر کر دیا گیا ۔اجلاس میں کمیٹی نے موبائل فون کمپنیوں کی جانب سے ٹیکس کی وصولی اور سرکاری خزانہ میں جمع نہ کرانے کا نوٹس لیا۔ چئیرمین ایف بی آر نثار محمد خان نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ موبائل فون کارڈز پر سیلز ٹیکس صوبے وصول کرتے ہیںسید خورشید شاہ نے کہا کہ بتایا جائے کہ کیسے پتا لگایا جاتا ہے کہ موبائل فون کمپنیاں جو ٹیکس وصول کرتی ہیں وہ خزانے میں جمع بھی ہوتا ہے یا نہیں، 35فیصد ٹیکس 111 ملین صارفین سے وصول ہوتا ہے۔ کیسے پتا لگایا جاتا ہے کہ کس کمپنی نے کتنے کارڈ فروخت کیے؟؟چئیرمین ایف بی آر نے بتایا کہ ٹیلی کام شعبہ خطے میں سب سے زیادہ ٹیکس پاکستان میں دے رہا ہے ۔ ابھی اس شعبے کا فرانزک آڈٹ درکار ہے جو ماضی میں نہیں ہوسکا، موبائل سم کی طرح موبائل سیٹ کی ایکٹیویشن کا نظام بھی درکار ہے، ممبر ایف بی آر نے بتایا کہ کارڈ پر ہم ٹیکس نہیںلیتے بلکہ ہم سروس پر ٹیکس لیتے ہیں۔ خورشید شاہ نے کہاکہ ہمارا سوال یہ یے کہ جو ٹیکس کمپنیاں صارفین سے لیتی ہیں کیا وہ سرکاری خزانے میں آتا ہے یا نہیں؟ اجلاس میں تحریک انصاف کے شفقت محمود نے ایف بی آر سے پانامہ لیکس اور دبئی میں پاکستانیوں کی جائیدادوں سے متعلق سوال پوچھا کہ آپ نے کبھی ایسے لوگوں سے سوال کیا کہ آپ نے یہ جائیداد کیسے خریدی؟جس پر چئرمین ایف بی آرنے کہا کہ ہم قانون کے تحت پہلے اپنا ریکارڈ چیک کرتے ہیں۔ جہاں کہیں بھی ٹیکس چوری کا علم ہوتا ہے ہم ایکشن لیتے ہیں۔ رکن کمیٹی شیخ روحیل اصغر نے کہاکہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کو سیاسی طور پر رگڑا جا سکتا ہے،۔ ان کو میڈیا میں ذلیل کیا جا سکتا ہے لیکن قانونی طور پر ان کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا۔ پی اے سی نے ڈپلو میٹک انکلیو اسلام آباد کے قریب کثیر المنزلہ عمارت کے لئے پلاٹ کی الاٹمنٹ پر پی اے سی کا اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ 4 ارب 80 کروڈ روپے میں پلاٹ نیلام ہوا،صرف دس فیصد ادائیگی پر پلاٹ حوالے کردیا گیا۔ قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے افسروں کے نام بتائے جائیں۔ سی ڈی اے بورڈ نے قواعد کی خلاف ورزی کی۔پاکستان میں دو قانون کیوں ہیں۔ کمیٹی نے سی ڈی اے میں بدعنوانی اور دیگر معاملات کا جائزہ لینے کے لئے ذیلی کمیٹی قائم کردی۔ذیلی کمیٹی شاہدہ اختر علی کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے ۔ اکائونٹس کمیٹی نے پی اے سی کے فیصلوں اور ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والے اداروں کے سربراہان کو ہتھکڑیاں لگانے کا عندیہ دے دیا، کمیٹی نے کہا کہ ہماری طرف سے دی جانے والی چھوٹ کا ناجائز فائدہ اٹھایا جاتا ہے، ڈپلو میٹک انکلیو اسلام آباد کے قریب کثیر المنزلہ عمارت کے لئے پلاٹ کی الاٹمنٹ پر پی اے سی نے اظہار برہمی کیا، کمیٹی نے گرینڈ حیات ہوٹل معاملے پر کمیٹی نے سی ڈی اے بورڈ کے تمام ممبران کو گرفتار کرنے کی بھی ہدایت کر دی۔ شفقت محمود کے پاناما لیکس کے حوالے سے سوال کے جواب میں چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ٹیکس چھپانے کے حوالے سے جہاں سے بھی معلومات ملیں گی ہم اس کی تحقیقات کریں گے۔ پاناما لیکس کے حوالے سے ہوم ورک کررہے ہیں جو نام آئے ہیں ان کا جائزہ لیا جارہا ہے ان کے خلاف قانون کے مطابق ایکشن لیا جائے گا۔