قصہ چہار درویش (جدید )

26 مئی 2016

تو لو سنو صاحبو آج کے دور کا قصہ چہار درویش یہ درویش بھی دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے پاس اگر کچھ ہے تو وہ درد مشترک ہے جس کی وجہ سے آج میں مجبور ہوا ہوں کہ ان کا تذکرہ کروں میر امن نے آرائش محفل کے نام سے قصہ چہار درویش لکھ کر اپنی اس داستان کو امر کر دیا تھا۔ سو ہم بھی بچپن میں الف لیلیٰ‘ سند باد‘ حاتم طائی‘ داستان امیر حمزہ کے ساتھ اسے بھی سینے سے لگا کر سوتے تھے اور رات کو کبھی سند باد جہازی‘ کبھی حاتم طائی‘ کبھی عمر و عیار اور کبھی الف لیلیٰ کے جنوں اور پریوں کے سپنے دیکھتے تھے۔ سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں بلدہ الامین مکہ مکرمہ کے اس درویش کا جس کا نام نامی اسم گرامی شیخ ابوبکرہے۔ لوگ انہیں خدام الحجاج کہتے ہیں۔ عرصہ یہ صاحب کم و بیش 50 سال قبل پاکستان کو چھوڑ کر شہر مکہ کے مکین بنے۔ سادہ زندگی بسر کرتے ہیں، گھر حرم پاک سے 10 منٹ کے فاصلے پر ایک سادہ درمیانے طبقے کے محلے میں تیسری منزل پر ہے۔ جہاں یہ دو بیٹوں ایک بیٹی اور اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ نماز عصر سے قبل جہازی سائز کے 3 بڑے تھرموسوں جن میں سے ایک میٹھی چائے دوسرے میں سادہ قہوہ تیسرے میں عربی قہوہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ 2 یا 3 کلو بسکٹ اور اتنے ہی کھجوریں لئے حرم پاک روانہ ہوتے ہیں اور بعد از عصر میزاب رحمت کو سامنے رکھتے ہوئے حرم پاک کے برآمدے میں بیٹھ جاتے ہیں جہاں ان کے بڑے فرزند شیخ محمد حرم پاک میں عبادت کرنے والوں کو محبت سے ادب سے بلا بلا کر زبردستی چائے بسکٹ اور کھجوروں سے ان کی تواضع کرتے ہیں۔ پاکستانیوں پر خاص طور پر نظر رکھتے ہیں ان کی ہر ممکن دلجوئی کرتے ہیں اور کوئی مسئلہ ہو تو حل کرتے ہیں۔ دعائیں الگ۔ ان کے پاس ہی شام کو ایک دو اور صاحب دل عربی خدام الحجاج آ جاتے ہیں جو کعبہ شریف کے خادم ہیں۔ ذات پات مسلک ملک و ملت کا پتہ نہیں بس عرب ہیں کہاں کے معلوم نہیں وہ بھی عربی روٹیاں ململ کی طرح ہلکی اور مزیدار اس کے ساتھ عربی پنیر زائرین کو کھلاتے ہیں۔ کیا عرب کیا عجم کیا ترک کیا ہندی کیا افریقی سب ان سے دعائیں لیتے ہیں نام و نمود یا صلہ کی انہیں کوئی پروا نہیں غریب زائرین حرم کو تحفے میں ڈھیروں دعائیں اور کھجوریں علیحدہ دیتے ہیں۔ دعا کریں ان کا دسترخوان اور دعا¶ں کا ذخیرہ تادیر سلامت رہے۔ جنہیں اللہ کریم نے اپنے گھر میں بیٹھنے اور زائرین کی خدمت کی توفیق دی ہے۔ رات کو دیر تک ان کے دوست احباب کے ہاں محفل ذکر و اذکار سے بھی عرب و عجم کے لوگ فیض پاتے ہیں۔ دوسرے درویش شعبہ فارسی جی سی یونیورسٹی لاہور کے ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی ہیں۔ صاف شفاف اجلا لباس چہرہ پرنور اور سفید داڑھی مل کر ان کے ذاتی کردار کی گواہی دیتی ہے۔ یہ 50 کتابوں کے مصنف ہیں، سابق رجسٹرار بھی رہ چکے ہیں جی سی کالج یونیورسٹی کے۔ بولتے اتنا کم ہیں کہ کم گوئی کو بھی حیرت ہوتی ہے۔ بولیں تو لفظ سلاست و روانی کو شرمندہ کرتے ہیں۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی شعبہ فارسی میں جہاں پہلے بھی منتخب روزگار اشرافیہ کا اجتماع ہے صدر نشیں رہتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اقبال شاہد صدر شعبہ فارسی جی سی یونیورسٹی کی بدولت ان سے علیک سلیک ہوئی۔ پہلی نظر میں عزت و احترام و رعب کی بدولت بات کرتے ہوئے زبان کٹتی ہے۔ مگر جب ان کے چہرے پر تبسم آ جائے تو زبان خود بخود پھسلتی ہے۔ ریاکاری سے پاک ایسے کہ اپنی کروڑوں روپے سے زیادہ کی 21 ایکڑ اراضی اور 50 لاکھ روپے نقد جیسی متاع گراں چپکے سے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے پرنسپل کے پاس جا کر اسے کالج اور طالب علموں کیلئے عطیہ کر دی۔ کہاں وہ لوگ جو ایک ایک پیسہ جمع کرتے ہیں حلال و حرام کی تمیز نہیں کرتے اور کہاں یہ لوگ اپنی تمام جمع پونجی ایک عظیم مادر علمی اور اس کے علم کے متلاشی طلبہ کیلئے وقف کر دیتے ہیں۔ تو صاحبو! اب ہم آتے ہیں تیسرے درویش کی طرف مگر فرق یہ ہے کہ یہ درویش خاتون ہے۔ اس کا تعلق کفر کے گڑھ بھارت سے ہے۔ جی ہاں اس درویش کا نام جے للتیا ہے۔ یہ بھارت کی ریاست تامل ناڈو کی وزیراعلیٰ ہیں جس نے حلف اٹھاتے ہی تمام وعدے پورے کر دیئے۔ اپنے صوبے کے غریب کسانوں کے چھ ارب روپے کے قرضے معاف کر دیئے۔ سکول میں جانے والے ہر بچے کو مفت کھانا دینے کا حکم دیا۔ ہر گھر کو 100 یونٹ مفت بجلی ملے گی صنعتی یونٹوں کو 750 یونٹ بجلی فری کر دی۔ ایک ایسا کام بھی کیا جس کیلئے ہمارے ملک عزیز کے لاکھوں نہیں کروڑوں لوگوں کے دلوں سے دعا نکل رہی ہے کہ خدایا ہمیں بھی جے للیتا جیسی حکمران عطا فرما۔ پورے تامل ناڈو میں غریب والدین کو بیٹی کی شادی پر 7 تولہ سونے کے زیورات اور 50 ہزار روپے نقد حکومت دے گی تاکہ ان کی شادی ہو سکے۔ اب رہ گیا چوتھا درویش جس کا نام عبدالستار ایدھی ہے یہ آج کل علیل ہیں۔ ساری زندگی زندوں‘ مردوں‘ بوڑھوں اور بچوں کی خدمت کرنے والا۔ ان کا بول و براز صاف کرنے والا گلے سڑے مردوں کو ہاتھوں سے نہلا کر ان کا کفن دفن کرنے والا جس کے خیراتی ادارے کا بجٹ اربوں روپے ماہانہ ہے۔ خود ایک عام ہسپتال میں عام پاکستانیوں کی طرح جنرل وارڈ میں زیرعلاج ہے۔ اس عظیم درویش نے ساری زندگی بے گناہ پھینکے گئے نومولود بچوں کو پالا پوسا۔ گھر سے بھاگی دنیا کے جہنم میں آئی لاکھوں عورتوں اور لڑکیوں کو سہارا دیا۔ صرف نزلہ زکام ہو تو ہمارے امرا اور حکمران لندن‘ پیرس اور نیویارک کا رخ کرتے ہیں مگر یہ درویش بضد ہے کہ اسی ملک کے سرکاری ہسپتال میں علاج کرانے جہاں اس جیسے کروڑوں پاکستانی روز مرتے اور جیتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں ہمارے سروں پر حکومت کرتے ہیں اور یہ درویش ہمارے دلوں پر حکومت کرتا ہے۔ لاکھوں لوگ اس کے قائم دستر خوانوں سے کھانا کھاتے ہیں۔ اب اس سے زیادہ تاب نہیں کہ قلم کچھ اور لکھے۔آئیے دعا کریں یہ لوگ تادیر سلامت رہےں۔