قومیں پلوں سے بنتی ہیں یا ہسپتالوں سے؟

26 مئی 2016
قومیں پلوں سے بنتی ہیں یا ہسپتالوں سے؟

”یار! تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان نے سوات میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ حکومت میں آئے تو الزام نہیں لگائیں گے۔ میاں نوازشریف کو سیدھا جیل میں ڈال دیں گے،، ایک شخص نے دوسرے سے کہا۔

سب سے پہلے تو اس بیان سے یہ مفہوم نکلتا ہے کہ عمران خان حکومت میں آ کر ایک چار پائی پر بیٹھیں گے اس چارپائی پر شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین اور وزیراعلیٰ پختونخواہ پرویز خٹک، اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بھی ہوں گے۔ یہ جرگہ بیٹھے گا۔ چار پائی کے نیچے زمین پر جرگہ کی کارروائی سننے کے لئے عام لوگ بیٹھے ہوں گے۔ عام لوگوں میں سے ایک شخص اپنی جگہ سے اٹھ کر پوچھے گا۔ میاں نوازشریف صاحب پر کون سا الزام ہے؟
عمران خان صاحب فرمائیں گے ہماری طرف سے میاں صاحب پر کوئی الزام نہیں ہے ہم نے صرف انہیں جیل بھیجنا ہے۔ دوسرا شخص استفسار کرے گا کہ یہ کیسا مقدمہ ہے، جس میں پاکستان کے تین مرتبہ وزیرعظم کے عہدے پر رہنے والے معزز ترین شخص کو جیل بھجوایا جا رہا ہے۔ عمران خان فرمائیں گے میں نے اپنی زندگی کا بہترین زمانہ کرکٹ کھیلنے میں گزارا ہے۔ میں نے ہر ملک کی سردی گرمی چکھی ہے۔ ہر ملک کا پانی پیا ہے۔
ہر ملک کے خربوزے اور تربوز کھائے ہیں ہر ملک کی بوتلیں اور جوس پیے ہیں بے شمار ملکوں کی گلیاں بازار اور عمارات دیکھی ہیں لا تعداد ملکوں کی بھینسیں، گائیں اور بکریاں ، شیر، چیتے، ہرن اور طوطے دیکھے ہیں ان گنت خواتین و حضرات کو دیکھا ہے اور ان سے ملا ہوں۔
میرا سارا تجربہ یہ کہتا ہے کہ اگر میاں صاحب جیل چلے جائیں تو سارا ملک راہ راست پر آ جائے گا۔ دوسرا شخص اٹھ کر کہے گا۔ ایک شخص نے میاں صاحب کو پہلے بھی جیل میں ڈالا تھا۔
اس شخص کو بھی پاکستان کی فکر کھائے جاتی تھی اور اس نے بھی یہی سوچ لیا تھا کہ میاں نوازشریف صاحب کے ہر دور کے خربوزوں میں مٹھاس نہیں ہوتی، تربوز میں سرخی نہیں ہوتی، آموں میں رس نہیں ہوتا، مراد یہ کہ ملک کے سب ادارے تباہ و برباد ہو چکے ہیں، ملک ڈیفالٹ ہو رہا ہے۔ اس نے میاں صاحب کو جیل میں ڈال کر دم لیا۔
پھر سب نے دیکھا کہ اس شخص کے دور میں عوام کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ ملک کی کشتی کو طوفانوں سے نکالنے کا دعویٰ کرنے والے اس شخص کی اخبار میں اشتہاری ہونے کی خبر شائع ہوئی ہے۔ چک شہزاد کے فارم ہاﺅس کے دروازے پر اشتہار چسپاں کر دیا گیا ہے۔ خان صاحب فرمائیں گے۔ تم لوگ مریخ پر رہتے ہو کیا۔ تم نے لاہور میں رکشے چلتے نہیں دیکھے۔ ان کے پیچھے اکثر لکھا ہوتا ہے
ضد نہ کر سوہنیا، خان آپ بڑا ضدی اے“
امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے کراچی میں ”کرپشن فری پاکستان چلڈرن واک“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج میں بچوں کے درمیان ہوں۔ آسمان ستاروں اور چاند کی وجہ سے خوبصورت ہے تو ان کی وجہ سے یہ دھرتی خوبصورت ہے اور یہ ملک آباد ہے ان بچوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ انہیں کرپشن فری پاکستان چاہئے ان بچوں کو ایک روشن، خوشحال اور امن والا پاکستان چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے حکمرانوں کو اپنے بچوں سے پیار ہے، قوم کے بچوں سے پیار نہیں ہے۔
ہم نے چھ ماہ قبل کرپشن فری پاکستان کی مہم کا آغاز کیا تھا اور آج ملک کے بچے بچے کا نعرہ کرپشن فری پاکستان ہے ملک کی اکثر سیاسی جماعتوں کے لوگوں کی دولت ملک سے باہر نکلی ہے اور آف شور کمپنیاں ان کے نام ہیں لیکن جماعت اسلامی کے کسی رکن اسمبلی اور لیڈر کے خلاف کوئی کرپشن کا الزام نہیں ہے کسی آف شور کمپنی میں ہمارا نام نہیں ہے
جہاں تک بچوں کے درمیان رہنے اور بچوں سے پیار کرنے کا تعلق ہے تو وہ ایک روز قبل میاں نواز شریف صاحب، ایک ننھی منی بچی کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ رکھے ہوئے تھے۔
نواز شریف صاحب تو قوم کے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اکثر جذباتی ہوجاتے تھے اور فرماتے تھے کہ میں شہباز شریف صاحب سے کہوں گا کہ وہ ہر طالب علم کو لیپ ٹاپ ضرور دیں۔ شہباز شریف صاحب تو سکولوں کالجوں کے طلبہ و طالبات، جو قوم کے بچے کہلاتے ہیں، سے پیار کرتے ہیں انہیں انعام و اکرام دیتے ہیں۔ بعض تقریبات میں قوم کے بچوں کی افلاس اور مجبوریاں دیکھ کر آب دیدہ بھی ہوتے رہے ہیں اب لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ سیاست دان ”کرپشن فری پاکستان“ کے سلسلے میں جب تقریر کرتے ہیں توکس سے کہتے ہیں کیا وہ مائیک سے مخاطب ہوتے ہیں کہ مائک ملک میں پائی جانے والی کرپشن ٹھیک کردے گا۔
کیا وہ پولیس سے مخاطب ہوتے ہیں تو وہ ملک میں پائے جانے والی کرپشن ٹھیک کردے گی یا پھر فوج سے مخاطب ہوتے ہیں کہ وہ آئے روز کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ دے یا ہواﺅں سے مخاطب ہوتے ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم چو ما دیگرے نیت والا معاملہ ہے۔ ہر سیاسی دکان پر ایک بورڈ آویزاں ہے۔ چوروں اور جعل سازوں سے بچئے، ہمارے ہاں بازار سے ارزاں انصاف دستیاب ہے۔
یہ بحران کا حل ہمارے پاس ہے۔ سڑکوں اور پلوں سے قومیں نہیں بنتیں سکولوں اور ہسپتالوں سے بنتی ہیں۔ ہم سے کتابیں پڑھیں۔ ٹیوشن پڑھیں۔ ملک میں بحران ہی بحران ہیں ۔عوام تو اب تک دردوں ، ٹھیسوں، تکلیفوں، اذیتوں، مشکلوں اور مصبتوں کو کم کرنے والے بورڈ ہی پڑھتے چلے جارہے ہیں۔