خارجی خطرات اور داخلی عدم استحکام

26 مئی 2016

خطے کے معروضی حالات اور پاکستان مخالف قوتوں کی مسلسل سازشوں اور ریشہ دوانیوں کی بدولت ہمارے لیے خارجی محاز پر خطرات میں نہ صرف ہر وقت اضافہ ہو رہا ہے بلکہ یہ خطرات اب اپنی تمام حدود سے تجاوز کر رہے ہیں۔ویسے تو اپنی تاریخ کے ہر دور میں پاکستان اس طرح کے خطرات سے دوچار رہا ہے مگر بہت سی وجوہات کی بنا پر آج کی صورتِ حال پہلے سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے۔ اس صورتِ حال کو جو چیز زیادہ خطرناک بنا رہی ہے وہ ہمارا داخلی عدمِ استحکام اور تیزی سے بڑھتی ہوئی غیر یقینی کی صورتِ حال ہے۔ ہندوستان کی تو ہمیشہ ہی سے کوشش رہی ہے کہ ہمیں ہر محازپر نقصان پہنچایا جائے اور ایک دُشمن ہونے کی وجہ سے اُس سے اسی رویے کی توقع بھی رکھنی چاہیے گذشتہ تین دہائیوں سے افغانستان خانہ جنگی کی صورتِ حال سے دوچار ہے جس کا براہِ راست اثر ہم پر بھی پڑا ہے۔ نتیجتاً ہماری زندگی کا ہر شعبہ کسی نہ کسی طرح سے اس سے متاثر ہوا ہے مگر آج افغانستان اپنی ہر بُرائی اور عدم ستحکام کا ذمہ دار ہمیں گردانتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے کے باوجود بھی امریکہ ہم پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں اور اُس کا رویہ معتصبانہ ہے۔F-16 طیاروں کی عدم فراہمی اور پاکستان کو دی جانے والی امداد میں کٹوتی اسی طرز عمل کی عکاسی کرتے ہیں ایران اورہندوستان کے درمیان تیزی سے بڑھتا ہوا تعاون ہندوستانی خفیہ ایجنسی را کی طرف سے راہداری زمین کو استعمال کرنے کے واقعات بھی ہمارے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ بنگلہ دیش میں سیاسی بُنیادوں پر انصاف کا قتلِ عام اور 1971 کے دلخراش واقعات کی بنا پر بزرگ سیاسی رہنماﺅں کی پھانسیوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ حسینہ واجد کا بھارت کی طرف کُھلا جھکاﺅ بھی خطرے کی ایک گھنٹی ہے۔ اس ساری صورتحال میں خطرناک اضافہ حالیہ دنوں کے چند واقعات کی صورت میں ہوا ہے۔ اس میں افغانستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف سنگین الزمات،ایران،ہندوستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعاون کے نئے معاہدے اور افغان طالبان کے سربراہ مُلا اختر منصور کی پاکستان کے علاقے بلوچستان میں ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کا واقع شامل ہے۔ ان تمام واقعات اور پیش رفت کی وجہ سے ہمارے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو بدنام کرنا اور بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنا ہے تا کہ دُنیا کو یہ باور کروایا جا سکے کہ ہم علاقائی امن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں لہٰذا پاکستان کی ایٹمی اور عسکری صلاحیت کو محدود کر دیا جائے۔ پاک چین بڑھتا ہوا اقتصادی تعاون بھی ہمارے دُشمنوں اور مخالفین کیلئے کسی صورت قابلِ برداشت نہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری کا منصوبہ ان تمام قوتوں کا مشترکہ ہدف ہے جس میں خطے کے باہر سے بھی کچھ ممالک شامل ہیں۔ اس ساری صورتِ حال میں سب سے زیادہ خطرناک بات ہمارا اندرونی عدم استحکام ہے۔ ان پاکستانی مخالف قوتوں کو ہمارے اندر سے ایسے عناصر میسر ہیں جو اپنے سیاسی اور ذاتی مفاد کی خاطر عدم ستحکام اور غیر یقینی کی صورتِ حال پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ یہ عناصر یہ سب کچھ سیاسی آزادی،حکومت مخالفت اور آزادیِ رائے کے نام پر کر رہے ہیں مگر اس کا نقصان وہ بحیثیت مجموعی ملک کو پہنچا رہے ہیں۔ نظام میں عدم تسلسل نے ہمیں پہلے ہی بہت نقصان پہنچایا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ہاں ادارے مضبوط نہیں ہو سکے اور آج بھی ہم نئے تجربات کرتے نظر آتے ہیں۔ معاشی کمزوری ملکی سالمیت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہوتی ہے کیونکہ ملکی دفاع اُس وقت تک مضبوط نہیں بنایا جا سکتا جب تک سرمایہ اور ذرائع نہ ہوں۔ پاکستان کی فوج بلاشبہ دنیا کی بہترین فوج ہے جس کا ثبوت اس نے ہر مشکل گھڑی میں دیا ہے مگر جب تک ذرائع نہیں ہونگے عسکری ضروریات پوری کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اہم حکومتی عہدوں پر فائز شخصیات ریاست کی نمائندہ ہوتی ہیں انھیں دُنیا کی نظروں میں داغدار کر کے اور اُن کی تذلیل کر کے ہم کوئی قومی خدمت نہیں کر رہے۔ یہ بات ہر وقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ شخصیات تو آتی جاتی رہتی ہین مگر عہدوں کو داغدار کر کے ہم دراصل نظام کو مزید کمزور کر رہے ہیں کیونکہ ایسا کرنے والے اگر کل خود ان عہدوں پر فائز ہوئے تو دوسروں سے بہتری کی توقع کیسے کر سکتے ہیں۔ میڈیا کو بھی اپنے طرز عمل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضروت ہے کیونکہ ہر وقت ناامیدی اور منفی سوچ پھیلا کر ہم کیا قومی خدمت کر رہے ہیں۔ پانامہ پیپرز میں دُنیا کے ہر ملک کے افراد کے نام شامل ہیں مگر ہمارے ہاں اسے بُنیاد بنا کر جو تماشہ لگایا گیا ہے وہ شاید ہی کہیں اور ہو۔ اس ساری صورتحال میں ہمیں بحیثیت قوم سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ جمہوری نظام کی تمام تر کمزوریوں کے باوجود اس کے تسلسل میں ہی سب کی بہتری ہے۔ حکومت کو اپنی آئینی مدت ہر حال میں پوری کرنی چاہیے اور اُس کے بعد عوام کو اپنی حتمی رائے دینے کا موقع دینا چاہیے۔ آج ملکی صورت حال تمام فریقین سے سنجیدہ،دور اندیشانہ اور باہمی اتحاد و یگانگت پر مبنی طرزِ عمل کی متقاضی ہے جو ایسا نہیں کرے گا تاریخ یقینا اُسے معاف نہیں کرے گی۔ اگر ہم خود اپنے گرد گھیرا تنگ نہ کریں تو کوئی دوسرا کتنی بھی کوشش نہ کر لے ایسا نہیں کر سکتا۔ آج ہر طرف سیاست ہی گفتگو کا محور نظر آتی ہے جبکہ ملکی سلامتی کو درپیش سنگین خطرات کا ذکر صرف سرسری ہی رہ گیا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بحیثیت مجموعی ہمیںآج بھی صورتِ حال کی سنگینی کا احساس نہیں۔

حکومت،سیاسی جماعتوں،میڈیا،دانشوروں اور سول سوسائٹی کو اس بارے میں ایک سنجیدہ اور مخلصانہ حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے جو صرف مل بیٹھے اور اپنی ذات سے بڑھ کر سوچنے سے ہی ممکن ہے۔یاد رہے کہ سیاسی،گروہی،لسانی،مذہبی اور علاقائی بنیادوں پر بٹی قومیں چاہیے حجم میں کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں اندر سے بہت کمزور ہوتی ہیں کیونکہ وہ دُشمن کا ایک آسان ہدف ہوتی ہیں۔