نواز شریف نہیں عمران خان اکلاپے کا شکار ہونگے

26 مئی 2016

کرپشن، کرپشن، کرپشن.... کون کر رہا ہے؟ کون روکے گا؟ اسے روکنے کا دعویٰ کرنیوالے کیا کر رہے ہیں؟ کون کون اسکی زد میں آئے گا؟ پاناما لیکس کے بعد گرد و پیش میں سوالات ہی سوالات تیر رہے ہیں۔ جواب کسی کے پاس نہیں اور کرپشن کرپشن کے شور میں معاملات بکھر کر ایسے اُلٹ پھیر سے دوچار ہوئے ہیں کہ سیدھی سے سیدھی بات بھی گھمبیر ہو گئی ہے۔ دراصل بات کچھ ہے اور معاملات کچھ اور طرح چل رہے ہیں۔ پاناما لیکس کے باطن میں جھا نک کر دیکھیں تو بات نواز شریف اور ان کے خاندان کی مبینہ کرپشن کی نہیں بلکہ ان کو اقتدار سے ہٹانے کی ہے۔ اسی خاطر امپائر کی انگلی اُٹھنے کی بات کی جاتی ہے۔ اور کبھی 2016ءکو نواز شریف کے اقتدار کا آخری سال قرار دیا جاتا ہے۔ سیاست میں ایشو یا بحران پیدا کرنے کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے۔ اس میں زبان کو دل کا رفیق نہیں بنایا جاتا۔ زبان پر کرپشن کرپشن اور دل میں صاحبِ اقتدار کو حکمرانی سے محروم کرنے کا ارمان مچل رہا ہوتا ہے۔ اسی خاطر حکمت عملیاں وضع کی جاتی اور طریقہ کار مرتب ہوتے ہیں۔ سننے اور دیکھنے والوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا آسان بات ہے لیکن انہیں حقیقت سے نا آشنا رکھنا مشکل امر ہے۔ پاناما لیکس سے سیاسی فوائد حاصل کرنے کے خواہشمندوں کیلئے اب ابتلا کا وقت آتا جا رہا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ پارلیمنٹ اور اس سے باہر نواز شریف اور ان کے ساتھیوں کو اکیلا کر دیا جائے تو اقتدار سے محرومی ان کا نصیب بن جائے گی لیکن اب اسے کیا کہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن اور اسفند یار ولی کی نواز شریف کے مفاد میں موثر آوازوں نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اور تو اور ایم کیو ایم کے مبہم رویّے سے بھی کافی حد تک متحدہ اپوزیشن کا سانپ مر گیا اور لاٹھی بھی بچ گئی۔ فی الوقت نواز شریف دشمنی اور مخالفت میں رائے عامہ اور سیاسی حلقوں کو متحرک کرنے کی مہم اس حد تک دم توڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے حلقوں نے اکیلے احتجاج کیلئے نکلنے کا عندیہ بھی دینا شروع کر دیا ہے۔
درحقیقت تحریک انصاف اور اس کے سربراہ عمران خان نے جو سیاسی حکمت عملی نواز شریف کو اقتدار سے محروم کرنے کی اپنائی تھی، اس سے کچھ آگے کی منصوبہ بندی مسلم لیگ ن اور نواز شریف نے بھی کر لی ہے۔ جس پر عملدرآمد کا سلسلہ بتدریج جاری و ساری ہے۔ پہلے اسفند یار ولی کے بعض کلیدی بیانات منظر عام پر آئے اور اس کے ساتھ ساتھ مولانا فضل الرحمٰن کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ سرگرمیاں بھی طول پکڑنا شروع ہوئیں۔ نوبت بہ اینجا رسید کہ انہوں نے لندن میں آصف زرداری سے ملاقات بھی کر ڈالی، جو اس لحاظ سے فیصلہ کن بھی کہی جا سکتی ہے کہ زرداری نے آف دی ریکارڈ ان سے بعض وعدے کر لئے ہیں۔ جن میں سب سے بڑا وعدیہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کوئی کام ایسا نہیں کرے گی جس کا فائدہ نواز شریف کے خلاف عمران خان کے پلڑے میں جاتا ہو۔ فضل الرحمٰن ایک بڑے زیرک اور نباض سیاستدان ہیں، جن کی منصوبہ بندیاں ہماری ملکی سیاست میں پہلے بھی مسلمہ اور بے بدل رہی ہیں، لہٰذا واقفانِ حال کا برملا کہنا ہے کہ اب عمران خان کو پیپلز پارٹی اور اس کی لیڈر شپ سے کوئی ایسی توقع نہیں رکھنی چاہئیے کہ وہ بالواسطہ یا بلا واسطہ نواز شریف مخالف مہم میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ متحدہ اپوزیشن کی بات اور ہے۔ یہ چوں چوں کا مربہ ہے، جہاں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے موجود ہیں۔ لیکن اس کا مجموعی موقف جارحانہ نہیں موافقانہ ہے اور پھر اس کی لیڈر شپ خورشید شاہ جیسے متوازن اور خوش خیال و خوش گفتار لیڈر کے ہاتھ میں ہے، جو میثاقِ جمہوریت سے بھی عرق کشید کرکے جمہوریت کی فضا کو معطر رکھنا چاہتے ہیں۔ عمران خان جیسے متحارب خیالات و تصورات کے سیاسی لیڈر کے لئے ان کا وجود پہلے سے ہی ساز گار نہیں، چہ جائیکہ آئندہ زرداری کے موقف میں واضح تبدیلی کے بعد عمران خان یا پی ٹی آئی ان سے بعض، ایسی توقعات وابستہ کرے کہ جو صرف مفروضہ ہی کہلا سکتی ہیں۔ عمیق نگہی سے دیکھا جائے تو مولانا فضل الرحمٰن اور اسفند یار ولی نے عمران خان کی نواز شریف مخالف مہم کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف نواز شریف کے خلاف محض ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری اور ان پر مبینہ سختیوں کی وجہ سے تھا۔ رہ گئے بلاول بھٹو زرداری اور انکی نواز شریف کے خلاف جارحانہ تقریریں، واقفان حال کے مطابق یہ سب پارٹی کے اعتزاز احسن دھڑے کا کیا دھرا تھا، اس میں آصف زرداری کا کوئی کردار نہیں۔ مزید برآں یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت بھی پیپلز پارٹی آصف زرداری ہی کے کہنے سننے میں ہے، ان کا پارٹی پر کنٹرول بلاول بھٹو زرداری سے زیادہ صائب ہے۔ اسی لئے مولانا فضل الرحمٰن نے بلاول بھٹو کے بجائے آصف زرداری سے ملاقات کو ترجیح دی اور دینی بھی چاہئیے تھی، اس لئے بھی کہ بلاول پر سب سے بڑا اعتراض بچپنے کی سیاست کا ہے۔ ان کی بعض باتیں جو وہ جوشِ خطابت میں کہہ جاتے ہیں، یار لوگ قہقہوں میں تحلیل کر دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے ساتھ جو کچھ بنوں کے جلسہ میں ہوا، وہ بھی متحدہ اپوزیشن سمیت ساری قوم نے دیکھا۔ انہوں نے صوبہ پختونخواہ کی مجموعی ترقی اور اپنی حکومت کی کارکردگی بارے جلسہ عام کے شرکاءسے تین سوالات کئے جن کے جوابات انہیں صفر میں ملے۔ عمران مضبوط اعصاب کے مالک ہیں جو ان منفی عوامی جذبات کو ہضم کر گئے، ورنہ نفسیاتی طور پر کسی بھی سیاستدان کا مورال اسی مقام پر ازحد کمزور ہوجاتا ہے، انہوں نے عوامی احساسات کی کبھی پرواہ کی نہ اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کی اس وقت لگتا یہ بھی ہے کہ نواز شریف دشمنی کی موجودہ لہر میں وہ بتدریج اکیلے رہ جائیں گے اور یہ بھی ہوگا کہ انہیں ڈاکٹر طاہر القادری جیسا کوئی ایک لیڈر یا جماعت بھی نہیں ملے گی جو ان کا اس سارے گورکھ دھندے میں ساتھ دیں۔ دھرنے کی سیاست کا دھڑن تختہ وہ پہلے خود ہی کر چکے ہیں، لہٰذا اس بات کا قوی امکان بھی ہے کہ دھرنا دینے کی کوشش ان کے لئے سیاسی اور جماعتی طور پر سخت نقصان دہ ہوگی۔ اس سے پہلے انہیں گھر جانے کیلئے ساز گار ماحول مل گیا تھا، اب ایسا بھی نہیں ہوگا۔ سابقہ دھرنے سے ان کے ذاتی اور اجتماعی تضادات کھل کر سامنے آگئے تھے۔ اب اگر ایسا کیا تو سب چٹہ بٹہ کھل کر روزِ روشن کی طرح عیاں و بیاں ہوجائے گا۔ لہٰذا واقفانِ حال کا محتاط انداز سے یہ بھی کہنا ہے کہ شاید وہ اس مرتبہ حالات و واقعات کے تیور دیکھ کر دھرنے کی جانب نہ جائیں، یا پھر کوئی اور حکمت عملی وضع کرنے کی کوشش کریں۔ تاہم وہ جو بھی منصبوبہ بندی کریں گے، اس میں ان کی اپنی ذاتی خواہشات کا عمل دخل سب سے ذیادہ ہوگا، یہ اس لئے کہ وہ ماضی میں یہی وطیرہ اختیار کرتے رہے ہیں۔ فارسی میں مقولہ ہے‘ جبل گردد جبلت نگردد۔ وہ اپنی ذاتی جبلت سے صرف نظر کرنے کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔