مقبوضہ کشمیر: جھڑپ میں2 مجاہد شہید، زبردست مظاہرے، مسلم تشخص کے خاتمہ کے خلاف آج ہڑتال ہو گی

26 مئی 2016

سری نگر (اے این این+ کے پی آئی+ اے پی پی ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ساتھ تازہ جھڑ پ میں دو مجاہد شہید، سکیورٹی فورسز کا مجاہدین کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کرنے کا دعوی، سرائے بالا جھڑپ پر علاقے میں مکمل ہڑتال ٗ احتجاجی مظاہرے، لوگوں کی بڑی تعدادنے شہید ہونے والے دو مجاہدین کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی، پولیس کا مظاہرین پر وحشیانہ لاٹھی چارج، مکان مالک سمیت5افراد کو گرفتار کر لیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق سرائے بالا میں مجاہدین کی موجودگی کی ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر بھارتی فوج نے علاقہ کا محاصر ہ کیا اور اس مکان کو گھیرنے کی کوشش کی جس میں مجاہد موجود تھے۔ سکیورٹی فورسز نے مکان کے گرد گھیرا ڈالتے ہی فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں دو مجاہد شہید جبکہ ایک زخمی ہو گیا۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی تشخص کو ختم کرنے کے بھارتی منصوبوں کے خلاف حریت قیادت کی اپیل پر آج (جمعرات کو) مقبوضہ کشمیر بھر میں احتجاجی ہڑتال ہو گی۔ اس موقع پر ریاست کے طول و عرض میں کاروبار زندگی معطل رہے گا۔ احتجاج بھی کیا جائے گا جبکہ جمعہ کے روز جلسے جلوس اور مظاہرے ہونگے۔ چیئرمین حریت کانفرنس سید علی گیلانی نے سرائے بالا جھڑپ کو مشکوک قرار دیتے ہوئے واقعے کی کسی غیرجانبدار ادارے کے ذریعے سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے محبوبہ مفتی کے اس بیان کو مضحکہ خیز اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا جس میں انہوں نے پولیس کی اس بات کے لیے تعریف کی ہے کہ وہ کشمیر کو شام اور پاکستان بننے سے بچا رہی ہے۔ گیلانی نے کہا کہ محبوبہ مفتی جس پولیس کے رول کا تذکرہ کر رہی ہے اس کا سپیشل آپریشن گروپ جموں کشمیر میں سینکڑوں نہتے لوگوں کی ہلاکت میں ملوث رہی ہے اور ان میں متعدد ایسے ہیں جنہیں حراست میں لیکر ماورائے عدالت قتل کر دیا گیا ہے۔ میر واعظ عمر فاروق نے کہا حریت کانفرنس کشمیر مخالف پالیسیوں پر خاموش نہیں بیٹھے گی، ہر حال میں عوامی مفادات کا تحفظ کرینگے، مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں فوجی کالونیوں کی تعمیر اور کشمیری مخالف صنعتی پالیسیاں ترتیب دے کر یہاں کے وسائل کو ہڑپ کرنا چاہتی ہے۔ حریت کانفرنس (گ) نے کشمیری طلباء پر حملے کیخلاف ریاستی انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی انتظامیہ اور قابض بھارتی فوج انسانی حقوق کی کھلے عام خلاف ورزیوں میں مصروف ہیں، حکومت معاملے کو محض زبانی جمع خرچ سے ٹالنے کی پالیسی پر کاربند ہے۔ کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے نئی صنعتی پالیسی، بھارتی فوجیوں اور پنڈتوں کیلئے علیحدہ کالونیوں کی تعمیر اور جموںکے مسلمانوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل وضع کرنے کی غرض سے مشاورتی عمل جاری رکھتے ہوئے سرینگر میں سرکاری ملازمین کے اتحاد ایمپلائز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے قائدین سے ملاقات کی۔ نامعلوم مسلح افراد نے کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں ایک 22 سالہ نوجوان کو گولی مار کر قتل کر دیا ہے۔ نیشنل فرنٹ کے چیئرمین نعیم احمد خان نے کہا ہے کہ بھارت نے جموں و کشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کر دیا ہے جہاں جمہوری سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔ پولیس نے عارضی ملازمین کی طرف سے سیکرٹریٹ گھیرائو پروگرام کو ناکام بناتے ہوئے لاٹھی چارج کیا اور 100 سے زائد ملازمین کو حراست میں لے لیا جبکہ پولیس ایکشن کے نتیجے میں درجن بھر ملازمین کو چوٹیں آئیں۔