کرپٹ سرکاری ملازموں کو عام لوگوں سے زیادہ سزا ملنی چاہئے: سپریم کورٹ

26 مئی 2016

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے خیبر پی کے اور بلوچستان میں قومی خزانے کو نقصان پہنچانے سے متعلق دو الگ الگ مقدمات میں ڈپٹی ڈائریکٹر صوابی ڈویلپمنٹ اتھارٹی روح الامین سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے الزامات سے بری کر نے کا حکم دیدیا جبکہ بلوچستان میں گندم کی بوریوں میں کرپشن کرکے قومی خزانے کو 4کروڑ 48لاکھ نقصان پہنچانے والے ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر شاکر جان کی بریت کی اپیل خارج کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، ہائوسنگ سوسائٹیوں میں کیا ہوتا ہے کیسے پلاٹ ادھر ادھر ہوتے سب پتہ ہے ، ہائوسنگ سوسائٹی کے حوالے سے نیب کے کئی کیس ہمارے پاس آتے، سرکاری افسروں کو کرپشن پرعام لوگوں سے زیادہ سزا ہونی چاہیے۔ دوسرے مقدمے میں عدالت سے ملزم کو بری کرنے کی استدعا کرتے ہوئے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ میرے موکل نے گندم کی سٹاک میں کوئی کرپشن نہیں کی۔ جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، سرکاری ملازمین کو کرپشن پر عام لوگوں سے زیادہ سزا ہونی چاہیے ، ریکارڈ کے مطابق ملزم پر چودہ ہزا بوریاں ہڑپ کرنے کا الزام ہے ، یہ عوام کا حق تھا ، ملزم کو جرمانہ کم کیا گیا اتنی رقم میں تو اسلام آباد میں گھر نہیں ملتا ، پولیس عوام کی محافظ ہے اگر کوئی پولیس والا ہی عوام کو قتل کرنا شروع کر دے تو عام آدمی کی نسبت اس کو زیادہ سزا ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر صوابی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو کرپشن کیس میں بری ہوتے ہی دل کا دورہ پڑ گیا جس کے باعث انہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔