امریکی ڈرون حملوں پر چودھری نثار کا موقف اور نئی امریکی ڈکٹیشن

26 مئی 2016

وزیر د اخلہ کوئٹہ شوریٰ اور طالبان قیادت کی پاکستان موجودگی کا تاثر بھی تو زائل کریں

وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خاں نے کہا ہے کہ ڈرون حملے پاکستان، امریکہ تعلقات پر نہائت سنگین اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر بلوچستان میں ہونے والے امریکی ڈرون حملے میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کر سکتے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی اور عسکری قیادت اس بات پر متفق ہے کہ پاکستان میں امریکی ڈرون حملے پاکستان کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ہمیں ناقابل قبول ہیں۔ اگر امریکہ کا یہ استدلال تسلیم کر لیا جائے کہ اسے اپنی سلامتی کے تحفظ کے لئے کہیں بھی کارروائی کرنے کا حق حاصل ہے تو پھر یہ حق دوسرے ممالک کے لئے بھی تسلیم کرنا پڑے گا جس سے دنیا میں جنگل کی حکمرانی ہو جائے گی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ہم بھی امریکی منطق کو مان کر افغانستان میں دہشت گردوں پر گولہ باری کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دھماکے کرنے والے افغانستان میں بیٹھے ہیں جبکہ پاکستان کی مخالفت کرنے والے مغرب میں آزاد پھر رہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ولی محمد افغانستان میں تھا تو امریکہ کے لئے خطرہ نہیں تھا، پھر پاکستان میں داخل ہوتے ہی وہ خطرہ کیسے بن گیا۔ گاڑی کو پاکستان میں نشانہ بنانے کی منطق سمجھ سے بالاتر ہے۔ شنید ہے کہ ڈرون طیارے نے پاکستان کی سرحد عبور نہیں کی بلکہ کسی اور ملک کی سرحد سے پاکستان کی سرحد میں موجود گاڑی کو میزائل سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ یہ بھی فیصلہ کر لے کہ اس خطے میں کون سی پالیسی موثر اور کارگر ہے۔ ان کے بقول افغان حکومت سے مذاکرات میں ملا اختر منصور نے طالبان کی قیادت کی، پھر وہ مذاکرات کے لئے خطرہ کیسے تھا۔ وہ خطرہ ہوتا تو مری مذاکرات کیسے ہوتے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سربراہ کو قتل کرکے طالبان سے کہا جائے کہ آ کر مذاکرات کریں۔ انہوں نے کہا وہ تصدیق نہیں کر سکتے کہ جائے حادثہ سے ملنے والا پاسپورٹ اس شخص کے زیر استعمال تھا جو ڈرون حملے میں مارا گیا۔ یہ حملہ بہرصورت پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی تھا۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونز نے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی ختم کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پرامن بقائے باہمی کے فلسفہ کو ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کا احترام کرکے ہی لاگو کیا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے امریکہ نے لیگ آف نیشنز کے اصولوں اور قواعد و ضوابط کی بھی دھجیاں بکھیریں اور اقوام متحدہ کے وضع کردہ قواعد و ضوابط اور انسانی حقوق کے چارٹر کو بھی درخور اعتنا نہیں سمجھا اور اس کے برعکس سپر پاور ہونے کے زعم میں اپنی سلامتی کے تحفظ کے نام پر اس نے کسی بھی دوسرے ملک کی آزادی و خود مختاری میں مداخلت کرنا اور سلامتی پر حملہ آور ہونا اپنا استحقاق بنا لیا ہے۔
اب امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونز نے ہمیں یہ ڈکٹیشن دی ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی ختم کرنے کے لئے مزید اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے اس تناظر میں بے شک ملکی سلامتی کے تقاضوں اور قومی مفادات کی ترجمانی کرنے والا موقف اختیار کیا ہے مگر امریکی ڈرون حملے اور اس میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کے امریکی دعوے کے بارے میں وہ خود بھی گومگو کا شکار نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ اپنے محکمہ کی کارکردگی پر بھی انہوں نے کئی سوالات اٹھا دئیے ہیں۔ انہوں نے ایک جانب ڈرون حملے سے پاکستان کی سلامتی چیلنج ہونے پر امریکہ کے لتے لئے اور باور کرایا کہ اس حملے کے لئے امریکی منطق قابل قبول نہیں ہو سکتی تو دوسری جانب انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ امریکی ڈرون جہاز نے اس حملے کے لئے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ ایک دوسرے ملک سے میزائل کے ذریعے گاڑی کو نشانہ بنایا۔ اسی طرح اس حملے میں مارے جانے والے شخص ولی محمد کے بارے میں بھی انہوں نے ابہام پیدا کیا جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر متذکرہ شخص کی ولی محمد کے طور پر شناخت کرکے اس کی نعش اس کے بھانجے کے حوالے کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ طالبان نے بھی ملا اختر منصور کی ہلاکت کا ثبوت نئی قیادت کا اعلان کر کے دے دیا ہے۔ اگر امریکہ ولی محمد کو ملا اختر منصور قرار دے رہا ہے تو چودھری نثار علی خاں نے ڈرون حملے میں مرنے والے اس شخص کی ولی محمد کے طور پر تصدیق نہ کرکے امریکی دعوے کو ہی تقویت پہنچائی ہے جبکہ اس وقت اصل ضرورت ڈرون حملے کے حوالے سے امریکہ کو دبائو میں لانے کی ہے۔ لیکن اس کے برعکس چودھری نثار کی پریس کانفرنس سے یہ تاثر زائل نہیں ہوا کہ طالبان کی اعلیٰ قیادت پاکستان میں آزادی سے گھوم پھر رہی ہے۔ نہ ہی یہ شبہ ختم ہوا ہے کہ کوئٹہ شوریٰ واقعتاً پاکستان میں اپریٹ کر رہی ہے اور نہ ہی اس خبر کی تردید کی گئی ہے کہ پاکستان انٹل کی مدد سے ہی ملا اختر منصور پر ڈرون حملہ ممکن ہو پایا۔ اُسامہ بن لادن کے خلاف اس آپریشن سے ایک بار پھر پاکستان کی سبکی ہوئی ہے۔ وزیر داخلہ کو تو قومی مفادات سے متعلق امور پر اپنے بے باک ہونے کی معروفیت کو بروئے کار لانا چاہئے تھا۔ ان کے بقول وزیراعظم کی ملک واپسی پر امریکی ڈرون حملے کے حوالے سے پاکستان کے باضابطہ ردعمل کا اظہار کیا جائے گا تو اس سے زیادہ بچگانہ سوچ اور کیا ہو سکتی ہے۔ اگر وزیراعظم ملک میں موجود نہ ہوں اور کہیں سے ملک کی سلامتی چیلنج ہو جائے تو کیا ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لئے اقدامات اٹھانے کا معاملہ وزیراعظم کی واپسی تک موخر رکھا جائے گا۔ اول تو وزیراعظم کو خود ہی ایسے نازک موقع پر ملک میں موجود ہونا چاہئے اور اگر کسی بہت بڑی مجبوری کے باعث وہ فوری طور پر ملک واپس نہیں آ سکتے تو ان کی عدم موجودگی میں امور حکومت و مملکت کی انجام دہی رک تو نہیں سکتی۔ وزیراعظم اپنے گزشتہ دورہ لندن میں حکومتی امور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو سونپ گئے تھے تو اب بھی امور حکومت پر کسی قسم کا تعطل پیدا نہیں ہونے دینا چاہئے۔ وزیر داخلہ کی گزشتہ دنوں پریس کانفرنس سے تو یہی عندیہ ملا تھا کہ وہ وزیراعظم کی عدم موجودگی میں حکومتی امور کے ذمہ دار ہیں۔ اس لئے انہوں نے امریکی ڈرون حملوں کی پالیسی پر حکومت کی جانب سے پالیسی بیان دیا ہے تو اس کی جھلک اب ہماری قومی خارجہ پالیسی میں بھی نظر آنی چاہئے۔ بصورت دیگر محض زبانی جمع خرچ سے قومی آزادی و خود مختاری کے تقاضے نہیں نبھائے جا سکتے۔