فوج میں دہشتگردوں کے سہولت کاروں کا ہونا لمحہ فکریہ ہے!

26 مئی 2016

پی این ایس ذوالفقار حملہ کیس کے 5 ملزموں کو سزائے موت سنا دی گئی ۔ پاک بحریہ کے ان حاضر سروس پانچ افسران کو پی این ایس ذوالفقار پر حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا۔سب لیفٹیننٹ حماد احمد ، عرفان اللہ،ارسلان نذیر،محمد حماد اور ہاشم نذیر پر نیول جج ایڈ جوٹینٹ جنرل برانچ میں مقدمہ چلایا گیا۔
پاک فوج دہشتگردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب جاری رکھے ہوئے ہے۔ جس میں دہشتگردوں کا خاتمہ ہو رہا ہے۔ دہشتگرد گو راہ فرار بھی اختیار کر رہے ہیں مگر وہ اپنی موجودگی دہشتگردانہ کارروائیوں کے ذریعے ثابت کر رہے ہیں۔ فوجی و عسکری قیادت دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے کڑے احتساب کا عزم ظاہر کرتی رہتی ہے مگر سہولت کاروں کا جس طرح احتساب ہونا چاہیے وہ ہو نہیں رہا جبکہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور فنانسرز کے کڑے احتساب کے بغیر دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں۔ دہشتگردوں کے سہولت کار ہمارے سکیورٹی اداروں میں بھی موجود ہیں۔ ان میں سے کئی کو سزائے موت سنائی جا چکی اور اس پر عمل بھی ہو چکا ہے۔ اب نیوی کے پانچ افسروں کو دہشتگردوں کا سہولت کار ہونے پر سزائے موت سنائی گئی ہے۔ پاک فوج کے اندر دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی موجودگی عسکری قیادت کیلئے لمحہ فکریہ ہونا چاہیے تاہم فوج میں ایسے لوگوں کے خلاف سخت ایکشن لینا دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے فوج کی طرف سے کمٹمنٹ کا اظہار ضرور ہے۔ اس کے ساتھ ہی ضرورت اس امر کی ہے کہ افواج کی اپنی انٹیلی جنس اس قدر فعال ہو کہ فوج کی صفوں میں اول تو دہشتگردوں کے حامی داخل ہی نہ ہو سکیں اگر داخل ہو جائیں تو ان پر فوری طور پر ہاتھ ڈالا جا سکے۔