بھارت ایران بندرگاہ معاہدے پر امریکی سینٹرز کا عدم اطمینان

26 مئی 2016

امریکی سینیٹرز نے بھارت، ایران چابہار بندر گاہ معاہدہ پر سوالات اٹھاتے ہوئے اسے عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی قرار دے دیاہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیاں نرم کرنے کا اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایران نے عالمی برادری کی خواہش اور آئی اے ای اے کی ہدایت کے مطابق ایٹمی پروگرام محدود کر دیا تو پاکستان کیلئے ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدوں خصوصی طور پر گیس پائپ لائن معاہدے پر عمل کی امید پیدا ہو گئی تھی اس پر پیشرفت ہونے لگی تو امریکہ کی طرف سے پابندیوں کے بدستور اطلاق کا پیغام پہنچا دیا گیا۔ اس کے بعد سے پاک ایران معاہدے پھر کھٹائی میں پڑے ہوئے ہیں۔ دوسری طرف بھارت اور افغانستان کے ایران کے ساتھ چاہ بہار بندرگاہ کی تعمیر اور ٹرانزٹ معاہدے ہو رہے ہیں۔ پاک ایران معاہدوں پر آگ بگولہ ہونے والا امریکہ ایران بھارت معاہدوں پر خاموشی ہے۔ یہ امریکہ بہادر کا دہرا معیار اور بھارت جیسے پاکستان کے ابدی دشمن کی کھلی حمایت ہے۔ امریکی سینٹرز نے درست نشاندہی کی ہے۔ وہ امریکی کانگرس میں بھی اپنا موقف پیش کریں اور ایٹمی پھیلائو کے حوالے سے ایران پر عائد پابندیوں پر بلا امتیاز عملدرآمد یقینی بنوائیں پاکستان کو بھی بھارت ایران معاہدے پر امریکی خاموش پر شدید احتجاج کرنا چاہیے۔ ایران سے بھی رابطہ کر کے اس سے پاکستان کے دشمن سے قربت پر ناراضگی ظاہری کی جائے اور پوری کوشش کی جائے کہ بھارت کو ایران میں پذیرائی نہ مل سکے۔