حکومت کسان دوستی کا ثبوت دے

26 مئی 2016

پاکستان کسان اتحاد نے اپنے مطالبات کے حق میں پنجاب اسمبلی کے سامنے گزشتہ روز بھی احتجاج کیا اورکسانوں نے سڑک پر آلو اور ٹماٹر بکھیر دیئے۔ تاہم وزیراعلیٰ پنجاب سے رات گئے مذاکرات کامیاب ہو گئے جس کے بعدکسانوں نے دوسرا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
زراعت کو قومی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے مگر کسان کو اس کی محنت کا پھل نہیں ملتا۔ شوگر ملز کی طرف سے بروقت ادائیگیاں نہیں ہوتیں۔ چاول اور گندم کی ایکسپورٹ کی حکومتی پالیسی سامنے نہیں آئی۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 20 ارب کے کسان پیکج کا اعلان کیا اس سے دس ارب روپے تقسیم بھی ہو چکے ہیں مگر اس پیکج میں بے ضابطگیوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ کھاد، بیج، ادویات، بجلی اور ڈیزل کی قیمتیں عام کسان کی برداشت سے باہر ہیں۔ فصل کی برداشت پر کاشت کی قیمت بھی پوری نہیں ہوتی۔ اس پر ستم یہ کہ آلو اور ٹماٹر جیسی سبزیاں بھارت سے درآمد کی جاتی ہیں۔ تامل ناڈو میں جے للیتا نے وزارت علیہ کا حلف اٹھانے کے فوری بعد کسانوں کیلئے 100 یونٹ بجلی فری اور 6 ارب کے قرضے معاف کر کے کسان دوستی کا ثبوت دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کسان وفد کی بات غور سے سنی اور ان کے مسائل حل کرنے کا یقین دلایا۔ کیا ہی بہتر ہوتا کہ کسانوں کو سڑکوں پر آنا ہی نہ پڑتا۔ بہرحال اب وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نوٹس لیا ہے تو کسانوں کے مسائل حل ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔ حکومت اپنی پالیسیوں سے کسان دوست ہونے کا ثبوت دے۔